ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر میں بھی سنائی پڑی سابرمتی ندی کی لہروں کی آغوش میں سما جانے والی عائشہ کے درد کی گونج

کے آر وی فاونڈیشن کی جانب سے اننت ناگ کے وومینس ڈگری کالج میں منعقدہ تقریب میں اکثر خواتین نے جہیز اور جنسی بھید بھاو جیسی بدعات کو عائشہ کی موت کا ذمہ دار ٹھہرایا ۔

  • Share this:
جموں و کشمیر میں بھی سنائی پڑی سابرمتی ندی کی لہروں کی آغوش میں سما جانے والی عائشہ کے درد کی گونج
جموں و کشمیر میں بھی سنائی پڑی سابرمتی ندی کی لہروں کی آغوش میں سما جانے والی عائشہ کے درد کی گونج

جموں کشمیر: گجرات میں سابرمتی ندی لہروں کی آغوش میں سما جانے والی عائشہ کے درد کی گونج عالمی یوم خواتین کے موقع پر کشمیر میں منعقدہ تقریبات میں بھی سنائی پڑی ۔ کے آر وی فاونڈیشن کی جانب سے اننت ناگ کے وومینس ڈگری کالج میں منعقدہ تقریب میں اکثر خواتین نے جہیز اور جنسی بھید بھاو جیسی بدعات کو عائشہ کی موت کا ذمہ دار ٹھہرایا ۔ بعض خواتین نے کہا کہ عائشہ کی جانب سے خودکشی کا اٹھایا جانے والا قدم کسی بھی صورت میں صحیح نہیں ہو سکتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ عائشہ کی جانب سے اس طرح کا قدم اٹھائے جانے کے پیچھے آخر کون ذمہ دار ہے اور کیا سماج کو ایسی گھنونی اور پسماندہ سوچ سے اب بھی آزادی نہیں ملی ہے ، جہاں پر ایک عورت کو کبھی جہیز اور کبھی گھریلو تشدد کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔


کے آر وی فاونڈیشن کی جانب سے منعقدہ اس پروگرام میں زندگی کے مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کئی خواتین نے شرکت کی ۔ کے آر وی کی سربراہ ڈاکٹر ردوانہ صنم کے مطابق سب سے پہلے خواتین کو یہ بات ذہن نشین کرنی چاہئے کہ وہ ہر لحاظ سے خودمختار تھیں اور خود مختار ہی رہیں گی۔ جبکہ عالمی یوم خواتین کا مقصد یہی ہے کہ خواتین کو اپنے اختیارات سے باخبر کیا جائے اور خواتین کے خلاف نہ تھمنے والے جرم کے سلسلے کا خاتمہ کسی صورت ممکن بنایا جا سکے ۔ لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہو پایا ہے ۔ ڈاکٹر ردوانہ صنم کے مطابق سماج کے پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والی خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں ۔ لیکن یہ بات ضروری ہے کہ جنسی بھید بھاو اور ذات پات کے نام پر خواتین کو ہراساں نہ کیا جائے ۔ ایسے حالات میں خواتین افراد خانہ کے تشدد کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی مسائل سے بھی دوچار ہوکر کبھی کبھار خود کشی کی کوشش بھی کرتی ہیں یا پھر زندگی کے ساتھ سمجھوتہ کرتی ہیں ۔


سکریٹری ڈسٹرکٹ لیگل سروسز اتھارٹی، رافعہ حسن خاقی کے مطابق اب بھی گھریلو تشدد کے واقعات کی شرح میں کوئی خاص کمی نہیں آئی ہے، جبکہ خواتین کے حقوق کی بات کرنا صرف عالمی یوم خواتین تک ہی محدود رکھنا ایک بے جا عمل ہوگا ۔ رافعہ خاقی کے مطابق خواتین کے حقوق کی بات اور خواتین کے خلاف ظلم و جرائم روکنے کی بات ہمیشہ کرنی چاہئے اور اس حوالے سے سماج کے مختلف طبقات کا رول سب سے اشد بنتا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک سماج کا ہر فرد انفرادی سطح پر خواتین کے حقوق کو نہیں سمجھے گا ، تب تک خواتین کی مکمل آزادی اور خودمختاری ناممکن ہے ۔


رافعہ کے مطابق خواتین کے خلاف جنسی بھید بھاو کبھی کبھار اپنے ہی گھر سے شروع ہوتا ہے ، جب لڑکیوں کے پیدا ہونے سے افراد خانہ کے چہرے مرجھا جاتے ہیں اور اب بھی لڑکی کے جنم پر خوشیاں نہیں منائی جاتی ہیں ۔ لیکن لوگ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ دنیا میں عورت کا وجود ایک خاص مقصد کیلئے ہے اور مرد کو صحیح راستہ دکھانے والی عورت ہی ہوتی ہے ۔ معروف گائناکالوجسٹ ڈاکٹر فوزیہ کا کہنا ہے کہ عائشہ نے زندگی سے تنگ آکر جو قدم اٹھایا ، اس کو ہرگز کسی بھی صورت میں جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا ہے ۔ لیکن عائشہ نے اپنی زندگی کا کام تمام کرکے سماج کے سامنے ایک سوال چھوڑ دیا ، جس کا جواب تلاش کرنا ہر ایک فرد کی ذمہ داری ہے ۔

ڈاکٹر فوزیہ کے مطابق میڈیا کہ وجہ سے عائشہ کا واقعہ ہر کسی کے سامنے آیا ، لیکن نہ جانے ایسی کتنی خواتین ہوں گی جو زندگی اور گھریلو تشدد کی بھینٹ چڑھ کر گمنامی کی موت مرتی ہیں ۔ ڈاکٹر فوزیہ کا کہنا ہے کہ عائشہ کی موت ایک خودکشی ضرور ہو سکتی ہے ، لیکن اس خودکشی کیلئے عائشہ کو اکسانے والے حالات آج بھی ہمارے سماج کو کھوکھلا کر رہے ہیں ۔ کبھی جہیز کے نام پر تو کبھی کسی اور نام پر۔ جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ سماج کو دیمک کی طرح کھوکھلا بنا دینے والی سوچ کا خاتمہ ممکن بنانے کیلئے سماج کا ہر فرد انفرادی سطح کی کوششوں میں مصروف عمل ہو جائے ۔

کے آر وی کی جانب سے منعقدہ اس پروگرام میں ڈی سی اننت ناگ انشل گارگ اور دیگر متعلقین نے بھی شرکت کی ۔ آخر میں بیسٹ وومن انٹریپیونر ایوارڈ سے نمایاں کارکردگی دکھانے والی کئی خواتین کو انعامات و اسناد سے نوازا گیا ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Mar 09, 2021 09:52 AM IST