உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

     جموں۔کشمیر: شوپیاں ضلع میں انکاؤنٹر، ایک دہشت گرد ڈھیر، آپریشن جاری

    Shopian Encounter:  پولیس کے مطابق جب سکیورٹی فورسز ایک مخصوص علاقے کی طرف بڑھ رہے تھے تو وہاں چھپے دہشت گردوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔ سیکورٹی فورسز نے بھی جوابی کارروائی کی جس کے بعد تصادم شروع ہوا۔

    Shopian Encounter: پولیس کے مطابق جب سکیورٹی فورسز ایک مخصوص علاقے کی طرف بڑھ رہے تھے تو وہاں چھپے دہشت گردوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔ سیکورٹی فورسز نے بھی جوابی کارروائی کی جس کے بعد تصادم شروع ہوا۔

    Shopian Encounter: پولیس کے مطابق جب سکیورٹی فورسز ایک مخصوص علاقے کی طرف بڑھ رہے تھے تو وہاں چھپے دہشت گردوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔ سیکورٹی فورسز نے بھی جوابی کارروائی کی جس کے بعد تصادم شروع ہوا۔

    • Share this:
      سری نگر۔ اس وقت جموں و کشمیر کے شوپیاں میں دہشت گردوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان تصادم   (Shopian Encounter)  جاری ہے۔ اس انکاؤنٹر میں اب تک ایک دہشت گرد مارا گیا ہے۔ جبکہ آپریشن اب تک  جاری ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ یہ انکاؤنٹر جمعرات کی دیر شام شروع ہوا تھا۔ پولیس ترجمان کے مطابق دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع ملی تھی۔ اس کے بعد سیکورٹی فورسز نے شوپیاں کے ترکوانگم گاؤں میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی شروع کی تھی۔

      پولیس کے مطابق جب سکیورٹی فورسز ایک مخصوص علاقے کی طرف بڑھ رہے تھے تو وہاں چھپے دہشت گردوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔ سیکورٹی فورسز نے بھی جوابی کارروائی کی جس کے بعد تصادم شروع ہوا۔

      مسلسل ہورہے ہیں حملے
      اس سے پہلے پیر کو جموں و کشمیر کے شوپیاں ضلع میں دہشت گردوں نے سیکورٹی فورسز کے کیمپ پر گرینیڈ سے حملہ کیا۔ دہشت گردوں نے شام 7.30 بجے کے قریب شوپیاں کے امام صاحب علاقے میں جموں و کشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ (SOG) کیمپ پر گرینیڈ پھینکا۔ دہشت گردوں کی جانب سے پھینکا گیا  گرینیڈ کیمپ کے باہر پھٹا تھا، اس لیے اس میں کوئی نقصان نہیں ہوا تھا۔



      لشکر طیبہ کے دو دہشت گرد مارے گئے تھے
      اس ہفتے، بدھ کے روز جموں و کشمیر کے ریناواری علاقے میں سیکورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان ایک تصادم میں لشکر طیبہ کے دو دہشت گرد مارے گئے تھے۔ سیکورٹی فورسز نے آدھی رات کو علاقے کو گھیرے میں لے کر تلاشی آپریشن شروع کیا تھا، جس کے بعد وہاں انکاؤنٹر شروع ہوگہا۔ مارے گئے دہشت گردوں میں سے ایک کے پاس 'میڈیا  کا شناختی کارڈ' تھا۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: