உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پی اے جی ڈی نے ایک بار پھر جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو بحال کرنے کا الاپا راگ

    پی اے جی ڈی نے ایک بار پھر جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو بحال کرنے کا راگ الاپا ۔ ماہرین کہاکہ اس مسئلے کو بار بار اٹھانا مقامی سیاسی جماعتوں کی سیاسی مجبوری ہے۔

    پی اے جی ڈی نے ایک بار پھر جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو بحال کرنے کا راگ الاپا ۔ ماہرین کہاکہ اس مسئلے کو بار بار اٹھانا مقامی سیاسی جماعتوں کی سیاسی مجبوری ہے۔

    پی اے جی ڈی نے ایک بار پھر جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو بحال کرنے کا راگ الاپا ۔ ماہرین کہاکہ اس مسئلے کو بار بار اٹھانا مقامی سیاسی جماعتوں کی سیاسی مجبوری ہے۔

    • Share this:
    پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن کی جانب سے چوبیس اگست کو سرینگر میں ہوئی میٹنگ کے بعد اتحاد میں شامل پارٹیوں نے ایک مرتبہ پھر دفعہ تین سو ستہر اور پینتیس اے کی بحالی نیز جموں وکشمیر کا ریاست کا درجہ بحال کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھنے کا اپنا ارادہ دہرایا۔ اتحاد میں شامل پارٹیوں نیشنل کانفرنس،پی ڈی پی ،سی پی آئی ایم اور جموں وکشمیر عوامی نیشنل کانفرنس کے لئے لیڈران نے دعویٰ کیا کہ وہ جموں وکشمیر اور لداخ خطے کے لوگوں کی خواہشات کے مدنظر جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن بحال کرنے کے وعدہ بند ہیں۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ این سی ،پی ڈی پی اور چند دیگر علاقائی سیاسی جماعتیں اس مدعے سے دستبردار نہیں ہوسکتں ۔سینئر صحافی اور سیاسی تجزیہ نگار محمد سید ملک کا کہناہے کہ پی اے جی ڈی کے لیے اس معاملے کو پس پشت ڈالنا سیاسی طور پر ان کے سیاسی مستقبل کو متاثر کرسکتاہے۔ نیوز18اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے محمد سید ملک نے کہاکہ چونکہ یہ معاملہ ابھی سپریم کورٹ میں بھی زیر سماعت ہے لہٰذا یہ جماعتیں اس مدعے کو بار بار اچھالتی رہیں گی۔

    انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ میں دفعہ تین سو ستہر اور پینتیس اے کو دوبارہ بحال کرنے کے خلاف فیصلہ آنے کی صورت میں بھی علاقائی سیاسی جماعتیں اسے ایک سیاسی مدعا بناتی رہے گی۔ ملک نے کہاکہ بی ڈی سی ،ڈی ڈی سی چناؤ کے نتائج سامنے آنے کے بعد کشمیر وادی میں مقبول علاقائی سیاسی جماعتیں بالخصوص نیشنل کانفرنس،پی ڈی پی اور سی پی آئی ایم یہ سمجھنے لگی ہیں کہ جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن پر سیاست کرنے سے انہیں فائدہ ملا ہے لہٰذا یہ کہنا غلط ہوگا یہ پارٹیاں اس مدعے سے مستقبل میں دستبردار ہوں گی۔ انہوں نے کہاکہ اگر چہ ان یہ سیاسی جماعتیں دیگر مسائل اور مدعے بھی اٹھا سکتی ہیں تاہم جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو بحال کرنے کے بارے میں بار بار ذکر کرنا ان کے لئے لازمی ہے۔

    روزنامہ کشمیر ایمیجز کے چیف ایڈیٹر اور سیاسی تجزیہ نگار بشیر منظر بھی مانتے ہیں کہ پی اے جی ڈی میں شامل جماعتیں سیاسی اعتبار سے اہم اس معاملے کو بار بار اٹھاتی رہے گی ۔ نیوز18اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے بشیر منظر نے کہاکہ دفعہ تین سو ستہر اور پینتیس اے کی منسوخی کئی برسوں سے بی جے پی کا سیاسی منشور رہاہے۔ سابق وزیراعظم مرحوم اٹل بہاری واجپائی کے دور حکومت میں پارٹی ان دفعات کو منسوخ نہیں کرپائی کیونکہ بی جے پی کے پاس پارلیمنٹ میں اکثریت نہیں تھی ۔ بشیر منظر نے کہاکہ نریندر مودی حکومت کے پہلے پانچ برسوں میں بی جے پی نے ان دفعات کو ہٹانے کے لیے حکمت عملی وضح کی اور موجودہ دور اقتدار میں یہ دفعات منسوخ کرکے اپنا چناؤی وعدہ پورا کیا جس کا پارٹی کو کافی فائدہ بھی ملا ۔

    انہوں نے کہا چونکہ یہ دفعات ہٹا کر بی جے پی کو سیاسی طور پر کافی فائدہ حاصل ہوا ہے لہٰذا جموں وکشمیر کی علاقائی سیاسی جماعتیں پانچ اگست دوہزار انیس کو لئے گئے فیصلے کو واپس لئے جانے کا معاملہ اٹھاکر سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے انہوں نے کہا کہ پانچ اگست دو ہزار انیس سے پہلے نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی اٹامومی اور سیلف رول جیسے مدعے اچھال کر اپنی اپنی جماعتوں کو زمینی سطح پر مضبوط کرنے کی کوششیں کرتی آئی ہیں لہذا وہ اب ریاست کی خصوصی پوزیشن کو بحال کرنے سے متعلق اپنے موقف سے دستبردار ہونے کا خطرہ مول نہیں لے سکتی۔بشیر منظر نے کہاکہ پی اے جی ڈی کی طرف سے ریاست کی خصوصی پوزیشن بحال کرنے کا معاملہ بار بار اٹھانے کا ایک اور مقصد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اتحاد میں شامل پارٹیاں مرکز پر دباؤ بڑھا سکیں تاکہ جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات ہونے سے قبل اسے ریاست کا درجہ دیا جائے تاکہ چناؤ مکمل ہونے کے بعد جموں وکشمیر میں ایک بااختیار جمہوری سرکار قائم ہوسکے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: