ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں وکشمیر کےسابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا بڑا مطالبہ- شوپیاں فرضی تصادم کے ملوثین کو عملی طور پر دی جائے سزا

نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے شوپیاں مبینہ فرضی تصادم میں مارے جانے والے راجوری کے تین مزدوروں کی بارہمولہ میں دفن کی جانے والی لاشوں کو لواحقین کے سپرد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Sep 25, 2020 10:56 PM IST
  • Share this:
جموں وکشمیر کےسابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا بڑا مطالبہ- شوپیاں فرضی تصادم کے ملوثین کو عملی طور پر دی جائے سزا
جموں وکشمیر کےسابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا بڑا مطالبہ- شوپیاں فرضی تصادم کے ملوثین کو عملی طور پر دی جائے سزا

سری نگر: نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے شوپیاں مبینہ فرضی تصادم میں مارے جانے والے راجوری کے تین مزدوروں کی بارہمولہ میں دفن کی جانے والی لاشوں کو لواحقین کے سپرد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔کشمیر زون پولیس کے انسپکٹر جنرل وجے کمار نے کہا ہے کہ جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں میں رواں برس 18 جولائی کو ہونے والے مبینہ فرضی تصادم کی تحقیقات کے سلسلے میں لواحقین سے لئے گئے ڈی این اے نمونے اس تصادم میں مارے گئے تین نوجوانوں کے ڈی این اے سے میچ کرگئے ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آئی جی پی وجے کمارکے اس بیان کے تناظر میں اپنے ایک ٹویٹ میں کہا: 'ان نوجوانوں کو شمالی کشمیر میں کہیں دفن کیا گیا تھا۔ ضروری ہے کہ ان کی قبر کشائی کرکے لاشوں کو لواحقین کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ انہیں راجوری میں اپنے مقامی قبرستانوں میں دفن کرسکیں'۔


انہوں نے اپنے ایک اور ٹویٹ میں کہا: 'جموں وکشمیر پولیس نے اب اس بات کی تصدیق کی ہے، جس کا مہلوک نوجوانوں کے لواحیقن کافی وقت سے دعویٰ کر رہے تھے۔ تین معصوم نوجوانوں کو ایک انکاؤنٹر میں ہلاک کرکے دہشت گرد قرار دیا گیا۔ یہ لوگ کیوں نہیں سیکھتے ہیں، مژھل، پتھری بل اور دیگر ایسے فرضی انکاؤنٹرس سے لوگوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے اور وہ مزید دور ہوگئے ہیں'۔


نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے شوپیاں مبینہ فرضی تصادم میں مارے جانے والے راجوری کے تین مزدوروں کی بارہمولہ میں دفن کی جانے والی لاشوں کو لواحقین کے سپرد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے شوپیاں مبینہ فرضی تصادم میں مارے جانے والے راجوری کے تین مزدوروں کی بارہمولہ میں دفن کی جانے والی لاشوں کو لواحقین کے سپرد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔


دریں اثنا عمر عبداللہ نے اپنے ایک تحریری بیان میں شوپیاں مبینہ فرضی تصادم میں 3 معصوم اور بے گناہ نوجوانوں کو دہشت گرد جتلا کر موت کے گھاٹ اتارنے کے حقائق سامنے آنے پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مژھل، پتھری بل اور دیگر فرضی انکاﺅنٹروں سے آج تک سبق حاصل کیوں نہیں کیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ایسے گھناونے اقدامات عوامی اعتماد اور بھروسہ تہس نہس کردیتے ہیں اور لوگوں کو سسٹم سے الگ تھلگ کردیتے ہیں۔


عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس نے اس بات کی تصدیق کی ہے، جس کا دعویٰ شوپیاں میں فرضی انکاﺅنٹر کے دوران مارے گئے 3 معصوم نوجوانوں کے اہل خانہ کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ انکاﺅنٹر کے روز اس بات کا دعویٰ کیا گیا تھا کہ تصادم آرائی کی جگہ سے بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود اور مواد برآمد کیا گیا۔ یہاں یہ سوال جنم لیتا ہےکہ یہ مواد وہاں کس نے رکھا تھا؟ نیشنل کانفرنس کے نائب صدر نے کہا کہ ان بدنصیب نوجوانوں کو شمالی کشمیر میں کہیں دفن کیا گیا ہے۔ یہ بات لازمی ہے کہ قبرکشائی کرکے ان کی لاشوں کو نکال کرفوری طور پر اہل خانہ کےحوالے کیا جائے تاکہ وہ اپنے لخت جگروں کو آبائی علاقے میں اپنے گھروں کے قریب تدفین کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ فوج نے بھی اپنی تحقیقات رپورٹ میں اس بات کا اعتراف کیا ہےکہ فوجیوں نے امشی پورہ انکاﺅنٹر کے دوران خصوصی اختیارات سے تجاوزکیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہرکی کہ خاطیوں کو عملی طور پر سزا دی جائے گی اور ماضی میں ایسے واقعات میں ملوث فوجیوں کو سزا نہ دینے کی ریت کو نہیں دہرایا جائے گا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Sep 25, 2020 09:34 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading