ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

سری نگر: کووڈ-19 کی تاریکی میں منیر عالم نے عید گاہ میں جلایا علم کا چراغ

سری نگر کے منیر عالم صبح سویرے مرکزی عیدگاہ پہنچ جاتے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف اپنےکوچنگ مرکز کےلئے عیدگاہ میں اوپن ائیر کلاسز شروع کیں، بلکہ سب کو یہاں مفت پڑھانے کا بیڑا بھی اٹھایا، جس سے طلبا کے لئے امیدیں روشن ہوگئیں۔

  • Share this:
سری نگر: کووڈ-19 کی تاریکی میں منیر عالم نے عید گاہ میں جلایا علم کا چراغ
سری نگر: کووڈ-19 کی تاریکی میں منیر عالم نے عید گاہ میں جلایا علم کا چراغ

سری نگر: صبح کے 5 بجے جب آج کل اکثر لوگ بستر پر کروٹیں بدلنا بھی گوارہ نہیں کرتے۔ زینہ کدل سری نگر کے منیر عالم مرکزی عیدگاہ پہنچ جاتے ہیں۔ عیدگاہ کے وسیع میدان میں سورج کی پہلی کرنوں کے ساتھ ہی علم کا نور حاصل کرنے کے لئے سری نگر کے کئی علاقوں سے طلبا یہاں پہنچ جاتے ہیں۔ کووڈ-19 کے تمام قواعد وضوابط کا خیال رکھتے ہوئے منیر عالم گیارہویں اور بارہویں جماعت کے بچوں کو ریاضی پڑھاتے ہیں۔ پڑھانا منیر عالم کا شوق ہے اور پچھلے کئی سال سے بچوں کو ایک کوچنگ مرکز میں تعلیم دیتے تھے، لیکن کووڈ -19 کے دوران جب تمام تعلیمی ادارے بند ہوگئے اور کمزور انٹرنیٹ کے چلتے طلبا پریشان ہوگئے تو ان سے طلبا کی پریشانی دیکھی نہ گئی۔ کہتے ہیں جہاں چاہ وہاں راہ۔


منیر عالم نے نہ صرف اپنے کوچنگ مرکز کےلئے عیدگاہ میں اوپن ائیر کلاسز شروع کیں، بلکہ سب کو یہاں مفت پڑھانے کا بیڑا اٹھایا۔ وہ کہتے ہیں کہ کووڈ-19 کے دوران لوگوں نے ہر چیزکا خیال رکھا، لیکن تعلیم پرکسی کا دھیان نہیں رہا۔ کشمیر کے طلبا پچھلے سال بھی دوفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد اسکولی تعلیم سے محروم  رہے اور اس بار تو انھیں ایک مہینہ بھی اسکول ٹھیک سے جانے کا موقع نہیں ملا۔ منیر عالم کے مطابق اساتذہ کو پبلک پارکس، عیدگاہوں کو ایسے ہی اسکولوں میں تبدیل کرنا چاہئے تاکہ کووڈ-19 ضوابط کا لحاظ بھی رکھا جائے اور تعلیم بھی جاری رہے۔ یہاں پر آنے والے طلبا کی تشنگی اور دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہےکہ کئی طلبا اور طالبات دور دور سے صبح پانچ بجے یہاں پہنچ جاتے ہیں۔


منیر عالم نے نہ صرف اپنے کوچنگ مرکز کےلئے عیدگاہ میں اوپن ائیر کلاسز شروع کیں، بلکہ سب کو یہاں مفت پڑھانے کا بیڑا اٹھایا۔
منیر عالم نے نہ صرف اپنے کوچنگ مرکز کےلئے عیدگاہ میں اوپن ائیر کلاسز شروع کیں، بلکہ سب کو یہاں مفت پڑھانے کا بیڑا اٹھایا۔


نیوز 18 اردو سے بات کرتے ہوئے ایک طالبہ عارفہ نے بتایا کہ آن لائن وہ کچھ نہیں پڑھ پاتی تھیں کیونکہ سگنل اتنا کمزور رہتا کہ ایک کلاس کے دوران کئی دفعہ رابطہ منقطع ہوجاتا، لیکن یہاں تو ایک اسکول جیسا ماحول ہے اور کوئی بھی سوال ذہن میں ابھرے تو اس کا جواب مل جاتا ہے۔ کشمیر میں آئے دن کی ہڑتال، کرفیو اور امن وقانون کے دیگر مسائل کی وجہ سے بچوں کی تعلیم کافی متاثر رہتی ہے۔ کورونا وائرس کے دوران جہاں ملک میں آن لائن تعلیم کا سلسلہ چل پڑا، لیکن یہاں پر 4-جی انٹر نیٹ پر پابندی کے سبب طلبا اس سے کچھ خاص فائدہ حاصل نہیں کر پائے۔ ایسے حالات میں منیر عالم جیسے اساتذہ علم کر چراغ روشن کرکے طلبا کی زندگی منور کررہے ہیں۔
First published: Jun 27, 2020 08:41 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading