உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں۔کشمیر میں NC & PDP کسانوں کی طرز پر Article 370-35A کی بحالی کیلئے کررہی ہےسیاست، کیا یہ اسمبلی انتخابات میں ان کی کرے گا مدد؟

    Youtube Video

    نیشنل کانفرنس کے بعد اب پی ڈی پی نے بھی جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو بحال کرنے کے لئے لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوششوں میں لگی ہے۔ دفعہ تین سو ستر اور پنتیس اے کی بحالی کے بارے میں اگرچہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی پچھلے دو برس سے بیانات جاری کرتی آئی ہیں تاہم ان دونوں سیاسی جماعتوں نے اب زرعی قوانین کی واپسی کے بعد اُسی طرز پر سیاسی بیانات جاری کرناشروع کردیا ہے۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر: مرکز کی طرف سے زرعی قوانین واپس لئے جانے کے بعد جموں کشمیر کی علاقائی سیاسی جماعتیں دفعہ تین سو ستر (Article 370) اور پنتیس اے(Article 35A) کی بحالی کے لئے کسانوں کی طرز پر احتجاج کئے جانے سے متعلق بیانات جاری کر رہی ہیں۔ نیشنل کانفرنس کے بعد اب پی ڈی پی نے بھی جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو بحال کرنے کے لئے لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوششوں میں لگی ہے۔ دفعہ تین سو ستر اور پنتیس اے کی بحالی کے بارے میں اگرچہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی پچھلے دو برس سے بیانات جاری کرتی آئی ہیں تاہم ان دونوں سیاسی جماعتوں نے اب زرعی قوانین کی واپسی کے بعد اُسی طرز پر سیاسی بیانات جاری کرناشروع کردیا ہے۔ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پانچ دسمبر کو کارکنوں کی ایک میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کسانوں کی طرز پر احتجاج کرنے کی لوگوں سے اپیل کی تاکہ دفعہ تین سو ستر اور پنتیس اے کی بحالی کے مطالبے کو منوانے کے لئے مرکز پر دباؤ ڈالا جاسکے۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ اگر جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن بحال کرنے کے لئے احتجاج کرنے کی بھی ضرورت پڑی تو لوگوں کو اس کے لئے تیار رہنا چاہئیے۔ وہیں پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے پیر کے روز دلی میں جنتر منتر پر احتجاجی دھرنا دینے کے دوران سبھی سیاسی جماعتوں کو متحد ہونے کے لئے کہا تاکہ دفعہ تین و ستر اور پنتیس اے (Article 370-35A) کو بحال کرنے کے لئے مرکزی سرکار کو مجبور کیا جاسکے۔

    بی جے پی اور جموں و کشمیر اپنی پارٹی نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی کے ان بیانات پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں سیاسی جماعتیں عوام کو گمراہ کرنے کے لئے ایسے بیانات جاری کر رہی ہیں۔ جموں و کشمیر کے سابق نائیب وزیر اعلی اور بی جے پی کے سینیر لیڈر کویندر گُپتا کا کہنا ہے کہ یہ دونوں جماعتیں لوگوں کو بانٹ کر اپنا سیاسی فائدہ اٹھانے کی تکدو میں ہیں۔ نیوز ایٹین اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کویندر گُپہتا نے کہا کہ ان دونوں سیاسی جماعتوں کو یہ سمجھ لینا چاہئیے کہ دفعہ تین سو ستر اور پنتیس اے تاریخ کا ایک حصہ بن گیا ہے اور اس کی واپسی ناممکن ہے۔

    انہوں نے کہا کہ زرعی قوانین اور دفعہ تین سو ستر نیز پنتیس اے کو کی کوئی مشاہبت نہیں ہے لہذا ان جماعتوں کو لوگوں کو گمراہ کرنے سے گریز کرنا چاہئیے۔ جموں و کشمیر اپنی پارٹی کے سینیر نائیب صدر غلام حسن میر کا کہنا ہے کہ اسطرح کے بیانات سے دفعہ تین سو ستر اور پنتیس اے کو بحال نہیں کیا جاسکتا۔ نیوز ایٹین اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے غلام حسن میر نے کہا کہ پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس ماضی میں بھی کھوکھلے نعرے بلند کرکے عوام کے جزبات کا استحصال کرتی رہی ہیں ۔ انہوں نے نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی سے سوال کیا کہ کیا وہ اٹانومی اور سیلف رول قائیمم کرنے میں کامیاب ہوچکی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن عدلت اعظمی یا ملک کی پارلیمنٹ بحال کر سکتی ہے اور اسکے لئے ایک مقررہ لایح عمل ہے ناکہ اسطرح کے بیانات۔ انہوں نے کہا چونکہ یہ معاملہ سُپریم کورٹ کے زیر سماعت ہے لہذا سبھی لوگوں کو فیصلے کا انتظار کرنا چاہئیے۔ غلام حسن میر نے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے چھ ممبران پارلمینٹ ایوان کے اندر حکومت کا فیصلہ بدل نہیں سکتے لہذا اس بارے میں ملک بھر کی دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل بیٹھ کر یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ یہ دفعات نہ صرف جموں و کشمیر کے عوام بلکہ پورے ملک کے لئے فائدہ بخژ ہیں۔سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی عوام میں انتشار پھیلانے کی اپنی روایتی سیاست کاری میں لگی ہوئی ہیں۔ نیوز ایٹین اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے معروف تجزیہ نگار پرکھشت منہاس نے کہا کہ ان جماعتوں کے پاس فلحال کوئی ٹھوس سیاسی ایجنڈا نہیں ہے لہذا وہ اسطرح کے جزباتی بیانات جاری کرکے لوگوں کی حمایت حاسل کرنے میں جُٹی ہیں۔ تاہم انہیں اس طرح کی سیاست سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا۔
    انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام محز سیاسی نعروں کے بجائے یہاں کی ترقی کے متمنی ہیں۔ پرکھشت منہاس نے بی جے پی کو بھی نصیحت دے ڈالی کی وہ مرکز کی طرف سے جموں و کشمیر سے متعلق اٹھائے گئے اقدامات کے بجائے زمینی سطح پر لوگوں کے ساتھ جُڑ جائیں۔سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کے قریب آتے ہی اسطرح کے کئی اور بیانات سامنے آسکتے ہیں تاہم جموں و کشمیر کے ووٹران اسی پارٹی کو اپنی حمایت دیں گے جو انکے روزمرہ مسائیل حل کرانے کی اہلیت رکھتی ہوں۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: