உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ایشیاء کے سب سے بڑے Tulip Garden، میں کھل اٹھے لاکھوں گل لالہ، 23 مارچ کو عام لوگوں کیلئے کھولا جائے گا باغ

     Tulip Garden: محکمہ فلوری کلچر کے اہلکاروں کاکہناہے کہ عام لوگ 23مارچ کو عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔74 ایکٹر اراضی پر محیط باغ گل میں 68 اقسام کے 15لاکھ گل لالہ ایک دلکش منظر پیش کررہے ہیں۔

    Tulip Garden: محکمہ فلوری کلچر کے اہلکاروں کاکہناہے کہ عام لوگ 23مارچ کو عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔74 ایکٹر اراضی پر محیط باغ گل میں 68 اقسام کے 15لاکھ گل لالہ ایک دلکش منظر پیش کررہے ہیں۔

    Tulip Garden: محکمہ فلوری کلچر کے اہلکاروں کاکہناہے کہ عام لوگ 23مارچ کو عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔74 ایکٹر اراضی پر محیط باغ گل میں 68 اقسام کے 15لاکھ گل لالہ ایک دلکش منظر پیش کررہے ہیں۔

    • Share this:
    سرینگر شہر کے مضافات میں زبرون پھاڑی سلسلے کے دامن میں واقع باغ گل لالہ (Tulip Garden) ان دنوں دلکش مناظر پیش کررہا ہے۔ ٹیولپ گارڈن Tulip Garden میں مختلف رنگوں کے گل لالہ باغ کے طبقوں میں بنائی گئی کیاریوں میں کچھ اس طرح سے کھل اٹھے ہیں مانو،باغ میں قدرت نے ایک رنگارنگ قالین بچھا دی ہو۔باغ میں کھلے رنگ برنگے ٹیولپ اور زبرون پہاڑی سلسلے کی قدرتی خوبصورتی عروج پر ہے جو ہر شخص کو اپنی طرف متوجہ کرسکتی ہے۔وادی کشمیر میں موسم بہار کی آمد کے ساتھ ہی ماضی کی طرح رواں برس بھی محکمہ فلوری کلچر نے ٹیولپ گارڈن گل لالہ اگانے کا عمل شروع کیا اور آج یہ باغ پورے جوبھن پر ہے۔

    محکمہ فلوری کلچر کے اہلکاروں کاکہناہے کہ عام لوگ 23مارچ کو عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔74 ایکٹر اراضی پر محیط باغ گل میں 68 اقسام کے 15لاکھ گل لالہ ایک دلکش منظر پیش کررہے ہیں۔ محکمہ کے اہلکاروں کے مطابق رواں برس دن کے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے باغ میں اس سال لگ بھگ ایک ہفتہ قبل ہی گل لالہ کے پھول کھل گئے۔



    باغ کے انچارج ڈاکٹر صوفی انعام الرحمن نے نیوز18اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا،" جیسا کہ آپ کو معلوم ہےکہ گزشتہ ہفتے کشمیر وادی میں دن کا درجہ حرارت معمول سے دس سے بارہ ڈگری سیلسیس سے زیادہ ریکارڈ کیاگیا۔ جس کے باعث باغ میں لگ بھگ ایک ہفتہ قبل ہی پھول کھل اٹھے تاہم گزشتہ دو روز سے موسم میں ایک بار پھر تبدیلی آچکی ہے اور دن کے درجہ حرارت میں کمی دیکھنے کو ملی ہے جس سے ایسا لگتا ہے کہ باغ گل لالہ میں کھلنے والے ٹیولپ زیادہ وقت تک کھلے رہیں گے اور لوگ اس باغ کے حسین مناظر کا لطف اٹھا پائیں گے" ڈاکٹر صوفی انعام الرحمن نے کہاکہ گزشتہ برس دولاکھ پچیس ہزار سے زائد افراد نے باغ گل لالہ کی سیر کی تاہم اس بار امید ہے کہ لوگ بھاری تعداد میں باغ کا رخ کریں گے۔



    انہوں نے کہا،" گزشتہ برس باغ گل لالہ 25مارچ کو عوام کے لیے کھول دیا گیا تھا تاہم کوویڈ وباء کے پیش نظر لاک ڈاؤن لگائے جانے کے باعث باغ کو 25 اپریل کو ہی عام لوگوں کے لیے بند کرنا پڑا تھا۔تاہم صرف ایک ماہ کے دوران دولاکھ پچیس ہزار افراد نے باغ گل لالہ کی سیر کی جن میں جموں وکشمیر سے باہر آنے والے سیاحوں کی تعداد لگ بھگ 77 ہزار تھی جبکہ باقی ماندہ افراد کا تعلق جموں وکشمیر کے مختلف حصوں سے تھا۔رواں برس امید ہے کہ بھاری تعداد میں مقامی اور ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے لاکھوں سیاح باغ گل لالہ کا رخ کریں گے"۔

    انہوں نے کہا اگر چہ رمضان کا متبرک مہینہ شروع ہونے کے ساتھ ہی باغ گل لالہ کی سیر کرنے والے مقامی لوگوں کی تعداد میں کمی واقع ہوگی تاہم محکمہ پر امید ہے کہ ان ایام کے دوران بھی غیر ریاستی سیاح باغ گل لالہ کی سیر کریں گے۔واضح رہے کہ سرینگر کے مضافات میں ایشیاء کا سب سے بڑا ٹیولپ گارڈن دوہزار سات میں قائم کیاگیا ہےاگرچہ آغاز میں اس باغ میں کم تعداد میں گل لالہ اگائے گئے تھے تاہم گزشتہ چودہ برسوں کے دوران باغ میں اگائے جانے والے گل لالہ کے پھولوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوتا رہاہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ٹیولپ گارڈن قائم کئے جانے کے بعد کشمیر میں سیاحتی سیزن قریب دو ماہ قبل ہی شروع ہوچکا ہے جس سے سیاحتی صنعت سے وابستہ افراد کو کافی فائدہ حاصل ہواہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: