ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

شمال مشرقی ریاستوں کے2ہزارنوجوان انسانی اسمنگلنگ کاشکار،این جی او"سرحد"نےامت شاہ کولکھاخط

این جی او سرحد کے مطابق شمال مشرقی ریاستوں سے 2 ہزار نوجوان لڑکے لڑکیوں کو دھوکے سے کشمیر لایا گیا ہے اوریہاں زبردستی گھریلو نوکر بنایا گیاہے۔ 8 ایسے نوجوانوں کو آج ایک کمپنی سے چھڑا کر گھر واپس بھیج دیاگیاہے

  • Share this:

آسام سے تعلق رکھنے والے 8نوجوانوں کو جن میں دو بچیاں بھی شامل ہیں آج سرحد نامی غیر سرکاری تنظیم کے کارکنوں نے ایک کمپنی سے چھڑا کر گھر واپس روانہ کردیاہے۔ ان کی کہانی غُربت اور استحصال کی کہانی ہے۔سرحد کے کارکُن عاقب احمد کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کو آسام کی ہی ایک خاتون ایجنٹ نے نوکری کا لالچ دے کر کشمیر لایا اور گھریلو نوکر فراہم کرنے والی ایک کمپنی کے ہاتھوں بیچ دیا۔ ان نوجوانوں میں دو لڑکیاں بھی شامل ہیں جن میں ایک کمسن بچی ہے۔ ان نوجوانوں کے مطابق اُنہیں یہ بتایا گیا کہ کشمیر میں انہیں سیب کی ایک کمپنی میں کام دیا جائے گا ۔یہاں پہنچنے پر اُس عورت نے انہیں ایک مقامی کمپنی کے ہاتھوں بیچ دیا جنہوں نے انھیں گھریلو نوکر کے طور مختلف گھروں میں تعینات کیا ۔ان نوجوانوں کے اعتراض پر انہیں دھمکایا گیا اور کچھ ایک کو مارا پیٹا بھی گیا ۔


 نیوز 18 کو اطلاع ملی ہےکہ ان 8 نوجوانوں کو جس عورت نے کشمیر لایا تھا اُسے ہیومن ٹریفکنگ کے کیس میں گرفتار کیا گیا ہے
نیوز 18 کو اطلاع ملی ہےکہ ان 8 نوجوانوں کو جس عورت نے کشمیر لایا تھا اُسے ہیومن ٹریفکنگ کے کیس میں گرفتار کیا گیا ہے


ایک مقامی رضاکار کی مدد سے ان کی روداد سرحد نامی غیر سرکاری تنظیم تک پہنچی اور انہوں نے ان کی مدد کی۔ سرحد کے کارکُن عاقب احمد کا کہنا ہے کہ بڑی مشقت کے بعدوہ ان بچوں کو چُھڑانے میں کامیاب ہوئے۔ 16 سالہ مُسکان کے مطابق وہ آج ایسا محسوس کررہی ہیں جیسا کہ انہیں جیل سے رہائی ملی۔ ان تمام 8 بچوں کو ہوائی جہاز کے ذریعے آج گھر واپس روانہ کردیا گیا۔ لیکن یہ بات یہیں ختم نہیں ہوجاتی سرحد تنظیم کے مطابق یہ صرف 8 بچوں کی کہانی نہیں ہے بلکہ کشمیر میں شمال مشرقی ریاستوں کے 2ہزار افراد ہیں۔جو اسی طرح دھوکے سے لائے گئے اور یہاں کئی گھروں میں پھنس کے رہ گئے۔


سرحد تنظیم نے وزیر داخلہ امِت شاہ کو ایک مکتوب لکھا ہے اور اس انسانی اسمگلنگ کو روکنے کے لئے مداخلت کرنےکا مطالبہ کیا ہے
سرحد تنظیم نے وزیر داخلہ امِت شاہ کو ایک مکتوب لکھا ہے اور اس انسانی اسمگلنگ کو روکنے کے لئے مداخلت کرنےکا مطالبہ کیا ہے


سرحد تنظیم نے وزیر داخلہ امِت شاہ کو ایک مکتوب لکھا ہے اور اس انسانی اسمگلنگ کو روکنے کے لئے مداخلت کرنےکا مطالبہ کیا ہے۔ نیوز18کی طرف اس معاملےپر رپورٹ کے بعد آسام میں بھی اس معاملے پر بات ہورہی ہے۔ نیوز 18 کو اطلاع ملی ہےکہ ان 8 نوجوانوں کو جس عورت نے کشمیر لایا تھا اُسے ہیومن ٹریفکنگ کے کیس میں گرفتار کیا گیا ہے۔ لیکن کشمیر میں بیرونی ریاستوں خاص طور سے مغربی بنگال ، جھارکھنڈ اور شمال مشرقی ریاستوں کے سینکڑوں افراد گھریلو نوکر کے طور کام کرر ہے ہیں اور وہ کس حالت میں ہیں یا پھر جن کمپنیوں کے ذریعے ان کو مختلف گھروں میں بھیجا جارہا ہے وہ انکی تنخواہیں واگذار کر بھی ر ہے ہیں یا نہیں اس کا کوئی پتہ نہیں۔ پولیس اور لیبر محکمہ کے پاس ان کی کوئی فہرست نہیں اور نہ ہی یہ تکلیف گوارا کرتے ہیں۔ کشمیر کے مقامی لوگ بھی ان کمپنیوں سے نالاں ہیں کیونکہ یہ تنخواہیں ایڈوانس لیتے ہیں اور اگر ان کا فراہم کردہ گھریلو مددگار اگر بھاگ جاتا ہے تو پیسے واپس نہیں کرتے۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: May 24, 2021 12:02 AM IST