உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سری نگر- شارجہ فلائٹ سے پاکستان کو اعتراض، اپنے ایئر اسپیس سے اڑنے پر لگائی روک

    سری نگر- شارجہ فلائٹ سے پاکستان کو اعتراض، اپنے ایئر اسپیس سے اڑنے پر لگائی روک

    سری نگر- شارجہ فلائٹ سے پاکستان کو اعتراض، اپنے ایئر اسپیس سے اڑنے پر لگائی روک

    پاکستان (Pakistan) ایک بار پھر سے ہندوستان کے لئے برا پڑوسی ثابت ہوا ہے۔ پاکستان نے جموں وکشمیر (Jammu-Kashmir) کے سری نگر سے متحدہ عرب امارات کے شارجہ تک فلائٹ (Srinagar-Sharjah Flights) کے لئے اپنے ایئر اسپیس (Airspace) کا استعمال کرنے دینے سے انکار کردیا ہے۔

    • Share this:
      اسلام آباد: پاکستان (Pakistan) ایک بار پھر سے ہندوستان کے لئے برا پڑوسی ثابت ہوا ہے۔ پاکستان نے جموں وکشمیر (Jammu-Kashmir) کے سری نگر سے متحدہ عرب امارات کے شارجہ تک فلائٹ (Srinagar-Sharjah Flights) کے لئے اپنے ایئر اسپیس (Airspace) کا استعمال کرنے دینے سے انکار کردیا ہے۔ اس کا سیدھا مطلب ہے کہ اب سری نگر سے اڑنے والے طیاروں کو ادے پور، احمدآباد اور عمان ہوتے ہوئے شارجہ جانا ہوگا، جو کہ نہ صرف زیادہ وقت لگے گا بلکہ اس کے لئے مسافروں کو زیادہ پیسے بھی خرچ کرنے پڑیں گے۔

      پاکستان نے اکتوبر میں شروع ہوئی سری نگر - شارجہ طیارہ خدمات کے لئے اپنے ایئر اسپیس کا استعمال کرنے سے انکار کردیا ہے۔ پاکستان کے اس فیصلے کی وجہ سے اب سری نگر سے شارجہ کے لئے جانے والے طیارے کو ایک گھنٹے کا اضافی وقت لگے گا، ساتھ ہی اس کا کرایہ بھی بڑھ جائے گا۔



      پاکستان کے اس فیصلے کی جانکاری متعلقہ وزارت کو مل گئی ہے۔ فی الحال شہری ہوا بازی، خارجہ اور وزارت داخلہ اس کو دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان کے اس فیصلے کو بدقسمتی والا بتاتے ہوئے جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ٹوئٹ کیا۔ ’پاکستان نے سال 10-2009 میں بھی ٹھیک ایسا ہی کیا تھا، جب ایئر انڈیا ایکسپریس کی سری نگر سے دبئی جانے والی پرواز کے لئے ایئر اسپیس کا استعمال نہیں کرنے دیا تھا۔ مجھے امید تھی کہ Go First کے طیارہ کو پاکستان کے ہوائی علاقے سے اڑنے کی اجازت دی جارہی ہے۔ یہ دونوں ممالک کے ٹھنڈے پر رشتوں کے لئے اچھا اشارہ تھا، لیکن افسوس ایسا نہیں ہوا۔

      23 اکتوبر کو وزیر داخلہ امت شاہ نے جموں - سری نگر دورے کے وقت اس ہوائی سروس کی شروعات کی تھی۔ حالانکہ اس وقت پاکستان نے یہ کہہ کر تنازعہ بڑھایا کہ اس کے ہوائی علاقے کا استعمال کرنے سے پہلے ہندوستان نے پاکستانی انتظامیہ سے اجازت نہیں لی۔ حالانکہ اس کے باوجود فلائٹ کی آپریٹنگ جاری تھی۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: