ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر اراضی مالکانہ حقوق قوانین میں ترمیم ناقابل قبول: عمر عبداللہ

نیشنل کانفرنس کے نائب صدر و سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مرکزی حکومت کی طرف سے جموں و کشمیر اراضی مالکانہ حقوق قوانین میں ترمیم کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کی اراضی کو فروخت کیا جا رہا ہے اور جن لوگوں کے پاس تھوڑی بہت اراضی ہے وہ زیادہ متاثر ہونے والے ہیں۔

  • UNI
  • Last Updated: Oct 27, 2020 06:29 PM IST
  • Share this:
جموں و کشمیر اراضی مالکانہ حقوق قوانین میں ترمیم ناقابل قبول: عمر عبداللہ
جموں و کشمیر اراضی مالکانہ حقوق قوانین میں ترمیم ناقابل قبول: عمر عبداللہ

سری نگر: نیشنل کانفرنس کے نائب صدر و سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مرکزی حکومت کی طرف سے جموں و کشمیر اراضی مالکانہ حقوق قوانین میں ترمیم کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کی اراضی کو فروخت کیا جا رہا ہے اور جن لوگوں کے پاس تھوڑی بہت اراضی ہے وہ زیادہ متاثر ہونے والے ہیں۔ واضح رہے کہ مرکزی وزارت داخلہ نے منگل کو جموں و کشمیر اور لداخ میں زمین سے متعلق قوانین نوٹیفائی کئے، جن کی رو سے ملک کا کوئی بھی شہری یہاں زمین خرید سکتا ہے۔ تاہم قوانین میں کہا گیا ہے کہ زرعی زمین صرف اور صرف زرعی مقاصد کے لئے ہی استعمال ہوگی۔

اس فیصلے کے ردعمل میں عمر عبداللہ نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا: 'جموں و کشمیرکے اراضی مالکانہ حقوق قوانین میں ترمیم نا قابل قبول ہے، غیر زرعی اراضی اور زرعی اراضی کی منتقلی کو آسان بناکرڈومیسائل کو بھی ختم کیا گیا ہے۔ جموں وکشمیر سیل پر ہے، غریب لوگ جن کے پاس تھوڑی بہت زمین ہے زیادہ متاثر ہوں گے'۔



سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنے ایک اور ٹویٹ میں کہا: 'دلچسپ بات یہ ہے کہ مرکزی حکومت نے اس حکم نامے کو جاری کرنے کے لئے لداخ خود مختار پہاڑی ترقیاتی کونسل لیہہ کے انتخابات کے ختم ہونےکا انتظارکیا اور بی جے پی نے بیشتر سیٹیں جیت کر لداخ کو سیل پر رکھ دیا۔ یہ لداخی عوام کو بی جے پر بھروسہ کرنےکا صلہ ہے'۔



دریں اثنا عمر عبداللہ نے اپنے ایک بیان میں جموں وکشمیر میں اراضی ملکیت قانون میں ترمیم کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہےکہ غیر زرعی اراضی کی خریداری اور زرعی اراضی کی منتقلی کو آسان بنا کر جموں وکشمیرکو اب فروخت کرنے کے لئے رکھا گیا ہے، جو غریبوں اور کم اراضی رکھنے والے عوام کے لئے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہند نے نئے متعارف کئے قوانین میں ڈومیسائل کی صورت میں رکھی گئی تھوڑی سی رعایت کا بھی خاتمہ کیا ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ حد تو یہ ہےکہ بی جے پی نے لداخ ہل ڈیولپمنٹ انتخابات کے نتائج آنےکا انتظارکیا اور ان انتخابات میں جیت حاصل کرنےکے دوسرے ہی دن لداخ کو فروخت کرنے کے لئے رکھ دیا۔ لداخیوں کو بی جے پی کی یقین دہانیوں پر بھروسہ کرنے کا یہی صلہ ملا۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کی اراضی کو اس طرح سے فروخت کے لئے رکھنا اُن آئینی یقین دہانیوں اور معاہدوں سے انحراف کرنا ہے جو جموں و کشمیر اور یونین انڈیا کے درمیان رشتوں کی بنیاد ہیں۔ یہ اقدامات اُس بڑے منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد کشمیر کی شناخت، انفرادیت اور اجتماعیت کو ختم کرنا ہے۔
نئے اراضی قوانین کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے این سی نائب صدر نے کہا کہ یہ سارے اقدامات تنظیم نو ایکٹ 2019 کے تحت کئے جا رہے ہیں، جو جمہوری اور آئینی اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے عمل میں لایا گیا تھا اور اس دوران تینوں خطوں کے عوام کی ناراضگی اور تحفظات کا بھی پاس ولحاظ نہیں رکھا گیا، جو پہلے سے ہی اس اقدام کو آبادیاتی تناسب بگاڑنے کی سازش سمجھ رہے تھے۔ ایسے اقدامات سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ نئی دلی کو جموں وکشمیر کے لوگوں کے احساسات اور جذبات کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں بلکہ ان کو یہاں کی زمین کے ساتھ مطلب ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کو آئین ہند سے جو حقوق حاصل ہوئے تھے وہ ایک ملک نے جموں وکشمیر کے عوام کیساتھ وعدے کئے تھے اور ان آئینی گارنٹیوں اور وعدوں سے انحراف کرکے بی جے پی جموں و کشمیر سے زیادہ اپنے ملک کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Oct 27, 2020 06:10 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading