உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سرینگر میں شوگر کے سب سے زیادہ مریض، لوگ صحت مند طرز زندگی نہیں اپنا رہے ہیں

    Youtube Video

    ڈاکٹروں کے مطابق شوگر تمام بیماریوں کی جڑہے اور زیادہ تر دل اور دیگر اعضائے رئسیہ کو نقصان پہنچاتی ہے۔ شوگر کی وجہ سے ہی اچانک دل کا دورہ بھی پڑتا ہے۔ وادی میں موسم سرما کے دنوں میں نوجوانوں کو بھی دل کا دورہ پڑنے کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Srinagar, India
    • Share this:
      سرینگر میں شوگر کے مریضوں کی بڑھتی تعدادباعث تشویش بنی ہوئی ہے ۔ لوگ زیادہ کیلوری والے جنک فوڈ شوق سے کھاتے ہیں ۔۔ اسی لیے شوگر کے امکانات کافی بڑھ جاتے ہیں۔ سرینگر شہر شوگر کے مریضوں کی راجدھانی بنتا جارہا ہے۔یہاں تک کہ نوجوان بھی ذیابیطس کا شکار پائے جارہے ہیں۔ گاڑیوں سے آسانی سے کہیں پر آنے جانے کی سہولیات مل جانے اور جسمانی کسرت میں کمی کے باعث یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ سگریٹ نوشی اور لوگوں میں صحیح جانکاری نہ ہونے سے بھی یہ صورتحال دیکھی جارہی ہے۔

      ڈاکٹروں کے مطابق شوگر تمام بیماریوں کی جڑہے اور زیادہ تر دل اور دیگر اعضائے رئسیہ کو نقصان پہنچاتی ہے۔ شوگر کی وجہ سے ہی اچانک دل کا دورہ بھی پڑتا ہے۔ وادی میں موسم سرما کے دنوں میں نوجوانوں کو بھی دل کا دورہ پڑنے کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ اسی لیے بیماری کی علامات ظاہر ہوتے ہی ڈاکٹروں سے رجوع کرنے میں ہی عافیت ہوتی ہے لیکن اس بیماری میں مبتلا زیادہ تر لوگ شروع میں بیماری کو سنجیدگی سے نہیں لیتے اور بعد میں مرض بڑھ جانے پر بہت دیر ہوچکی ہو تی ہے۔

      کٹھوعہ گینگ ریپ کے ملزم کو سپریم کورٹ نے نہیں مانا نابالغ، اب بالغ کے طور پر چلے گا مقدمہ

      یو ٹی کے شہروں اور قصبوں کی مجموعی ترقی کو یقینی بنایا جائے: ڈاکٹر ارون کمار مہتا


      شیر۔کشمیر۔انسٹی۔ٹیوٹ۔آف۔میڈیکل۔سائنسز صورہ سرینگر کے ایک معروف انڈو کرائنو لوجسٹ ڈاکٹر شارق مسعودی نے نیوز ایٹین کو بتایا کہ ذیابیطس کی تشخیص ہونے کے بعد مریضوں کو چاہیے کہ وہ خود کی اچھی دیکھ بھال کریں۔

      ذیابیطس کے تقریباً نوے فیصد کیسز کو مناسب جانکاری حاصل کرکے اور بروقت علاج کراتے ہوئے روکا جا سکتا ہے۔ اس بیماری سے چھٹکارا پانے کے لیے بروقت مناسب علاج کیا جانا چاہئے۔

       
      Published by:Sana Naeem
      First published: