உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر میں دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے خوف کا ماحول ختم کرنا ہوگا: عمر عبداللہ

    جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ کشمیر میں دہشت گردی تب ختم ہوگی، جب یہاں خوف کا ماحول ختم ہوگا کیونکہ یہاں ہر وقت خوف رہتا ہے۔ ہمارے دور حکومت میں کئی علاقے دہشت گردی سے پاک ہوئے تھے، لیکن اب دیکھئے ان علاقوں میں دہشت گردانہ حملے ہو رہے ہیں جہاں حالات بہتر تھے۔

    جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ کشمیر میں دہشت گردی تب ختم ہوگی، جب یہاں خوف کا ماحول ختم ہوگا کیونکہ یہاں ہر وقت خوف رہتا ہے۔ ہمارے دور حکومت میں کئی علاقے دہشت گردی سے پاک ہوئے تھے، لیکن اب دیکھئے ان علاقوں میں دہشت گردانہ حملے ہو رہے ہیں جہاں حالات بہتر تھے۔

    جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ کشمیر میں دہشت گردی تب ختم ہوگی، جب یہاں خوف کا ماحول ختم ہوگا کیونکہ یہاں ہر وقت خوف رہتا ہے۔ ہمارے دور حکومت میں کئی علاقے دہشت گردی سے پاک ہوئے تھے، لیکن اب دیکھئے ان علاقوں میں دہشت گردانہ حملے ہو رہے ہیں جہاں حالات بہتر تھے۔

    • Share this:
      عابد حسین بٹ

      سری نگر: "کشمیر میں دہشت گردی تب ختم ہوگی، جب یہاں خوف کا ماحول ختم ہوگا کیونکہ یہاں ہر وقت خوف رہتا ہے۔ ہمارے دور حکومت میں کئی علاقے دہشت گردی سے پاک ہوئے تھے، لیکن اب دیکھئے ان علاقوں میں دہشت گردانہ حملے ہو رہے ہیں جہاں حالات بہتر تھے"۔ ان باتوں کا اظہار جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلی اور نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کیا۔

      انہوں نے کہا کہ "حکومت کی جانب سے کوئی ایسے اقدامات اٹھائے جائے تاکہ بے گناہوں کا قتل عام رک جائے کیونکہ بی جے پی یہ دعوی کر رہی ہے کہ کشمیر میں سب ٹھیک ہے لیکن یہاں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے"۔ عمر عبداللہ نے مہلوک عمرین بٹ کے گھر جاکر انکے اہل خانہ کو تعزیت پیش کی۔ اس دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہر ہلاکت کے بعد پولیس کا یہی بیان آتا ہے کہ حملہ آوروں کو ہلاک کیا گیا لیکن کس طرح سے ان ہلاکتوں کو روکا جائے اس پر غور نہیں کیا جارہا ہے۔"

      عمر عبداللہ نے بی جے پی پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ "سیاحوں کا کشمیر آنا اس بات کا ثبوت نہیں ہوسکتا کہ یہاں سب نارمل ہے کیونکہ اس سے قبل بھی یہاں سیاح آتے رہے ہیں"۔ نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا کہ اس طرح کے حملوں کی جتنی بھی مزمت کی جائے وہ کم نہیں ہوگی۔ اب اس طرح کے حملے ہورہے ہیں جہاں بچے بھی شامل تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا گولی سے کوئی بھی شکار ہوسکتا ہے اور ان حالات کو روکنے کی ضرورت ہے۔

      آپ کو بتادیں کہ بدھ کی شب وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں دہشت گردوں نے ایک خاتون پر حملہ کرکے اسے ہلاک کیا اور اس حملے کے بعد مسلسل مذمتی بیانات سامنے آرہے ہیں۔ واضح رہے کشمیر میں آئے روز عام شہروں کو نشانہ بنایا جارہا یے تاہم پولیس بھی لگاتار یہ دعوے کر رہی ہے کہ حملہ آوروں کو ڈھیر کیا جارہا ہے۔

      بڈگام سے عابد حسین بٹ کی رپورٹ
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: