உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مسلم بھائیوں نے بزرگ کشمیری ہندو راجپوت خاتون کی ادا کی آخری رسوم، گنگا جمنی تہذیب کی پیش کی مثال

    کشمیر کے کولگام میں ہندومسلم بھائی چارے کی عظیم مثال دیکھنے کو ملی ، ہندو اہل خانہ کے تعزیت میں رہے مسلمان پیش پیش

    کشمیر کے کولگام میں ہندومسلم بھائی چارے کی عظیم مثال دیکھنے کو ملی ، ہندو اہل خانہ کے تعزیت میں رہے مسلمان پیش پیش

    75 سالہ لاجونتی دیوی کا کل شام انکے آبائی علاقے میں انتقال ہوا، اقلیتی فرقے سے تعلق رکھنے والے ہندو راجپوت گھرانے کی ڈھارس بندھانے کے لیے مقامی مسلمانوں نے نہ صرف ہمدردی کا مظاہرہ کیا بلکہ آخری رسومات کے لیے تمام تر لوازمات پورے کیے اور اس طرح ایک بار پھر روایتی بھائی چارے کی مثال پیش کی۔

    • Share this:
    کولگام: وادی میں نامساعد حالات کے باوجود یہاں کا روایتی بھائی چارہ اثر انداز نہیں ہوا اور اسکی تازہ مثال آج ایک بار پھر جنوبی کشمیر کے بیگام کولگام میں دیکھنے کو ملی۔ 75 سالہ لاجونتی دیوی کا کل شام انکے آبائی علاقے میں انتقال ہوا، اقلیتی فرقے سے تعلق رکھنے والے ہندو راجپوت گھرانے کی ڈھارس بندھانے کے لیے مقامی مسلمانوں نے نہ صرف ہمدردی کا مظاہرہ کیا بلکہ آخری رسومات کے لیے تمام تر لوازمات پورے کیے اور اس طرح ایک بار پھر روایتی بھائی چارے کی مثال پیش کی۔
    مقامی مسلمانوں نے اسے نہ صرف اپنا فریضہ سمجھا بلکہ انسانیت کے تقاضوں کی آبیاری کے لیے پہل کی۔ مقامی مسلمان عبدالرشید کھانڈے کا کہنا ہے کہ یہ روایتی بھائی چارہ ہماری پہچان ہے اور اسلام میں ہر ایک مذہب کی عزت کرنے کو ترجیح دی گئ ہے ساتھ میں انسانیت کو بڑھاوا دینے کو کہا گیا ہے۔
    ادھر اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے مقامی ہندو راچپوتوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک قدیم روایت ہے اور یہاں کے ہندو اور مسلمانوں نے کھبی بھی اشتعال انگیزی اور منافرت سے کام نہیں لیا اور یہی وجہ ہے کہ وہ ایسے حالات میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ شانہ بشانہ ہے اور زندگی گذر بسر کر رہے ہیں۔

    متاثرہ اہل خانہ نے مقامی مسلمانوں کے رول کی۔ ستایش کی۔ مقامی ہندو راجپوت جگدیش سنگھ اور مہلوکہ کے فرزند راجندر سنگھ کے مطابق انکا جینا مرنا ، غم و خوشی یہاں کے مقامی مسلمانوں کے ساتھ ہے اور وہ نامساعد حالات کے باوجود یہاں خوشی خوشی رہایش پذیر ہیں۔

    قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: