உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    EXCLUSIVE: جموں وکشمیرمیں این آئی اےکے18مقامات پرچھاپے،آئی ایس آئی ایس کے 'جہادی' رسالہ کا سراغ

    جموں وکشمیر: این آئی اے نے پونچھ میں 9 مقامات پر چھاپہ ماری کی۔ فائل فوٹو

    جموں وکشمیر: این آئی اے نے پونچھ میں 9 مقامات پر چھاپہ ماری کی۔ فائل فوٹو

    وی او ایچ آن لائن اداروں اور چینلز کے پیچیدہ نیٹ ورک کے ذریعے پھیلایا گیا ہے، جو وی پی این کے غلط استعمال سے ان کی اصل شناخت چھپاتے ہیں۔ تحقیقات کے بعد ہندوستانی موبائل نمبروں کا پتہ لگایا گیا کہ وہ ایسے اکاؤنٹس سے وابستہ ہیں۔

    • Share this:
      منوج کپتا

      قومی تحقیقاتی ایجنسی National Investigation Agency وائس آف ہند Voice of Hind نامی ایک آن لائن میگزین کے پیچھے آئی ایس آئی ایس ISIS کی زیرقیادت ٹیم کو ختم کرنے کے مقصد سے جموں و کشمیر میں 18 مقامات پر مار رہی ہے۔ مبینہ طور پر آئی ایس آئی ایس فروری 2020 سے ایک آن لائن ماہ نامہ رسالہ 'وائس آف ہند' (VOH) جاری کر رہا تھا۔ مذکورہ رسالہ پر الزام ہے کہ یہ رسالہ جہاد کی طرف نوجوانوں کو بڑے پیمانے پر اکسارہا ہے۔

      وی او ایچ آن لائن اداروں اور چینلز کے پیچیدہ نیٹ ورک کے ذریعے پھیلایا گیا ہے، جو وی پی این کے غلط استعمال سے ان کی اصل شناخت چھپاتے ہیں۔ تحقیقات کے بعد ہندوستانی موبائل نمبروں کا پتہ لگایا گیا کہ وہ ایسے اکاؤنٹس سے وابستہ ہیں۔

      پہلے مرحلے میں جموں و کشمیر کے 11 مقامات پر تلاشی لی گئی اور داعش کے تین سرکردہ کارکنوں کو اچبل، اننت ناگ سے گرفتار کیا گیا۔ وہیں عمر نثار ، تنویر احمد بھٹ ، رمیز لون پہلے ہی این آئی اے کی حراست میں ہیں۔این آئی اے نے موبائل فون، لیپ ٹاپ و دیگر میٹیریل بھی برآمد کر کے ضبط کرلئے۔ گرفتار شدگان میں اعجاز احمد ٹاک، مدثر احمد آہنگر، نصیر منظور میر، جنید حسن خان اور شبیر احمد خان شامل ہیں۔

      ذرائع نے بتایا کہ عمر نثار ہندوستان میں آئی ایس ایچ پی کے خود ساختہ امیر تھے۔ وہ ہندوستان میں آئی ایس آئی ایس کے کارندوں اور افغان پاک میں مقیم آئی ایس آئی ایس ہینڈلرز کے درمیان ایک بہت اہم ربط تھا۔ 2017 کے بعد سے وہ باقاعدہ رابطے میں تھا اور آئی ایس جے کے/ایچ پی کے ولی اعجاز آہنگر سے ہدایات لے رہا تھا، وہ اصل میں سری نگر کا رہنے والا تھا۔

      تفتیش کے دوران یہ بھی پتہ چلا کہ گرفتار کیے گئے بعض دیگر ساتھی کشمیر میں مقیم ہیں اور وہ داعش کی زمینی اور میڈیا سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ آہنگر 1990 کی دہائی کے وسط میں پاکستان چلے گئے تھے اور مختلف دہشت گرد تنظیموں جیسے کہ ٹی یو ایم ، اے کیو ، 313 بریگیڈ کے ساتھ وہ آخر کار داعش میں شامل ہو گیا۔ وہ اپنے داماد امیر سلطان کے ساتھ آئی ایس آئی ایس کے لیے سب سے زیادہ بدنام زمانہ بھرتی کرنے والے تھے اور تمام ہندوستان سے متعلق کارروائیوں کو سنبھالتے تھے۔

      اعزاز آہنگر کی ہدایات پر عمر نثار نے مختلف دھڑوں سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کو آئی ایس آئی ایس/آئی ایس جے کے میں شامل ہونے کی ترغیب دی۔ عمر نثار نے ستمبر 2017 میں پلوامہ کے جنگلوں میں داعش کے ساتھ ایک بیعت کا اہتمام کیا۔ برہان موسیٰ ، عیسا فاضلی ، موگیس میر جیسے سرگرم عسکریت پسندوں نے حصہ لیا۔ زمینی طور پر وہ بھرتی ، فنڈز حاصل کرنے ، فعال ISJK عسکریت پسندوں کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے، ہتھیاروں کا بندوبست کرنے وغیرہ میں شامل تھا۔ وہ بنگلہ دیش اور مالدیپ میں اپنے ہم منصبوں سے بھی رابطے میں تھے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: