உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر میں اپنی نوعیت کا خرگوش فارم ضلع بارہمولہ پٹن کے وسن میں قائم

    جموں وکشمیر میں اپنی نوعیت کا  خرگوش فارم ضلع بارہمولہ پٹن کے وسن میں قائم ہے۔ اس طر ح کےمزید خرگوش فارم کےقیام سے بے روزگار نوجوان روزگار کے مواقع حاصل کرسکتے ہیں۔

    جموں وکشمیر میں اپنی نوعیت کا  خرگوش فارم ضلع بارہمولہ پٹن کے وسن میں قائم ہے۔ اس طر ح کےمزید خرگوش فارم کےقیام سے بے روزگار نوجوان روزگار کے مواقع حاصل کرسکتے ہیں۔

    جموں وکشمیر میں اپنی نوعیت کا  خرگوش فارم ضلع بارہمولہ پٹن کے وسن میں قائم ہے۔ اس طر ح کےمزید خرگوش فارم کےقیام سے بے روزگار نوجوان روزگار کے مواقع حاصل کرسکتے ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu and Kashmir, India
    • Share this:
    جموں وکشمیر میں حکومت کے زیر انتظام اپنی نوعیت کا واحد خرگوش فارم شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ پٹن کے وسن میں قائم ہے۔ ایک سو پندرہ کنال اراضی پر مشتمل اس فارم میں دوہزار کے قریب خرگوش پالے جاتے ہیں۔ جن کے پالنے کےلئے ایک درجن کے قریب شیڈ موجود ہیں۔ اس فارم کا قیام انیس سو اناسی میں ہواتھا۔اس فارم میں سرکاری  یعنی متعلقہ محکمہ کے ملازمین ان کی دیکھ بال اور پالن کے لئے اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔اس فارم میں مختلف ممالک کے مختلف نسلوں کے مختلف اقسام کے خرگوش پالے جاتے ہیں۔ ان میں انگورا جرمن،فرنچ ،کیلفورنیا وائٹ،نیوزلینڈ وائٹ،سوویت چنچیلا،بلیک براؤن وغیرہ کے خرگوش قابل ذکر ہیں۔خاص بات یہ ہے کہ ایک ماہ کے بعد ہی خرگوش بچوں کو جنم دیتے ہیں۔ان سے تقریباً دس سے زیادہ بچے پیدا ہوتے ہیں۔

    خرگوش سے مرغے سے زیادہ گوشت بھی حاصل ہوتاہے۔یہ خرگوش گھاس کے ساتھ ساتھ کوئی بھی سبزی کھاتے ہیں ایسے میں ان کو پالنا کافی آسان ہوتاہے۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر،شیپ ہسبنڈری ڈیپارٹمنٹ بارہمولہ ڈاکٹر شیخ عشرت محمود نے نیوز18جموں وکشمیر کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا محکمہ ان خرگوشوں کی اچھی طرح دیکھ بال کرتے ہیں۔اور ان کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتاہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق خرگوش کا گوشت انسانی صحت کے لیے کافی مفید ہے خاص کر ڈائی بٹیز، بلڈ پریشر ،چھاتی کی خرابی، ہڈیوں کے درد اور جلد کی بیماری کے لئے اسے کافی مفید مانا جاتاہے۔

    ڈاکٹروں کا یہ بھی ماننا ہے اگر لوگ دوسرے گوشت کے بجائے خرگوش کا گوشت استعمال کرتے ہیں تو وہ مختلف بیماریوں سے بچ سکتے ہیں۔ شیپ ہسبنڈری ڈیپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر شیخ عشرت محمودکا بھی کہناہے کہ مختلف بیماریوں سے بچنے کے لئےخوگوش کے گوشت کو ہم دیگر گوشت کے متبادل استعمال کرسکتے ہیں۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر،شیپ ہسبنڈری ڈیپارٹمنٹ بارہمولہ ڈاکٹر شیخ عشرت محمود نے کہاکہ کافی مریض یہاں آتے ہیں اور یہاں سے خرگوش حاصل کرتے ہیں۔جموں وکشمیر میں جہاں بے روزگاری بڑھتی جارہی ہے اس کے چلتے بے روزگار نوجوان خرگوش پالنے کے یونٹس کھڑا کرکے اپنا روزگار حاصل کرسکتے ہیں۔



    اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر عشرت کے مطابق بے روزگار نوجوان ایک قلیل رقم میں خرگوش پالنے کے یونٹس قائم کرکے ایک اچھی خاصی بزنس شروع کرسکتے ہیں۔ خرگوش کی قیمت بہت ہی قلیل ہوتی ہے۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر،شیپ ہسبنڈری ڈیپارٹمنٹ بارہمولہ ڈاکٹر شیخ عشرت محمود نے نیوز18جموں وکشمیر کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ خرگوش قلیل رقم میں کوئی بھی پال سکتے ہیں اور اگر بے روزگار نوجوان خرگوش پالنے کے اپنے یونٹس کھڑا کرسکتے ہیں اس میں انہیں بہت ہی کم رقم کی ضرورت پڑتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جموں وکشمیر میں اس طرح کے مزید خرگوش فارموں کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ روزگار کے وسائل حاصل ہوسکیں۔ توقع یہی ہے کہ آنے والے دنوں میں جموں وکشمیر میں خرگوش پالنے کے سلسلے میں اضافہ ہو۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: