உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Modi@8: کشمیر میں Article-370 کو ہٹایا گیا، جانئے پی ایم مودی کے بڑے فیصلے کیسے بدلا ہندستان!

    وزیر اعظم مودی

    وزیر اعظم مودی

    Modi@8: اس حکومت کی بڑی کامیابیوں میں سے ایک کشمیر سے آرٹیکل 370 کا خاتمہ ہے۔ یہ کبھی ناممکن اور تصور سے باہر تھا لیکن مودی حکومت نے اسے پورا کر دکھایا ہے۔

    • Share this:
      Modi@8: ملک میں مودی حکومت کے 8 سال مکمل ہونے جارہے ہیں۔ اس حکومت کی بڑی کامیابیوں میں سے ایک کشمیر سے آرٹیکل 370 کا خاتمہ ہے۔ یہ کبھی ناممکن اور تصور سے باہر تھا لیکن مودی حکومت نے اسے پورا کر دکھایا ہے۔ دراصل ہندستان میں انضمام کے بعد جموں و کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ جموں و کشمیر کے سیاسی تعلقات کے بارے میں اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو سے بات چیت کی تھی۔ اس میٹنگ کے بعد آئین کے اندر آرٹیکل 370 کو جوڑ دیا گیا۔

      آرٹیکل 370 جموں و کشمیر کو خصوصی حقوق دیتا ہے۔ اس آرٹیکل کے مطابق بھارتی پارلیمنٹ جموں و کشمیر کے معاملے میں صرف تین شعبوں یعنی دفاع، خارجہ امور اور مواصلات کے لیے قانون بنا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ کسی بھی قانون کو نافذ کرنے کے لیے مرکزی حکومت کو ریاستی حکومت کی منظوری کی ضرورت ہوتی ہے۔ 1956 میں جموں و کشمیر کا الگ آئین بنایا گیا تھا۔

      Modi@8: مودی حکومت نے گاؤں کے لوگوں کو دیں یہ آٹھ بڑی سوغات

      جموں و کشمیر میں حالات کو معمول پر لانے کی کوششیں شروع ہو گئیں۔
      مرکز میں آنے کے بعد سے ہی مودی حکومت نے جموں و کشمیر میں حالات کو معمول پر لانے کی کوششیں شروع کر دی تھیں۔ یاد رہے کہ لوک سبھا انتخابات کے صرف چھ ماہ بعد ریاست میں سیاسی جڑت کو ختم کرنے کے لیے اسمبلی انتخابات کرائے گئے تھے۔ جب 28 دسمبر 2014 کو اسمبلی انتخابات کے نتائج کا اعلان کیا گیا تو پی ڈی پی (28 سیٹیں) واحد سب سے بڑی پارٹی اور بی جے پی (25) دوسری بڑی پارٹی کے طور پر ابھری۔ دیگر پارٹیاں نیشنل کانفرنس (15) اور کانگریس (12) بہت پیچھے تھیں۔ حکومت سازی کے حوالے سے وضاحت نہ ہونے کی وجہ سے گورنر راج لگانا پڑا۔ پھر ریاست کی خصوصی صورتحال کی وجہ سے وہاں صرف گورنر راج کا نظام تھا، صدر کا نہیں۔ اس دوران اتحاد کی بات چیت جاری رہی اور یکم مارچ 2015 کو پی ڈی پی-بی جے پی حکومت قائم ہوئی۔

      مزید پڑھئے: PTI Imran Khan Azadi March کے 10 بڑے اپڈیٹ: حامیوں نے میٹرو اسٹیشن پھونکا، جلاڈالی گاڑیاں

      پاکستان سے متصل سرحدی علاقوں میں بھی ہوئی بھاری ووٹنگ
      جمہوری عمل کے تئیں مودی حکومت کے عزم کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے فروری 2018 میں محبوبہ حکومت میں حصہ لیتے ہوئے پنچایتی انتخابات کرائے تھے۔ بعد میں نومبر-دسمبر 2020 میں صدر راج کے دوران یہ انتخابات نئے نظام کے تحت کرائے گئے۔ نریندر مودی حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر پنچایتی راج ایکٹ 1989 میں ترمیم کے لیے اپنی رضامندی دینے کے بعد، ریاست میں تین سطحی گاؤں-بلاک اور ضلعی سطح کے پنچایتی انتخابات کے لیے راستہ صاف ہو گیا تھا۔ اس انتظام کے تحت ہونے والے انتخابات کی قابل ذکر بات یہ تھی کہ سوچیت گڑھ اور آر ایس پورہ جیسی سیٹوں پر، پاکستان کے ساتھ سرحدی علاقوں میں بالترتیب 71.21 اور 65.85 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ ویسے، سب سے کم ٹرن آؤٹ بھی دہشت گردی سے بہت زیادہ متاثرہ جنوبی کشمیر کے شوپیان ضلع کے ایک علاقے میں 1.9 فیصد رہا۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: