உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جانوروں سے انسانوں میں پھیل رہا ہے RVF وائرس، کشمیری سائنسداں کی کھوج سے اس کے علاج کی امید

    وائرس

    وائرس

    اس بیماری کی وجہ سے جانوروں میں خون بہنا شروع ہو جاتا ہے اور کئی صورتوں میں یہ جان لیوا بھی ثابت ہوتا ہے۔ یہ جانوروں کے خون، جسمانی رطوبتوں اور tissues کے ذریعے انسانوں میں پھیلتا ہے۔

    • Share this:
      سری نگر: ایک ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں کورونا وائرس نے تہلکہ مچا رکھا ہے، سائنسدانوں نے جانوروں سے انسانوں میں پھیلنے والے ایک اور وائرس کے بارے میں بڑی کھوج کی ہے۔ یہ رفٹ ویلی وائرس Rift Valley Virus (RVF) ہے۔ اگرچہ یہ بنیادی طور پر گائے، بھینس، بھیڑ، بکری جیسے جانوروں میں پھیلنے والی بیماری ہے لیکن اس کے انسانوں کو متاثر کرنے کے کیسز دیکھے گئے ہیں۔ اب سائنسدانوں نے یہ پتہ لگا لیا ہے کہ یہ وائرس جسم کو کیسے متاثر کرتا ہے۔ اس کھوج سے امید پیدا ہوئی ہے کہ جلد ہی اس وائرس کو توڑ بنایا جا سکے گا۔

      اگرچہ رفٹ ویلی وائرس یعنی آر وی ایف Rift Valley Virus کے زیادہ تر کیسز افریقی ممالک میں رپورٹ ہوئے ہیں لیکن عالمی ادارہ صحت نے اسے ان بیماریوں کی فہرست میں رکھا ہے جو قریب مستقبل میں وبا کی شکل اختیار کر سکتی ہیں۔ اس بیماری کی وجہ سے جانوروں میں خون بہنا شروع ہو جاتا ہے اور کئی صورتوں میں یہ جان لیوا بھی ثابت ہوتا ہے۔ یہ جانوروں کے خون، جسمانی رطوبتوں اور tissues کے ذریعے انسانوں میں پھیلتا ہے۔ جب مچھر کسی متاثرہ جانور کو کاٹتا ہے اور پھر انسان کو کاٹتا ہے تو یہ وائرس اس کے ذریعے انسانوں تک پہنچ جاتا ہے۔ دی اسٹار کی ایک رپورٹ کے مطابق افریقہ میں اس RVF بیماری کی وجہ سے حاملہ خواتین میں اسقاط حمل کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔ ان میں قبل از وقت بچے کی پیدائش ہو رہی ہے۔ خواتین میں اسقاط حمل کا خطرہ 4.5 گنا بڑھ گیا ہے۔

      کشمیر میں کئی اسکولی بچے بیمار، موسمی Flu سے بیماری لیکن کووڈ کا بھی ہے کنکشن

      خبر رساں ایجنسی اے این آئی ANI کی ایک رپورٹ کے مطابق، اب جموں و کشمیر کے ماہر وائرولوجسٹ ڈاکٹر صفدر گنئی نے پتہ چلا ہے کہ یہ وائرس کیسے کام کرتا ہے۔ امریکہ میں سائنسدانوں کی ایک ٹیم کے ساتھ کام کرتے ہوئے ڈاکٹر صفدر نے مشاہدہ کیا کہ یہ وائرس ایک پروٹین LRP1 کے ذریعے انسانی خلیوں تک پہنچتا ہے۔ اس پروٹین کا کام عام طور پر کم کثافت والے لیپو پروٹینز کو ہٹانا ہوتا ہے، جو خون میں خراب کولیسٹرول کو منتقل کرنے کا کام کرتے ہیں۔ اس حوالے سے مکمل رپورٹ سائنس میگزین سیل میں شائع ہوئی ہے۔

      Covid 19 : پہلے ہی دن79لاکھ سے زیادہ لوگوں نے کرایا کوروناویکسین کیلئے رجسٹریشن



      یہ بھی پڑھیں: جموں کشمیر میں Covid-19 کی شرح پہنچی صفر پر لیکن ماہرین نے محتاط رہنے کا دیا مشورہ

      سری نگر سے شائع ہونے والی ایک میگزین کشمیر لائف کا حوالہ دیتے ہوئے اے این آئی نے بتایا کہ اس کھوج سے یہ سمجھنے میں مدد ملی ہے کہ یہ وائرس کیسے کام کرتا ہے۔ اس سے سائنسدانوں کو اس وائرس کا علاج تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔ یہ تحقیق یونیورسٹی آف پٹسبرگ، یونیورسٹی آف ٹورنٹو، ہارورڈ یونیورسٹی اور ایم آئی ٹی کے سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر کی ہے۔ اس ٹیم میں ڈاکٹر صفدر بھی شامل ہیں جنہوں نے کشمیر یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری لی۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: