உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News:۔ 20 سال میں پہلی مرتبہ پاکستان نے لشکر دہشت گرد کی لاش کو قبول کیا، دراندازی کے دوران ہوا تھا زخمی

    J&K News:۔ 20 سال میں پہلی مرتبہ پاکستان نے لشکر دہشت گرد کی لاش کو قبول کیا، دراندازی کے دوران ہوا تھا زخمی ۔ علامتی تصویر ۔

    J&K News:۔ 20 سال میں پہلی مرتبہ پاکستان نے لشکر دہشت گرد کی لاش کو قبول کیا، دراندازی کے دوران ہوا تھا زخمی ۔ علامتی تصویر ۔

    Jammu and Kashmir : پاکستان نے دو دہائی سے زیادہ مدت میں پہلی مرتبہ پیر کو دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ کے ایک تربیت یافتہ دہشت گرد کی لاش کو قبول کیا ، جس نے فوج کی ایک چوکی پر حملہ کیلئے جموں و کشمیر میں دراندازی کی تھی ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu and Kashmir | Jammu | Srinagar
    • Share this:
      جموں : پاکستان نے دو دہائی سے زیادہ مدت میں پہلی مرتبہ پیر کو دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ کے ایک تربیت یافتہ دہشت گرد کی لاش کو قبول کیا ، جس نے فوج کی ایک چوکی پر حملہ کیلئے جموں و کشمیر میں دراندازی کی تھی ۔ افسران نے بتایا کہ پاکستان کے قبضہ والے کشمیر ( پی او کے ) میں کوٹلی کے سبز کوٹ گاوں کے رہنے والے تبارک حسین (32) کی دو دن پہلے راجوری ضلع میں فوج کے ایک اسپتال میں دل کا دوڑہ پڑنے سے موت ہوگئی تھی ۔ افسران کے مطابق پچھلے مہینے سرحد پار سے اس طرف دراندازی کی کوشش کے دوران گولی لگنے سے وہ زخمی ہوگیا تھا اور اسپتال میں اس کی سرجری ہوئی تھی اور فوج کے جوانوں نے اس کی جان بچانے کیلئے خون بھی دیا تھا ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: جموں و کشمیر کے شوپیاں میں گولیوں سے چھلنی لاش ملی، جانچ میں پولیس مصروف


      فوج کے ایک افسر نے کہا کہ ہندوستانی فوج نے پونچھ ضلع میں لائن آف کنٹرول پر چکن دی باغ سرحدی کراسنگ پوائنٹ پر پولیس اور انتظامی افسران کی موجودگی میں حسین کی لاش پاکستان کو سونپی ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو دہائی سے زیادہ وقت میں ممکنہ طور پر یہ پہلا واقعہ ہے ، جس میں پاکستان نے ایک دہشت گرد کی لاش کو قبول کیا ہے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: پی ڈی پی کا اہم اجلاس منعقد، محبوبہ مفتی نے کہا: واجپئی کی پالیسی اپنائے سرکار 


      افسر نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے جموں و کشمیر میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث اس کے شہریوں کی لاش لینے سے انکار کرتا رہا ہے ۔ لشکر طیبہ کے ٹرینڈ گائیڈ اور پاکستانی فوج کے ایجنٹ حسین نے 21 اگست کو راجوری کے نوشیرہ علاقہ میں دراندازی کی کوشش کی تھی، تبھی وہ ہندوستانی فوج کی گولی لگنے سے سنگین طور پر زخمی ہوگیا ۔ اس کو بعد میں فوجی اسپتال راجوری میں بھرتی کرایا گیا، جہاں اس کی سرجری ہوئی ۔

      فوج نے اس کی جان بچانے کیلئے تین یونٹ خون بھی دیا ۔ حالانکہ تین ستمبر کو اس کو دل کا دورہ پڑا ۔ افسر نے کہا کہ اتوار کو مردہ دہشت گرد کا پوسٹ مارٹم کرنے سمیت سبھی دیگر کارروائیاں پوری کرلی گئیں اور اس کے بعد لاش واپس کرنے کیلئے پاکستان کی فوج سے رابطہ کیا گیا ۔ فوج کی 80 انفینٹری بریگیڈ کے کمانڈر بریگیڈیئر کپل رانا نے 24 اگست کو کہا تھا کہ حسین نے دو دیگر لوگوں کے ساتھ ہندوستانی فوج کی چوکی پر حملہ کی اپنی سازش قبول کی تھی ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: