ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : محبوبہ مفتی کی رہائش پر پی اے جی ڈی کی میٹنگ کو مانا جارہا ہے کافی اہم ، جانئے کیوں

Jammu and Kashmir News : محبوبہ مفتی کی سرکاری رہائش گاہ پر ہوئی میٹنگ کو جموں و کشمیر کی سیاست کے حوالے سے کافی اہم مانا جارہا ہے۔ ایک لمبے عرصے کے بعد منعقد ہوئی اتحاد کی اس میٹبنگ کو سیاسی مبصرین الگ الگ زاویوں سے دیکھ رہے ہیں ۔

  • Share this:
جموں و کشمیر : محبوبہ مفتی کی رہائش پر پی اے جی ڈی کی میٹنگ کو مانا جارہا ہے کافی اہم ، جانئے کیوں
جموں و کشمیر : محبوبہ مفتی کی رہائش پر پی اے جی ڈی کی میٹنگ کو مانا جارہا ہے کافی اہم ، جانئے کیوں

جموں و کشمیر : Peoples alliance for Gupkar Declaration(PAGD) کی 9 جون کوسرینگر میں محبوبہ مفتی کی سرکاری رہائش گاہ پر ہوئی میٹنگ کو جموں و کشمیر کی سیاست کے حوالے سے کافی اہم مانا جارہا ہے۔ ایک لمبے عرصے کے بعد  منعقد ہوئی اتحاد کی اس میٹبنگ کو سیاسی مبصرین الگ الگ زاویوں سے دیکھ رہے ہیں ۔ جموں و کشمیر کے نامور صحافی احمد علی فیاض کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ میٹنگ ایک ایسے وقت میں منعقد ہوئی ، جب کشمیر میں افواہوں کا بازار گرم ہے کہ مرکزی سرکار جموں و کشمیر کے بارے میں کوئی بڑا فیصلہ لے سکتی ہے۔ لہذا پی اے جی ڈی میں شامل پارٹیوں نے مناسب سمجھا کہ میٹنگ منعقد کرکے مرکزی سرکار کو یہ پیغام دیا جائے کہ کشمیر سینٹرک سیاسی پارٹیاں متحد ہیں اور ساتھ ہی انہوں نے کشمیری عوام کو بھی یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ مرکزی سرکار کی طرف سے کسی بھی فیصلے کا مقابلہ کرنے کے لئے سبھی سیاسی جماعتیں تیار ہیں ۔


نیوز 18 اردو سے بات کرتے ہوئے احمد علی فیاض نے کہا کہ ان سیاسی جماعتوں کو یہ خدشہ بھی تھا کہ مرکزی سرکار جموں و کشمیر میں سیاسی طور پر کوئی ایسا بڑا فیصلہ لے سکتی ہے ، جو ان کے سیاسی مستقبل کے لئے سازگار نہیں ہوگا ۔ احمد علی فیاض نے کہا کہ حالانکہ کچھ سیاسی لیڈران بشمول اپنی پارٹی کے صدر سعید الطاف بخاری نئی دہلی میں موجود تھے ۔ تاہم اس طرح کی کوئی بھی سرگرمی دہلی میں نہیں دیکھی گئی ، جس کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔


وادی کے ایک اور سینیر صحافی نور القمرین نے نیوز 18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میٹنگ کے مقام سے یہ صاف ظاہر ہے کہ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اپنی روایتی سیاسی حریف پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی کے ساتھ بظاہر اچھے دکھنے والے سیاسی تعلقات فی الحال قائم رکھنا چاہتے ہیں ۔  انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کی طرف سے ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور پارٹی کے دو دیگر لوک سبھا ارکان کے حد بندی کمیشن میں شریک ہونے کے اشارے کے بعد ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو یہ فکر ستا رہی ہے کہ  کہیں محبوبہ مفتی این سی کے اس فیصلے سے ناراض تو نہیں ہوں گی ۔ نیشنل کانفرنس کی ورکنگ کمیٹی کی ایک میٹنگ کے بعد پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور پارٹی کے کئی لیڈران نے حال ہی میں یہ اشارہ دیا تھا کہ وہ حد بندی کمیشن کی میٹنگوں میں شریک ہوسکتے ہیں ۔


واضح رہے کہ پی ڈی پی جموں و کشمیر میں حد بندی کے خلاف ہے ۔ نور القمرین نے کہا کہ اس میٹنگ کے ذریعہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ مرکزی سرکار تک یہ بات بھی پہنچانا چاہتے ہیں کہ انہیں کئی سیاسی پارٹیوں کی حمایت حاصل ہے اور اس طرح وہ سیاسی طور پر کافی مضبوط ہیں ۔ سینیر صحافی احمد علی فیاض بھی مانتے ہیں کہ اس میٹنگ کے ذریعہ نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ محبوبہ مفتی کے ساتھ کوئی ٹکراو نہیں چاہتے ہیں ۔ تاکہ پارٹی کی طرف سے حد بندی کمیشن میں شرکت کرنے کے بعد پی ڈی پی اسے سیاسی ایجنڈا بناکر نیشنل کانفرنس کے ووٹ بینک پر ڈاکہ نہ ڈال سکے ۔

واضح رہے کہ پی اے جی ڈی کا وجود چار اگست دو ہزار اُنیس میں اس وقت ہوا تھا جب جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کی قواعد چل رہی تھی ۔ اگرچہ ابتدائی طور پر کانگریس بھی اس میں شامل رہی ۔ تاہم پارٹی نے بعد میں پی اے جی ڈی سے کنارا کرلیا ۔ بعد ازاں سجاد لون کی سربراہی والی پیپلز کانفرنس نے بھی اس اتحاد سے اپنا ناطہ توڑ لیا ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jun 11, 2021 06:11 PM IST