உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں کشمیر میں منشیات کا بازار سرگرم، جموں خطے کے کئی اضلاع سے بھاری تعداد میں Drugs برآمد

    Drugs News: جموں، سانبہ، کٹھوعہ، ادھم پور اضلاع منشیات کے استعمال کا گڑھ بن گئے ہیں۔ جموں و کشمیر میں 26000 کلو گرام سے زیادہ منشیات، 4.58 لاکھ نشہ آور اشیاء ضبط کی گئی ہیں۔

    • Share this:
    جموں خطے کے جموں، سانبہ، کٹھوعہ اور ادھم پور اضلاع اور وادی کشمیر کے اننت ناگ اور سری نگر منشیات  Drugs کے استعمال کا گڑھ بن چکے ہیں جبکہ جموں و کشمیر کے مختلف ونگز کے ذریعہ 26,000 کلو گرام سے زیادہ منشیات اور مختلف اقسام کے 4.58 لاکھ سے زیادہ نشہ اور اشیاء برآمد کی گئیں۔ سال 2020 کے دوران پولیس تشویشناک صورتحال کے پیش نظر، نارکوٹکس ڈرگس اینڈ سائیکو ٹراپک سبسٹینس ایکٹ (این ڈی پی ایس اے) کے تحت درج مقدمات کو نمٹانے کے لیے خصوصی عدالتوں کے قیام کی تجویز کو حکومت کے تمام متعلقہ محکموں کی طرف سے جلد از جلد کلیئر کرنے کی ضرورت ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، سال 2020 میں مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں نارکوٹکس ڈرگس اینڈ سائیکو ٹراپک سبسٹنس ایکٹ کے تحت کل 1222 کیس درج کیے گئے، جن میں سے جموں زون میں 573 اور جموں کے کشمیر زون میں 634 کیس درج کیے گئے۔ اسی طرح جنرل ریلوے پولیس اور کرائم برانچ کی جانب سے کچھ مقدمات درج کیے گئے۔

    جموں خطہ میں درج کئے گئے 573 مقدمات میں سے سب سے زیادہ 197 جموں ضلع میں درج کیے گئے، اس کے بعد ادھم پور میں 89 اور کٹھوعہ اور رامبن اضلاع میں ہر ایک میں 61 کیس درج ہوئے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اضلاع جموں خطہ میں منشیات کا گڑھ بن چکے ہیں۔ جہاں تک دوسرے اضلاع کا تعلق ہے، سانبہ میں 43، راجوری میں 32، پونچھ میں 24، ریاسی میں 57، ڈوڈہ میں 7 اور کشتواڑ میں 2 کیس درج کیے گئے۔ اسی طرح، کشمیر کے علاقے میں کل 634 کیسوں میں سے سب سے زیادہ 100 اننت ناگ ضلع میں درج کیے گئے، اس کے بعد ضلع سری نگر میں 92 اور اونتی پورہ میں 56 کیسز درج کیے گئے کیونکہ اننت ناگ اور سری نگر منشیات کی تجارت میں ملوث افراد کی سرگرمیوں کا گڑھ بن چکے ہیں۔ کلگام میں کل 44، پلوامہ اور شوپیاں میں 37، بڈگام میں 52، گاندربل میں 25، بارہمولہ میں 55، بانڈی پورہ میں 23، کپواڑہ میں 44، ہندواڑہ میں 31 اور سوپور میں 38 کیس درج کیے گئے۔

    اعداد و شمار کے مطابق، جموں و کشمیر پولیس نے سال 2020 کے دوران مرکز کے زیر انتظام علاقے کے تمام 20 اضلاع میں 26,000 کلو گرام سے زیادہ منشیات بھی ضبط کی ہیں۔ قبضے میں 633.017 کلو گرام چرس، 1479.15 کلو گرام پھوکی، 22361.22 کلو گرام poppy strawپوست، 30.76 کلو گرام براؤن شوگر، 128.57 کلو گرام ہیروئن، 1.53کلو گرام افیون، 1407.44 کلو گرام بھنگ، 21.37 کلو گرام گانجا۔ سرکاری اعداد و شمار لوگوں میں خاص طور پر نوجوانوں میں نشہ آور اشیاء کے بڑھتے ہوئے استعمال کو مزید ظاہر کرتے ہیں جو زیادہ تر جموں خطہ کے جموں، سانبہ، کٹھوعہ اور ادھم پور اور وادی کشمیر کے سری نگر اور بڈگام میں ہوتے ہیں۔

    سال 2020 کے دوران یونین ٹیریٹری کے تمام اضلاع سے پولس نے کل 4.58 لاکھ نشہ اور اشیاء جن میں کیپسول، گولیاں اور نشے کی بوتلیں شامل ہیں ضبط کیں۔ ضلع کٹھوعہ میں 45020 نشہ اور اشیاء سانبہ اور 37522 جموں ضلع میں برآمد ہوئیں۔ جہاں تک جموں خطہ کے دیگر اضلاع کا تعلق ہے، راجوری میں 2500، پونچھ میں 430، ادھم پور میں 105، ریاسی میں 13925، رامبن میں 3536 اور کشتواڑ میں 249 نشہ اور اشیاء ضبط کی گئیں۔

    علامتی تصویر۔(Shutterstock)۔
    رہائشی علاقوں میں منشیات جیسے غیر قانونی کاروبار کے پنپنے کے پیچھے پولیس کی لاپرواہی یا بدعنوانی سے انکار نہیں کیا جا سکتا یہی وجہ ہے کہ ایسے غیر سماجی افراد کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر مقامی لوگوں کو احتجاج کے لیے مجبور ہونا پڑتا ہے۔ علامتی تصویر۔(Shutterstock)۔


    وادی کشمیر میں سرینگر میں سب سے زیادہ 40507 نشہ اور اشیاء پکڑی گئیں، اس کے بعد بڈگام میں 18241 اور شوپیاں میں 4809 نشہ آور اشیاء پکڑی گئیں۔ دیگر اضلاع میں اننت ناگ میں 4681، کولگام میں 222، پلوامہ میں 282، اونتی پورہ میں 471، گاندربل میں 1450، بارہمولہ میں 1686، کپواڑہ میں 55، سوپور میں 3080 اور بانڈی پورہ میں 3080 نشہ آور اشیاء ضبط کی گئیں۔ تشویشناک صورتحال کے پیش نظر، نارکوٹکس ڈرگس اینڈ سائیکو ٹراپک سبسٹینس ایکٹ (این ڈی پی ایس اے) کے تحت درج مقدمات کو نمٹانے کے لیے خصوصی عدالتوں کے قیام کی تجویز کو حکومت کے تمام متعلقہ محکموں کو جلد از جلد کلیئر کرنے کی ضرورت ہے، ذرائع نے بتایا، انہوں نے مزید کہا کہ "پیشہ ورانہ تفتیش کی بنیاد پر سختی سے مقدمات کا جلد از جلد نمٹانا صحت اور نوجوانوں کے مستقبل کی قیمت پر ترقی کی منازل طے کرنے والوں کی حوصلہ شکنی میں بہت آگے جا سکتا ہے"۔

     

    "صرف یہی نہیں، سول سوسائٹی کو بڑی تعداد میں آگے آنے اور بیداری کے پروگراموں کا انعقاد شروع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ زیادہ سے زیادہ نوجوان منشیات کے کارٹل کے عزائم کا شکار نہ ہوں"، انہوں نے زور دیا۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: