உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    غیرکشمیری مزدوروں کو منتقل کرنےسے متعلق پولیس نے نہیں دیا کوئی حکم: جموں وکشمیرپولیس

    کشمیر زون پولیس نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر کہا ، 'دہشت گردوں نے کولگام کے وانپوہ علاقے میں غیر مقامی مزدوروں پر اندھا دھند فائرنگ کی۔

    کشمیر زون پولیس نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر کہا ، 'دہشت گردوں نے کولگام کے وانپوہ علاقے میں غیر مقامی مزدوروں پر اندھا دھند فائرنگ کی۔

    یہ بھی دعویٰ کیاگیاہے کہ تمام ضلعی پولیس سربراہوں کو ایک پیغام میں ، انسپکٹر جنرل پولیس (کشمیر رینج) وجئے کمار نے کہا ، "آپ کے دائرہ اختیار میں رہنے والے تمام غیرمقامی مزدوروں کو فوری طور پر قریبی پولیس اسٹیشن یا مرکزی نیم فوجی فورس یا فوج کے اداروں میں لایا جائے۔" اس پر عمل آوری جلدازجلد کی جائے۔ تاہم جموں وکشمیر پولیس نے ان افواہوں پر دھیان نہ دینے کی اپیل کی ہے۔

    • Share this:
      جموں و کشمیر میں اتوار کی شام غیرمقامی مزدوروں کے قتل کے واقعات کے بعد افواہوں کا بازار گرم ہوگیاہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعہ افواہیں پھیلائی گئی ہے کہ جموں وکشمیر پولیس نے نے ایک ایمرجنسی ایڈوائزری جاری کی ہے۔ جس میں یہ دعویٰ کیاگیا ہے کہ غیر کشمیری مزدوروں کے قتل کے بعد مہاجر مزدوروں کو پولیس ، سی اے پی ایف اور آرمی کیمپوں میں جانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ سکیورٹی ایجنسیوں نے ہدایات پر فوری اثر سے عمل درآمد کرنے کو کہا ہے۔سوشل میڈیا نے یہ دعویٰ کیاگیا ہے کہ سیکورٹی ایجنسیاں ایسے واقعات کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کررہی ہیں۔

      اتناہی نہیں یہ بھی دعویٰ کیاگیاہے کہ تمام ضلعی پولیس سربراہوں کو ایک پیغام میں ، انسپکٹر جنرل پولیس (کشمیر رینج) وجئے کمار نے کہا ، "آپ کے دائرہ اختیار میں رہنے والے تمام غیرمقامی مزدوروں کو فوری طور پر قریبی پولیس اسٹیشن یا مرکزی نیم فوجی فورس یا فوج کے اداروں میں لایا جائے۔" اس پر عمل آوری جلدازجلد کی جائے۔ تاہم جموں وکشمیر پولیس نے ان افواہوں پر دھیان نہ دینے کی اپیل کی ہے۔


      کشمیر زون پولیس نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر کہا ، 'دہشت گردوں نے کولگام کے وانپوہ علاقے میں غیر مقامی مزدوروں پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ دہشت گردی کے اس واقعے میں دو غیر مقامی افراد ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔ اس نے بتایا کہ پولیس اور سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ حکام کے مطابق دہشت گرد مزدوروں کی کرائے کی رہائش گاہ میں داخل ہوئے اور ان پر اندھا دھند فائرنگ کی۔

      جموں و کشمیر میں 24 گھنٹوں سے بھی کم عرصے میں غیر مقامی مزدوروں پر یہ تیسرا حملہ ہے۔ بہار کے ایک گلی فروش اور اترپردیش کے ایک بڑھئی کو دہشت گردوں نے ہفتے کی شام گولی مار کر ہلاک کردیا۔ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ٹویٹ کرکے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ، 'میں کولگام میں عام شہریوں پر دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ سوگوار خاندانوں سے میری دلی تعزیت ہے۔ میں زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتا ہوں۔ ہماری سکیورٹی فورسز دہشت گردوں کو منہ توڑ جواب دیں گی۔ جموں و کشمیر حکومت دکھ کی اس گھڑی میں مہلوکین کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑی ہے۔

      معصوم شہریوں کے خون کے ہر قطرے کا بدلہ لیں گے: لیفٹیننٹ گورنر


      قبل ازیں سنہا نے دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کو نشانہ بنا کر خون کے ہر قطرے کا بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی امن و سماجی و اقتصادی ترقی اور لوگوں کی ذاتی ترقی کو متاثر کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے یونین ٹریٹری کی تیز رفتار ترقی کے عزم کا اعادہ کیا۔ اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام 'عوام کی آواز' میں سنہا نے کہا ، 'میں شہید شہریوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور سوگوار خاندانوں سے اظہار تعزیت کرتا ہوں۔ ہم دہشت گردوں ، ان کے ہمدردوں کو نشانہ بنائیں گے اور معصوم شہریوں کے خون کے ہر قطرے کا بدلہ لیں گے۔

      بی جے پی کی جموں و کشمیر یونٹ کے ترجمان الطاف ٹھاکر نے ان ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ "نسل کشی کے سوا کچھ نہیں" ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر مقامی لوگوں کا قتل غیر انسانی حرکت کے سوا کچھ نہیں اور دہشت گردوں کی مایوسی کو ظاہر کرتا ہے۔
      Published by:Mirzaghani Baig
      First published: