உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حد بندی کمیشن کی ڈرافٹ تجاویز پرجموں وکشمیر کی زیادہ تر سیاسی جماعتوں نے ظاہر کیا اعتراض

    حد بندی کمیشن کی حتمی رپورٹ ان اعتراضات سے کس حد تک ہوگی متاثر: جانیے سیاسی ماہرین کی رائے۔

    حد بندی کمیشن کی حتمی رپورٹ ان اعتراضات سے کس حد تک ہوگی متاثر: جانیے سیاسی ماہرین کی رائے۔

    جموں وکشمیر کے سرکردہ سیاسی مبصر محمد سعید ملک نے نیوز18اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا ،" ایسا ممکن ہے کہ حد بندی کمیشن پیش کی گئی ڈرافٹ تجاویز پر سیاسی جماعتوں کے اعترضات کے پس منظر میں اپنی حتمی رپورٹ میں معمولی تبدیلیاں لائے تاہم بڑی تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔

    • Share this:
    jammu and kashmir: جموں وکشمیر میں اسمبلی اور پارلیمانی نشستوں کی از سر نو حد بندی  delimitation commission سے متعلق ڈرافٹ تجاویز پر جموں وکشمیر کی زیادہ تر سیاسی جماعتوں نے اعتراض جتایا ہے۔ لگ بھگ تمام غیر بی جے پی سیاسی جماعتوں نے ان تجاویز کو لوگوں کی خواہشات کے برعکس قرار دیا۔ جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس نے حد بندی کمیشن کی ڈرافٹ تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ یہ سفارشات عوام کی امیدوں کے خلاف ہیں۔ پارٹی کے تینوں ارکان پارلیمنٹ، جو اس کمیشن کے معاون ممبران بھی ہیں نے مشترکہ طور پر کمیشن کو لکھا کہ وہ ان کی جانب سے پیش کئے گئے اعتراضات کو ملحوظ رکھ کر اپنی تجاویز میں ترمیم کرے۔ پی ڈی پی نے بھی ان تجاویز کو عوامی مفادات کے منافی قرار دیا۔ پارٹی کے سینئر نائب صدر عبدالحمید چودھری کاکہناہےکہ حد بندی کمیشن نے عام لوگوں کی آرا جاننے کے بغیر ہی جموں وکشمیر میں اسمبلی اور پارلیمانی نشستوں کی از سر نو حد بندی سے متعلق اپنی ڈرافٹ تجاویز پیش کی ہیں۔ نیوز18اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے حمید چودھری نے الزام لگایا کہ کمیشن کی ڈرافٹ تجاویز سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کمیشن کی جانب سے ایک مخصوص سیاسی جماعت کوفائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔

    کانگریس نے بھی ان تجاویز کو رد کردیا ہے ۔ پارٹی کے جموں وکشمیر کے صدر جی اے میر کاکہناہے،"حد بندی کمیشن کی ڈرافٹ تجاویز جو مختلف ذرائع سے سامنے آئی ہیں سے ایسا لگتا ہے کہ یہ تجاویز حد بندی کمیشن یا اس سے وابستہ اہلکاروں نے ترتیب نہیں دی ہیں۔اگر اس معاملے پر کمیشن کی جانب سے دوبارہ غورو خوض کرکے صحیح اقدامات نہیں اٹھائے گئے تویہ جموں وکشمیر کے عوام کے ساتھ زیادتی ہوگی" جموں وکشمیر اپنی پارٹی نے بھی حد بندی کمیشن کی ڈرافٹ تجاویز پر برہمی کااظہار کیاہے۔پارٹی کے صدر سید الطاف بخآری نے الزام لگایا کہ حد بندی کمیشن کی ان تجاویز سے ایسا لگتا ہےکہ کمیشن جموں وکشمیر کی عوام کو بااختیار بنانے کے بجائے ان کے سیاسی حقوق کم کرنے پر آمادہ ہے۔

    نیوز18اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے الطاف بخآری نے کمیشن کے معاون ممبران یعنی جموں وکشمیر کے پانچ ارکان لوک سبھا کے رول کو بھی تنقید کانشانہ بنایا۔ الطاف بخآری نے کہا،" مجھے اپنے پانچ ارکان پارلیمنٹ، جو لوک سبھا میں جموں وکشمیر کے عوام کی نمائندگی کرتے ہیں کے رول پر افسوس ہے۔یہ سب جانتے ہیں کہ ان میں سے تین کاتعلق جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس جبکہ دیگر دو کا تعلق بی جے پی سے ہے۔میں ان سے کہتاہوں کہ وہ مستعفی ہوجائیں کیونکہ انہوں نے جموں وکشمیر کے عوام کی خواہشات کے مطابق کمیشن کے سامنے اپنی آواز بلند نہیں کی" الطاف بخاری نے تاہم امید ظاہر کی کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ جو حالیہ دنوں کے دوران مختلف ریاستوں میں ہورہے انتخابات میں مصروف تھے۔ وقت نکال کر اولین فرصت میں اس پورے معاملے کی طرف توجہ دیں گے تاکہ جموں وکشمیر میں بقول ان کے ہونے والی سیاسی زیادتیوں سے عام لوگوں کو بچایا جاسکے۔

    وہیں بی جے پی نے حد بندی کمیشن کی ڈرافٹ تجاویز کو منصفانہ قرار دیا ہے۔ بی جے پی کے لیڈر دیویندر سنگھ رانا نے نیوز18اردو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ،" حد بندی کمیشن نے منصفانہ اور غیر جانبدارانہ طور پر جموں وکشمیر میں اسمبلی اور لوک سبھا حلقوں کی از سرنو حد بندی کو انجام دینے کے لیے لوگوں کی آرا کو ملحوظ رکھ کر ایک ڈرافٹ بنایا ہے تاکہ تمام طبقوں کے لوگوں کو برابری کا حق ملے تاہم چند سیاسی پارٹیوں کو اس سے تکلیف ہورہی ہے کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ کہیں ان کی اجارہ داری ختم نہ ہو جائے اور یہ مخالفت اسی ڈر کا نتیجہ ہے لیکن جمہوریت کا تقاضا ہے کہ جمہوری نظام میں یقین رکھنے والے ہر ایک فرد کو برابری کا حق ملے اور وہ جمہوری عمل میں شریک ہوسکے" انہوں نے کہاکہ سیاسی جماعتوں نے ان تجاویز پراعتراضات جتائے ہیں، کمیشن ان پر غور وخوض کرےگا اور آئینی حدود کے اندر حتمی فیصلہ لےگا۔

    ادھر سیاسی مبصرین کاکہناہے چونکہ جموں وکشمیر کی زیادہ تر سیاسی جماعتوں نے ڈرافٹ تجاویز پراعتراض جتایا ہے عین ممکن ہے کہ حد بندی کمیشن ان جماعتوں کی جانب سے ابھارے گئے چند نکات پر غور کرے تاہم حتمی رپورٹ میں کسی بڑی تبدیلی کی امید نہیں کی جانی چاہیے۔ جموں وکشمیر کے سرکردہ سیاسی مبصر محمد سعید ملک نے نیوز18اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا ،" ایسا ممکن ہے کہ حد بندی کمیشن پیش کی گئی ڈرافٹ تجاویز پر سیاسی جماعتوں کے اعترضات کے پس منظر میں اپنی حتمی رپورٹ میں معمولی تبدیلیاں لائے تاہم بڑی تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔ کیونکہ کمیشن گزشتہ دو برسوں سے اس پوری مشق میں مصروف ہیں جس دوران حد بندی سے متعلق جڑے مختلف پہلوؤں پر سنجیدگی سے غور و خوض کرنے کے بعد ہی یہ سفارشات پیش کی گئی ہیں"اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا کمیشن اپنی حتمی رپورٹ میں کسی طرح کا بدلاؤ لائے گا۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: