ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

وادی میں قتل کے نہ تھمنے والا سلسلہ جاری، آئے روزقتل کے معاملے آتے ہیں پیش، مالموہ ماگام کے نوجوان کی بھی مشتبہ حالت میں ملی لاش

وسطی ضلع بڈگام کے دھار منہ میں شمالی کشمیر کے مالموہ ماگام سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ گاڑی ڈرائیور علی محمد کی لاش انووا گاڑی میں ملی۔ لاش کی خبر پھیلتے ہی متعلقہ پولیس اسٹیشن کی ٹیم نےجائے واقعہ پر پہنچ کرلاش کو اپنی تحویل میں لیا اور بعد اسے پوسٹ مارٹم کیا گیا۔

  • Share this:
وادی میں قتل کے نہ تھمنے والا سلسلہ جاری، آئے روزقتل کے معاملے آتے ہیں پیش، مالموہ ماگام کے نوجوان کی بھی مشتبہ حالت میں ملی لاش
وادی میں قتل کے نہ تھمنے والا سلسلہ جاری، آئے روزقتل کے معاملے آتے ہیں پیش، مالموہ ماگام کے نوجوان کی بھی مشتبہ حالت میں ملی لاش

وادی کشمیر میں آئے روز قتل کے معاملات رونما ہو رہے ہیں، کہیں کسی کو اغوا کرکے قتل کیا جاتا ہے توکہیں کسی کو ورغلاکر موت کے گھاٹ اتاردیا جاتا ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ وسطی ضلع بڈگام کے دھار منہ میں شمالی کشمیر کے مالموہ ماگام سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ گاڑی ڈرائیور علی محمد کی لاش انووا گاڑی میں ملی۔ لاش کی خبر پھیلتے ہی متعلقہ پولیس اسٹیشن کی ٹیم نےجائے واقعہ پر پہنچ کرلاش کو اپنی تحویل میں لیا اور بعد اسے پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ ان کے نمونے حاصل کرکے فارنسک لیبارٹری میں بھیجے گئے۔ ان تمام لوازمات کے بعد علی محمد کی لاش کو ان کے لواحقین کے حوالے کی گئی۔


علی محمد کی لاش جوں ہی اپنے آبائی گھرمالموہ پہنچائی گئی، تو وہاں صف ماتم بچھ گئی، لاش کو مقامی لوگوں نے احتجاجی جلوس کی صورت میں ماگام پہنچائی، جہاں انہوں نے ملوث افراد کی نشاندہی کرنےکا مطالبہ کیا۔ احتجاج قاتلوں کو ڈھونڈ نکالنے کے فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے۔ ماگام میں تحصیلدار ماگام غلام محی الدین اور ایس ڈی پی او ماگام شوکت احمد نے احتجاج کو روک کر لوگوں کو یقین دلایا کہ اس معاملے کی تحقیقات بہت جلد پایہ تکمیل تک پہنچائی جائے گی۔ مالموں ماگام میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے ان کے نماز جنازہ میں شرکت کی۔




دھار منہ میں اس واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر گشت کررہی ہے، جس سے صاف نظر آ رہا ہے کہ علی محمد کو قتل کیا گیا ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج سے یہ بھی لگ رہا ہے کہ اس قتل کے لئے پہلے سی پلانگ کی جاچکی ہے۔ محمد اشرف نامی ایک مقامی نے نیوز 18 اردو کو بتایا کہ جس طرح سی سی ٹی وی فوٹیج میں گاڑیاں دیکھی جارہی ہے، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ علی محمد کا قتل کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرکار کو چاہئے کہ اس واردات میں ملوث افراد کو کیفرِکردار تک پہنچایا جائے تاکہ ایسے واردات کی روک تھام ممکن ہوسکے۔ علی محمد کے قریبی دوست جاوید نے بھی نیوز 18 اردو کو بتایا کہ جب انہیں اپنے دوست کے مارے جانے کی خبر ملی تو حیرت میں پڑھ گئے، انہیں یقین نہیں آرہا تھا، ان کے دوست ان سے جدا ہوگیا۔ جاوید نے کہا کہ وہ انہیں کبھی بھولیں نہیں۔



انہوں نے بھی پولیس اور سرکار سے مطالبہ کیا کہ ملوث افراد کو پکڑا جائے اوران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ علی محمد پیشہ سے گاڑی ڈرائیور تھے، وہ گزشتہ کئی سالوں سے انووا گاڑی ہی چلاتے تھے، جس میں ان کی لاش ملی۔ لوگوں نے انتظامیہ سے اپیل کی ملوث افراد کو جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ وادی میں اس کے واردات کو روکنے کے لئے سخت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Apr 04, 2021 11:57 PM IST