உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Jammu and Kashmir: آرٹیکل 370 کی منسوخی کے 3 سال مکمل ہونے پر اپوزیشن نے مودی حکومت کو گھیرا

    لوک سبھا میں تعطل ختم، 4 اراکین پارلیمنٹ کی معطلی واپس

    لوک سبھا میں تعطل ختم، 4 اراکین پارلیمنٹ کی معطلی واپس

    تین سال قبل آج ہی کے دن ہندوستان کی پارلیمنٹ نے جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو منسوخ کرکے اسے مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں جموں کشمیر اور لداخ میں تقسیم کیا۔ علاقائی سیاسی جماعتوں نے مرکزی سرکار کے اس فیصلے کی یہ کہہ کر مخالفت کی کہ اس قدم سے جموں و کشمیر کے لوگوں کے حقوق چھین لئے گئے ہیں۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر: تین سال قبل آج ہی کے دن ہندوستان کی پارلیمنٹ نے جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو منسوخ کرکے اسے مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں جموں کشمیر اور لداخ میں تقسیم کیا۔ علاقائی سیاسی  جماعتوں نے مرکزی سرکار کے اس فیصلے کی یہ کہہ کر مخالفت کی کہ اس قدم سے جموں و کشمیر کے لوگوں کے حقوق چھین لئے گئے ہیں۔  تاہم مرکزی سرکار کا کہنا تھا کہ اس قدم سے جموں و کشمیر کے عوام کے ان حقوق کو بحال کیا جائے گا جن سے وہ آج تک محروم رکھے گئے تھے۔ دفعہ 370 اور 35 اے کی منسوخی عمل میں لانے کے وقت مرکزی سرکار نے کہا کہ یہ دفعات جموں و کشمیر کی مجموعی ترقی میں شدید رکاوٹ کا باعث بنے تھے کیونکہ دفعہ 370 کی وجہ سے عوام کے مفادات والی کئی سکیمیں جموں و کشمیر میں لاگو نہیں ہو پارہی تھیں۔

    دفعہ 370 کی منسوخی کے تین برس مکمل ہونے پر جموں و کشمیر بی جے پی کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے  جموں و کشمیر کے عوام بلخصوص قبائیلی طبقوں اور مغربی پاکستان سے آئے ہوئے پناہ گزینوں کو سیاسی اختیارات حاصل ہوپائے ہیں۔ پارٹی کے جموں و کشمیر کے صدر رویندر رینہ کا کہنا ہے کہ خصوصی پوزیشن کی منسوخی سے گزشتہ تین برسوں میں جموں وکشمیر میں ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوچکا ہے۔

    نیوز 18 اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا : یہاں کی کچھ سیاسی پارٹیاں دفعہ تین سو ستھر کی آڑ میں غریبوں کا خون چوستی تھیں کیونکہ دفعہ 370 کی وجہ سے کئی قانون یہاں نافز نہیں کئے جاسکتے تھے اور غریب عوام کو 370 کے نام پر ڈرایا اور دھمکایا جارہا تھا۔ آج ان پر شکنجہ کسا جارہا ہے۔

    دفعہ 370 منسوخ کئے جانے کے تین سال مکمل ہونے پر جموں و کشمیر کے عوام بلا لحاظ ومذہب وخطہ راحت محسوس کر رہے ہیں۔ مرکزی حکومت کے تمام قانون اور سکیمیں جموں وکشمیر میں لاگو ہوچکی ہیں اور اس کا فائدہ یہاں کے عام لوگوں کو مل رہا ہے:
    وہیں دوسری جانب حذب اختلاف کی جماعتیں  سرکار پرالزام لگا رہی ہیں کہ وہ دفعہ 370 کی منسوخی کے وقت لوگوں کے ساتھ کئے گئے وعدے پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ پردیش کانگریس کے صدر جی اے میر کا کہنا ہے کہ سرکار نے اس وقت نوجوانوں کو یہ بھروسہ دلایا تھا کہ خصوصی پوزیشن ختم کئے جانے سے ان کےلئے روزگار کے نئے وسائل پیدا ہوں گے۔ تاہم نوکریاں تو دور سرکار یومیہ اُجرت پر کام کرنے والے ملازمین کی نوکریاں مستقل کرنے میں بھی ناکام رہی ہے، جس کے باعث ہزاروں کی تعداد میں ملازمین اور بے روزگار نوجوان احتجاج کرنے کے لئے سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ جی اے میر کا کہنا ہے: حکومت نے پانچ اگست 2019 کو عوام کے سامنے بڑے دعوے کئے تھے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے، لیکن جب سے جموں وکشمیرکے ریاست کے درجے کو ختم کردیا گیا اور ہماری خصوصی پوزیشن ختم کی گئی اور یہ کہا گیا کہ اب جموں وکشمیر ترقی کی راہ پر چل رہا ہے۔ امن اور خوشحالی لوٹ آرہی ہے، لیکن زمینی حقیقت اسکے برعکس ہے۔ ہمارے وہ نوجوان جنہوں نے اپنی زندگی کے قیمتی سال مختلف محکموں میں بطور ڈیلی ویجرس خدمات انجام دیتے ہوئے گزاریں انکی نوکریاں مستقل کرنے کے بجائے انہیں احتجاج کے لئے مجبور کیا جارہا ہے اور یہی حال دیگر شعبوں میں بھی ہے۔
    نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر رتن لعل گُپتا کا کہنا ہے کہ پچھلے تین برسوں میں جموں و کشمیر ترقی کے میدان میں آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے جاچکا ہے۔ نیوز ایٹین اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے رتن لعل گُپتا نے کہا : جو سبز باغ انہوں نے دکھانے کی کوشش کی تھی ایک بھی وعدہ پورا نہیں ہوا۔ زمینی سطح پر لوگ بی جے پی سے ناراض ہیں کیونکہ گزشتہ تین برسوں میں بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے جسکی وجہ سے نوجوان سب سے زیادہ مایوس ہیں: پی ڈی پی کے سینیر لیڈر راجیندر سنگھ منہاس کا کہنا ہے کہ  ریاست کی خصوصی پوزیشن کو منسوخ کرکے بی جے پی نے جموں و کشمیر کے عوام کے سیاسی حقوق پر شب  وخون مارا ہے۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    جموں وکشمیر: خصوصی پوزیشن کا درجہ منسوخ کئے جانے کے تین سال مکمل، حکومت نے کیا یہ بڑا دعویٰ
    سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دفعہ 370 اور 35 اے کی منسوخی کے بعد جموں وکشمیر میں ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوچکا ہے۔ نامور سیاسی ماہر پرکھشت منہاس کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین برسوں میں  ملک اور بیرون ملک کے سرمایہ کاروں نے جموں وکشمیر میں سرمایہ کاری کرنے کی حامی بھرلی ہے، جس سے یوٹی میں نہ صرف صنعتی ترقی پروان چڑھے گی بلکہ بے روزگار نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع بھی فراہم ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ زمینی سطح پر ابھی اس کے نتائج سامنے نہیں آئے ہیں، تاہم آنے والے آٹھ سے دس برسوں میں یہ نتیجے لوگوں کے سامنے ہوں گے۔

    اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے لگائے جارہے الزامات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں پرکھشت منہاس نے کہا: حزب مخالف جماعتوں کا ہمیشہ یہ رویہ ہوتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی مدعے پر سرکار کی نکتہ چینی کریں اور اس معاملے پر بھی ایسا ہی ہورہا ہے۔ اپوزیشن کا یہ الزام کہ پانچ اگست دو ہزار اُنیس کو لئے گئے فیصلے سے عام لوگ خوش نہیں ہیں بلکل غلط ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کو چاہئیے کہ وہ زمینی سطح پر لوگوں کے ساتھ بات چیت کرکے فیڈ بیک حاصل کریں تبھی وہ اسبارے میں صیح فیصلہ کرسکتےہیں: سیاسی ماہرین مانتے ہیں کہ اس فیصلے کی مخالفت کرنے سے حزب اختلاف کو سیاسی طور پر زیادہ فائیدہ حاصل نہیں ہوسکتا۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: