உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News: جموں وکشمیر میں حد بندی کمیشن کی رپورٹ جاری ہونے کے بعد سیاسی گھمسان، اپوزیشن نے لگایا یہ بڑا الزام

    J&K News: جموں وکشمیر میں حد بندی کمیشن کی رپورٹ جاری ہونے کے بعد سیاسی گھمسان، اپوزیشن نے لگایا یہ بڑا الزام

    J&K News: جموں وکشمیر میں حد بندی کمیشن کی رپورٹ جاری ہونے کے بعد سیاسی گھمسان، اپوزیشن نے لگایا یہ بڑا الزام

    Jammu and Kashmir News: جموں و کشمیر کے اسمبلی حلقوں کی از سر نو حد بندی کے لئے مقررہ کمیشن نے اپنی حتمی رپورٹ جاری کردی ہے ۔ رپورٹ جاری ہونے کے بعد جموں و کشمیر میں ایک نئی سیاسی بحث شروع ہوگئی ہے۔ جہاں اپوزیشن پارٹیاں الزام لگا رہی ہیں کہ کمیشن نے ان کی طرف سے پیش کی گئی تجاویز کو یکسر نظر انداز کردیا تو وہیں بی جے پی اس رپورٹ کا خیر مقدم کررہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔

    • Share this:
    Jammu and Kashmir News: جموں و کشمیر کے اسمبلی حلقوں کی از سر نو حد بندی کے لئے مقررہ کمیشن نے اپنی حتمی رپورٹ جاری کردی ہے ۔ رپورٹ جاری ہونے کے بعد جموں و کشمیر میں ایک نئی سیاسی بحث شروع ہوگئی ہے۔ جہاں اپوزیشن پارٹیاں الزام لگا رہی ہیں کہ کمیشن نے ان کی طرف سے پیش کی گئی تجاویز کو یکسر نظر انداز کردیا تو وہیں بی جے پی اس رپورٹ کا خیر مقدم کررہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ کمیشن نے مختلف سیاسی پارٹیوں کے ساتھ ایک طویل مدت تک صلاح مشورہ کرکے اپنی حتمی رپورٹ جاری کی ہے۔ کمیشن نے جموں خطے میں جہاں چھ سیٹوں کے اضافے کی سفارش کی ہے تو وہیں اس نے کشمیر میں ایک سیٹ کے اضافے کی سفارش بھی کی ہے۔

    اس معاملہ پر کشمیر کی علاقائی پارٹیاں کمیشن سے خفا ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کشمیر وادی سے امتیازی سلوک کیا گیا ہے۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، اپنی پارٹی ، پیپلز کانفرنس ، سی پی آئی ایم اور کانگریس جیسی جماعتیں کمیشن کی سفارشات کو یکسر مسترد کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حیرانی کی بات یہ ہے کہ ان کی طرف سے کمیشن کو پیش کی گئی کسی بھی تجویز کو ملحوظ نہیں رکھا گیا ہے۔ ان کا یہ بھی الزام  ہے کہ کمیشن نے بی جے پی کے اشارے پر  کا م کیا ہے۔ ان پارٹیوں کا کہنا ہے کہ اگر دیکھا جائے تو  سال دو ہزار کی مردم شماری کے مطابق بھی کمیشن نے رپورٹ تیار نہیں کی ہے۔

     

    یہ بھی پڑھئے: J&K News: وقف املاک پر قابض افراد کے خلاف چلایا جائے گا بلڈوزر، وقف بورڈ کی چیئرپرسن کی وارننگ


    نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر رتن لعل گُپتا کا کہنا ہے کہ اگرچہ سال دو ہزار چوبیس میں پورے ملک میں حد بندی کی جانے والی تھی ، تو بی جے پی نے کیوں جلدی کرکے جموں و کشمیر میں یہ کام پہلے ہی کروادیا۔ ان کا الزام ہے کہ یہ سارا عمل غیر آئینی ہے اور کمیشن نے اپنی رپورٹ بی جے پی کی منشا کے مطابق تیار کی ہے۔ انہوں نے پونچھ اور راجوری کو اننت ناگ پارلیمانی حلقہ میں ضم کرنے کی بھی سخت مخالفت کی اور کہا کہ اس سے اس علاقہ کے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔

    اپنی پارٹی کے صدر محمد الطاف بُخاری نے اس رپورٹ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ سفارشات عام لوگوں کے حق میں نہیں ہیں اور اس طرح سے لوگوں کے ساتھ بے انصافی ہوئی ہے۔  انہوں نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ بی جے پی نے جموں و کشمیر کو تباہی کے دہانے پر پہنچایا ہے۔ پردیش کانگریس کے صدر جی اے میر نے کمیشن کی رپورٹ کو جموں و کشمیر کا توڑ پھوڑ کرنے سے تعبیر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کانگریس ان سفارشات پر اعتراض کررہی ہے اور کمیشن نے یہ ساری رپورٹ بی جے پی کے اشارے پر تیار کی ہے۔

     

    یہ بھی پڑھئے : سری نگر میں دہشت گردوں نے پولیس اہلکارکو ماری گولی، سنگین حالت میں اسپتال میں داخل


    سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ کمیشن کی سفارشات ایک انقلابی قدم ہے اور اس پر اپوزیشن کو متفق رہنا چاہئے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ جو طبقہ آج تک سیاسی حقوق سے محروم رہا تھا، کمیشن نے ان کے حقوق بحال کرنے کی سفارش کی ہے ، جو ایک خوش آئند قدم ہے۔ سیاسی تجزیہ کار سُہیل قاضمی کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کا یہ حق بنتا ہے کہ وہ مخالفت کریں ، لیکن کمیشن کی یہ رپورٹ عام لوگوں کے حق میں ہے اور کمیشن کی سفارشات سے تمام طبقوں کے لوگوں کو فائدہ ہوگا اور اس سے جموں و کشمیر کی ترقی یقینی بن پائے گی۔ انکا کہنا ہے کہ اب لگتا ہے کہ بہت جلد جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات منعقد ہوں گے ۔

    ادھر بی جے پی نے کمیشن کی سفارشات کا خیر مقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کمیشن کی سفارشات ہر طبقے کے لوگوں کی امنگوں کو پورا کر رہی ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان سفارشات کی بدولت چند ایک پارٹیوں کی من مانی ختم ہوگی۔ بی جے پی کا ماننا ہے کہ ایسے الزامات لگانا کہ ان سفارشات کی وجہ سے کوئی دراڑ پڑے گی غلط ہے ، بلکہ  اس سے جموں و کشمیر ایک یونٹ کے طور پر اُبھر آئے گا۔

    بی جے پی کے سینیر لیڈر کویندر گُپتا نے کہا کہ جو لوگ اس رپورٹ کی مخالفت کر رہے ہیں ، انہوں نے ہی جموں خطے سے ہمیشہ نا انصافی کی ہے حالانکہ اس سے پہلے ہوئی حد بندی کے وقت وہ جموں کو اپنا حصہ دے سکتی تھی ، مگر اپنے سیاسی مقاصد کے لئے انہوں نے ہمیشہ جموں سے امتیازی سلوک جاری رکھا اور سماج کے مختلف طبقوں کو سیاسی حقوق سے محروم رکھا۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: