ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں۔کشمیر میں سکیورٹی فورسز کیلئے نیا چیلنج بنے 'پارٹ ٹائم دہشت گرد'، پاکستان نے بنائی پلاننگ

افسران نے بتایا گزشتہ کچھ ہفتوں میں سری نگر شہر سمیت وادی میں ، "آسان ٹارگیٹ" پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور زیادہ تر واقعات پستول سے مسلح نوجوانوں نے کیے ہیں جن کے نام سیکیورٹی فورسز کے ذریعے تیار دہشت گردوں کی فہرست میں شامل نہیں تھے۔

  • Share this:
جموں۔کشمیر میں سکیورٹی فورسز کیلئے نیا چیلنج بنے 'پارٹ ٹائم دہشت گرد'، پاکستان نے بنائی پلاننگ
افسران نے بتایا گزشتہ کچھ ہفتوں میں سری نگر شہر سمیت وادی میں ، "آسان ٹارگیٹ" پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور زیادہ تر واقعات پستول سے مسلح نوجوانوں نے کیے ہیں جن کے نام سیکیورٹی فورسز کے ذریعے تیار دہشت گردوں کی فہرست میں شامل نہیں تھے۔

سری نگر۔ دہشت گردی  (Terrorism)کے محاذ پرکشمیر میں سکیورٹی فورسز (Security forces) کو ایک نیا چیلنج درپیش ہے۔ چیلنج 'ہائبرڈ' دہشت گردوں (Hybrid Terrorism) کی موجودگی ہے جنھیں انتہا پسندوں کا لیبل نہیں کہا جاتا ہے لیکن وہ اتنے بنیاد پرست ہیں کہ دہشت گردی کے کسی بھی واقعے کا انجام دینے  کے بعد وہ اپنے معمولاتی زندگی پر واپس چلے جاتے ہیں۔ افسران نے بتایا گزشتہ کچھ ہفتوں میں سری نگر شہر سمیت وادی میں ، "آسان ٹارگیٹ" پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے  اور زیادہ تر واقعات پستول سے مسلح نوجوانوں نے کیے ہیں  جن کے نام سیکیورٹی فورسز کے ذریعے تیار دہشت گردوں کی فہرست میں شامل نہیں تھے۔   ۔


انہوں نے بتایا کہ اس نئی پلاننگ نے سکیورٹی ایجنسیوں لیلئے نئی پریشانی کھڑی کر دی ہے کیونکہ ان 'ہائبرڈ' دہشت گردوں (Hybrid Terrorism) یا پارٹ ٹائم دہشت گردوں پر نظر رکھنا مشکل ہوتا ہے اور یہ سکیورٹی اہلکاروں کیلئے چیلنج پیدا کرتے ہیں۔ سکیورٹی اداروں کے عہدیداروں نے بتایا کہ ایک 'ہائبرڈ' دہشت گرد پڑوس میں رہنے والا لڑکا ہے جسے اس کے آقاؤں نے جنونی بنایا ہوا ہے اور وہ دہشت گردی کے واقعے کے لئے تیار ہے۔


 پھر اپنی معمولاتی زندگی پر  لوٹ جاتا ہے دہشت گرد


انہوں نے بتایا ، 'وہ دئے ہوئے کام کو مکمل کرتا ہے اور آقا کے اگلے آرڈر کا انتظار کرتا ہے۔ ادھر  وہ اپنی معمول کی زندگی میں واپس آجاتا ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ وادی میں نیا عمل پاکستان اور اس کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی ہدایت پر اپنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا ، "دہشت گرد مایوس ہوکر  اپنے طرز عمل کو تبدیل کر رہے ہیں۔ اس سے ان کی مایوسی ظاہر ہوتی ہے۔" وہ اب پستول سے نشانہ بنانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

عہدیداروں نے کہا کہ اس کا مقصد خوف کی فضا پیدا کرنا اور کاروباری اور سماجی سرگرمیوں کو روکنا ہے جو "دہشت گردوں اور ان کی ماحولیات" کو متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا ، "وہ علیحدگی پسندی کے خلاف بولنے والوں کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔ تشدد پھیلانے اور اکسانے والوں کی مخالفت کرتے ہیں۔" سکیورٹی ایجنسیوں کا خیال ہے کہ یہ حادثاتی نہیں بلکہ منصوبہ بند ہے۔

 



انہوں نے کہا ، 'یہ اچانک کبھی نہیں ہوسکتا ہے۔ اس میں نقل و حرکت سے باخبر رہنا اور معمول کا سب سے کمزور پتہ لگانا ہوتا ہے۔ نظر رکھنے والا  اوور گراؤنڈ ورکر (OGW) یا ہائبرڈ دہشت گرد بھی ہوسکتا ہے جو پولیس کی فہرست میں شامل نہیں ہے لیکن اس کے پاس پستول اور مارنے کرنے کا ارادہ ہے۔ ٹھیک وہسے ہی جیسے کرائے کے  قاتل۔

 
Published by: Sana Naeem
First published: Jul 05, 2021 08:47 AM IST