اپنا ضلع منتخب کریں۔

    Jammu and Kashmir: اسمبلی انتخابات کے لئے نیشنل کانفرنس اورپی ڈی پی اتحاد کرنے کے لئے تیار، حریف پارٹیوں کا سخت ردعمل!

    جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات منعقد کرائے جانے سے متعلق گرچہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے تاریخوں کا ابھی تک اعلان نہیں کیا گیا ہے تاہم کمیشن کی جانب سے الیکشن سے متعلق ماضی قریب میں اُٹھائے گئے چند اقدامات سے جموں وکشمیر میں سیاسی جماعتیں متحرک ہوگئی ہیں۔

    جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات منعقد کرائے جانے سے متعلق گرچہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے تاریخوں کا ابھی تک اعلان نہیں کیا گیا ہے تاہم کمیشن کی جانب سے الیکشن سے متعلق ماضی قریب میں اُٹھائے گئے چند اقدامات سے جموں وکشمیر میں سیاسی جماعتیں متحرک ہوگئی ہیں۔

    جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات منعقد کرائے جانے سے متعلق گرچہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے تاریخوں کا ابھی تک اعلان نہیں کیا گیا ہے تاہم کمیشن کی جانب سے الیکشن سے متعلق ماضی قریب میں اُٹھائے گئے چند اقدامات سے جموں وکشمیر میں سیاسی جماعتیں متحرک ہوگئی ہیں۔

    • Share this:
    جموں وکشمیر: جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات منعقد کرائے جانے سے متعلق گرچہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے تاریخوں کا ابھی تک اعلان نہیں کیا گیا ہے تاہم کمیشن کی جانب سے الیکشن سے متعلق ماضی قریب میں اُٹھائے گئے چند اقدامات سے جموں وکشمیر میں سیاسی جماعتیں متحرک ہوگئی ہیں۔ جموں و کشمیر کے طول وعرض میں سیاسی جماعتیں عوامی میٹنگوں کا انعقاد کرنے میں مصروف ہیں۔

    دوسری جانب پی اے جی ڈی کی جانب سے اس اعلان کے بعد کہ اتحاد میں شامل پارٹیاں مل کر یہ الیکشن لڑیں گی۔ سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ گرچہ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے یہ انتخابات متحدہ طور پر لڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ جماعتیں لوگوں کے مفاد میں یہ فیصلہ لے چکی ہیں۔ تاہم ان کے سیاسی حریف ان کے ان دعووں کو گمراہ کن قرار دے رہے ہیں۔

    بی جے پی کے سینئرلیڈرکویندر گپتا کا کہنا ہے کہ یہ دونوں پارٹیاں ماضی میں عوام دشمن پالیسوں کی وجہ سے لوگوں کا اعتماد کھو چکی ہیں۔ نیوز 18 اردو سے بات کرتے ہوئے کویندر گپپتا نے کہا کہ اس اتحاد کی ایک اور وجہ بی جے پی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ہے۔ بی جے پی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی خوف زدہ ہوچکی ہیں۔ ان دونوں پارٹیوں کی سوچ ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ ایک سیلف رول کی بات کرتی تو دوسری آٹونامی کی۔ اب ان دونوں پارٹیوں کو بی جے پی کی مقبولیت کے خوف سے ایک ساتھ آنے پر مجبور ہونا پڑا ہے اور انہوں نے آنے والے اسمبلی انتخابات میں مفاہمت کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔

    بی جے پی کے سینئر لیڈرکویندر گپتا کا کہنا ہے کہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی ماضی میں عوام دشمن پالیسوں کی وجہ سے لوگوں کا اعتماد کھو چکی ہیں۔
    بی جے پی کے سینئر لیڈرکویندر گپتا کا کہنا ہے کہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی ماضی میں عوام دشمن پالیسوں کی وجہ سے لوگوں کا اعتماد کھو چکی ہیں۔


    ان دونوں پارٹیوں کے ایک ساتھ الیکشن لڑنے سے بی جے پی کو کوئی نقصان نہیں ہوگا چونکہ ان دونوں جماعتوں کے ووٹ کم ہوچکے ہیں، اسی لئے انہیں ساتھ آنا پڑا۔ ہمیں پورا بھروسہ ہے کہ دفعہ 370 کے خاتمے سے بی جے پی کو لوگوں کا اعتماد حاصل ہوا ہے۔ اسی کی بنیاد پر بی جے پی سب سے بڑی پارٹی کے طور پر اُبھرے گی کانگریس اس اتحاد سے متعلق  محتاط رد عمل کا اظہار  کر رہی ہے۔

    کانگریس کے ریاستی صدر غلام احمد میر نے کہا کہ جب الیکشن کا باضابطہ اعلان ہوگا اور اس کا عمل آگے بڑھے گا، تب سب چیزیں واضح ہو جائیں گی۔
    کانگریس کے ریاستی صدر غلام احمد میر نے کہا کہ جب الیکشن کا باضابطہ اعلان ہوگا اور اس کا عمل آگے بڑھے گا، تب سب چیزیں واضح ہو جائیں گی۔


    پارٹی کے پردیش صدر غلام احمد میر نے کہا کہ ابھی تو الیکشن منعقد کرنے کا اعلان بھی نہیں ہوا ہے، فی الحال ایسے بیانات آرہے ہیں کہ الیکٹورل رول تیار کرائے جائیں، کبھی ایسا کہا جارہا ہے کہ پولنگ بوتھوں کا رویجن ہوجائے اور انتخابات کرائے جائیں گے۔ یعنی ابھی الیکشن سے متعلق غیر یقینی صورتحال ہے۔ ابھی تک یہ بھی واضح نہیں ہے کہ کیا مرکزی حکومت یہاں انتخابات کرا رہی ہے یا نہیں۔ جب الیکشن کا باضابطہ اعلان ہوگا اور اس کا عمل آگے بڑھے گا، تبھی سب چیزیں واضح ہوجائیں گی۔ پی اے جی ڈی میں شامل یہ پارٹیاں پچھلے دو تین سال سے متحد ہیں۔ تاہم کانگریس موزوں وقت پر اپنی پالیسی واضح کرے گی۔

    جموں وکشمیر اپنی پارٹی کا کہنا ہے کہ ان دونوں  پارٹیوں کا ایک ساتھ  الیکشن لڑنے کا فیصلہ خوش آئند ہے، کیونکہ اس سے ان کے چہرے سے  نقاب اترجائے گا۔ پارٹی کے ایڈیشنل ترجمان نرمل کوتوال نے نیوز 18 سے اس بارے میں اپنا رد عمل ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ ان دونوں جماعتوں کا ایک ساتھ الیکشن لڑنے کا اعلان کرنے سے ان کا اصلی چہرہ عوام کے سامنے آچکا ہے۔ کیونکہ انہیں یہ احساس ہوچکا ہے کہ وہ اپنے اپنے بل بوتے پر الیکشن میں جیت حاصل نہیں کر پائیں گے۔ ان دونوں جماعتوں نے لوگوں کو یہ کہ کر گمراہ کیا تھا کہ وہ دفعہ 370 اور پنتیس اے کی بحالی کو یقینی بنائیں گے جس میں وہ ناکام ہوچکے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کو یہ بات سمجھ میں آچکی ہے کہ ان دونوں جماعتوں نے اپنی سیاسی شناخت برقرار رکھنے کے لئے کھوکھلے وعدے کرنے سے کام لیا تھا۔ جموں و کشمیر اپنی پارٹی سچائی کی بنیاد پر آگے بڑھ رہی ہے اور ہمیں امید ہے کہ لوگ کھوکھلے دعووں کے بجائے حقیقت پسندانہ رویہ اپنانے والی جماعت کا ساتھ دیں گے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: