உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کرانے سے کترا رہی ہے بی جے پی: عمرعبداللہ کا الزام

    نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج نریندر مودی کی زیرقیادت حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت کشمیر میں حالات ٹھیک کرنے میں بری طرح سے ناکام ہو رہی ہے۔ انہوں نے جموں وکشمیر میں قبل از وقت اسمبلی انتخابات کے انعقاد کا بھی مطالبہ کیا اور الزام لگایا کہ حد بندی کمیشن کی رپورٹیں بی جے پی کی ہدایت پر تیار کی گئی ہیں۔

    نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج نریندر مودی کی زیرقیادت حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت کشمیر میں حالات ٹھیک کرنے میں بری طرح سے ناکام ہو رہی ہے۔ انہوں نے جموں وکشمیر میں قبل از وقت اسمبلی انتخابات کے انعقاد کا بھی مطالبہ کیا اور الزام لگایا کہ حد بندی کمیشن کی رپورٹیں بی جے پی کی ہدایت پر تیار کی گئی ہیں۔

    نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج نریندر مودی کی زیرقیادت حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت کشمیر میں حالات ٹھیک کرنے میں بری طرح سے ناکام ہو رہی ہے۔ انہوں نے جموں وکشمیر میں قبل از وقت اسمبلی انتخابات کے انعقاد کا بھی مطالبہ کیا اور الزام لگایا کہ حد بندی کمیشن کی رپورٹیں بی جے پی کی ہدایت پر تیار کی گئی ہیں۔

    • Share this:
    سری نگر: نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج نریندر مودی کی زیرقیادت حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت کشمیر میں حالات ٹھیک کرنے میں بری طرح سے ناکام ہو رہی ہے۔ انہوں نے جموں وکشمیر میں قبل از وقت اسمبلی انتخابات کے انعقاد کا بھی مطالبہ کیا اور الزام لگایا کہ حد بندی کمیشن کی رپورٹیں بی جے پی کی ہدایت پر تیار کی گئی ہیں۔

    عمر عبداللہ نے الزام لگایا کہ ’’بی جے پی معاشی محاذ پر اپنی ناکامیوں سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے مقصد سے مندر مسجد کا مسئلہ اٹھا رہی ہے۔‘‘ عمر عبداللہ نے آج جموں میں پارٹی ہیڈ کوارٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ تبصرہ کیا۔

    نیشنل کانفرنس کے پارٹی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد آج جموں میں پارٹی ہیڈکوارٹر پرجمع ہوئی۔ یہ موقع پارٹی کے نائب صدر عمر عبداللہ کے استقبال کا تھا، جنہوں نے کل راجوری پونچھ کے دورے کا اختتام کیا۔

    پارٹی ہیڈکوارٹر کے اپنے مختصر دورے کے دوران، عمر عبداللہ نے پارٹی ہیڈ کوارٹر میں پارٹی کے نئے بنائے گئے میڈیا اینڈکمیونی کیشن ونگ کے دفتر کا افتتاح کیا۔ بعد میں عمر عبداللہ نے پارٹی کارکنوں سے خطاب کیا، جہاں انہوں نے مرکزی سرکار اور جموں وکشمیر گورنر انتظامیہ پر الزام لگایا کہ یہ جموں وکشمیر میں لا اینڈ آرڈر برقرار رکھنے میں ناکام ہوئی ہے جبکہ لوگوں کو بہت زیادہ امید تھی کہ یہ سرکار جموں وکشمیرکی بہتری کے لئے کام کرے گی۔

    عمر عبداللہ نے کہا کہ "ٹارگٹ کلنگ میں اضافہ ہو رہا ہے اور وادی میں عسکریت پسندی واپس آ گئی ہے، مرکز کیسے کہہ سکتا ہے کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد حملوں میں کمی آئی ہے؟ جبکہ زمینی سطح پہ ایسا کچھ بھی دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے“۔

    نیشنل کانفرنس لیڈر نے ’کشمیر فائلز‘ فلم کے اوپرتنقید کرتے ہوئے کہا ”فلم نے کچھ اچھا نہیں کیا ہے، بلکہ صرف وادی کی صورتحال کو خراب کیا ہے۔ اس فلم نے کشمیر کے بھائی چارہ پرایک داغ لگا دیا ہے جبکہ آج بھی کئی مسلمان خاندان کشمیری پنڈتوں کے جانے کے بعد کشمیری پنڈتوں کے مندروں کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ عمرعبداللہ نے مطالبہ کیا کہ جموں وکشمیر میں فوری طور پر انتخابات کرا دینا چاہئے“۔ انہوں نے کہا ’اگر مرکزی حکومت جموں وکشمیر میں انتخابات نہیں کراتی ہے تو اس کا مطلب صاف ہے کہ جموں وکشمیر میں حالات ٹھیک نہیں ہیں اور مرکزی سرکار جموں وکشمیر میں معمولات بحال کرنے میں ناکامیاب رہی ہے۔ “

    وارانسی (اترپردیش) میں گیان واپی مسجد کے معاملے پر جاری تنازعہ پر جب عمر عبداللہ سے پوچھا گیا تو جواب میں  انہوں نے کہا کہ اسے بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت کی طرف سے مہنگائی کو روکنے یا بے روزگاری کے مسئلے کو ختم کرنے میں ناکامی سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا اورکہا کہ بی جے پی 1990 کی دہائی میں اجودھیا بابری مسجد کے انہدام کے بعد اس طرح کے مسائل نہ اٹھانے کے اپنے وعدے کو بھول گئی ہے۔

    عمر عبداللہ سے جے ایم سی کی طرف سے منظور کردہ حالیہ قرارداد کے بارے میں جب پوچھا گیا، جس میں کہا گیا ہے مذہبی مقامات پر غیر قانونی لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی لگانے کی بات کی گئی ہے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ بہتر ہے کہ دو فرقوں کے لوگوں کے درمیان بات چیت کے ذریعہ ان حساس مسائل کا پُرامن حل تلاش کیا جائے۔

    عمر عبداللہ نے ایک بار پھر حد بندی کمیشن کی سفارش کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ یہ سفارشات حکمران جماعت کے کہنے پر کی گئی ہیں۔  انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کے دور افتادہ علاقوں میں لوگ بنیادی سہولیات کے لئے مشکلات کا شکار ہیں اور موجودہ حکومت عوام کے لئے کچھ بھی بہتر کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ متحد ہو جائیں اور پارٹی کو گراس روٹ لیول پر مضبوط کریں۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: