உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حد بندی کے بعد کشمیر میں جموں ڈویژن سے زیادہ ووٹر، ریاست میں 76 لاکھ ووٹر

    حد بندی کے بعد کشمیر میں جموں ڈویژن سے زیادہ ووٹر، ریاست میں 76 لاکھ ووٹر( علامتی تصویر)

    حد بندی کے بعد کشمیر میں جموں ڈویژن سے زیادہ ووٹر، ریاست میں 76 لاکھ ووٹر( علامتی تصویر)

    Jammu Kashmir: بتادیں کہ حد بندی ہونے کے بعد مرکز کے زیر انتظام ریاست جموں کشمیر میں سیٹوں کی تعداد 83 سے بڑھ کر 90 ہوگئی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu | Srinagar
    • Share this:
      Jammu Kashmir: جموں-کشمیر میں حدبندی کے بعد نئی ووٹرلسٹ بنانے کا کام شروع ہوگیا ہے۔ تین سال بعد 18 سال کی عمر پورا کرنے والوں کو ووٹر بننے کا موقع ملا ہے۔ فی الحال مسودہ فہرست (ڈرافٹ رول) کی اشاعت کردی گئی ہے۔ 2019 کی ووٹر لسٹ کے مطابق 90 سیٹوں میں ووٹروں کی تعداد لگ بھگ 76 لاکھ ہے۔

      ان میں 39.45 لاکھ مرد اور 36.38 لاکھ خواتین ووٹر ہیں۔ جموں ضلع میں سب سے زیادہ 10.43 لاکھ اور سب سے کم کشتواڑ میں 1.55 لاکھ ووٹر ہیں۔ مسودہ فہرست میں نئی سیٹوں میں کتنے ووٹر ہوں گے اس کی بھی تفصیل ہے۔ کشمیر میں جموں ڈویژن سے زیادہ ووٹر ہیں۔

      الیکشن آفس سے وابستہ اعلیٰ ذرائع نے بتایا کہ 613 پولنگ اسٹیشنز میں اضافہ ہوا ہے۔ اب کل پولنگ اسٹیشن 11370 ہیں۔ 2019 کی ووٹر لسٹ کے مطابق کشمیر ڈویژن میں 39,80,506 ووٹر اور جموں ڈویژن میں 36,02,868 ووٹر ہیں۔

      یعنی کشمیر ڈویژن میں 377638 ووٹر جموں ڈویژن سے زیادہ ہے۔ نئی فہرست میں اس بات کا خاص خیال رکھا جارہا ہے کہ کوئی حصہ چھوٹنے نہ پائے۔ اس کے لئے سیاسی پارٹیوں کو بھی محتاط اور سرگرم رہنے کو کہا گیا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      وزیراعظم کے ذریعہ متعارف کرائی گئی اس اسکیم سے جموں وکشمیر کے لوگوں کو بڑے پیمانے پر فائدہ

      جموں وکشمیر: غلام نبی آزاد کا دفعہ 370 کو لے کر نیا بیان، لوگوں کو کبھی گمراہ نہیں کروں گا

      یہ بھی پڑھیں:
      فوج میں مرد امیدواروں کیلئے اگنی ویر بھرتی ریلی بارہمولہ کے حیدر بیگ پٹن میں شروع

      فوج میں مرد امیدواروں کیلئے اگنی ویر بھرتی ریلی بارہمولہ کے حیدر بیگ پٹن میں شروع

      بتادیں کہ حد بندی ہونے کے بعد مرکز کے زیر انتظام ریاست جموں کشمیر میں سیٹوں کی تعداد 83 سے بڑھ کر 90 ہوگئی ہے۔ نئے ووٹروں کو جوڑنے کا کام 24 اکتوبر تک پورا کرلیا جائے گا اور 25 اکتوبر کو دعوے اور اعتراضات کے حل کے بعد حتمی فہرست کی اشاعت کی جائے گی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: