உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیر میں دراندازی کے پرانے روٹ کو ایکٹیو کرنے کی کوشش میں پاکستان، 15 سال بعد سیندھ لگانے کی کوشش، فوج نے تین دہشت گردوں کو ہلاک کیا

    کشمیر میں دراندازی کے پرانے روٹ کو ایکٹیو کرنے کی کوشش میں پاکستان

    کشمیر میں دراندازی کے پرانے روٹ کو ایکٹیو کرنے کی کوشش میں پاکستان

    سال 2005 میں ہوئی ایل او سی پر فیسنگ (LOC Fencing) کے بعد سے اس علاقے میں دہشت گردانہ دراندازی کی کوشش نہ کے برابر رہی ہیں۔ اس علاقے میں موجود ہندوستانی فوج (Indian Army) کی پوسٹ سے دہشت گردوں کی ہر ہلچل کو آسانی سے مانیٹر کیا جاسکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ تقریباً ڈیڑھ دہائی کے بعد اس جگہ کو دہشت گردوں نے دراندازی کے لئے کیوں منتخب کیا؟

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی: کشمیر میں پاکستان سے دراندازی (Infiltration) کر رہے تین دہشت گردوں کو فوج نے ہلاک (3 Terrorists Killed) کردیا۔ حادثہ رامپور سیکٹر کے رستم بٹالین علاقے کے ہتھلنگا جنگل کے قریب کا ہے۔ دہشت گردوں کے پاس سے بھاری تعداد میں ہتھیار برآمد کئے گئے۔ ویسے تو اس طرح کے آپریشن ایل او سی پر ہونا عام بات ہے، لیکن ان دہشت گردوں کی دراندازی کی کوشش فوج کے درمیان تشویش کی وجہ اس لئے ہے کیونکہ رستم بٹالین کے ہتھلنگا علاقے میں تقریباً 15 سال بعد دراندازی کی کوشش سے متعلق سانحہ پیش آیا ہے۔

      ذرائع کے مطابق، سال 2005 میں ہوئی ایل او سی پر فیسنگ کے بعد سے اس علاقے میں دہشت گردانہ دراندازی کی کوشش نہ کے برابر رہی ہیں۔ اس علاقے میں موجود ہندوستانی فوج کی پوسٹ سے دہشت گردوں کی ہر ہلچل کو آسانی سے مانیٹر کیا جاسکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ تقریباً ڈیڑھ دہائی کے بعد اس جگہ کو دہشت گردوں نے دراندازی کے لئے کیوں منتخب کیا؟ ماہرین کے مطابق، پاکستان میں دہشت گرد دراندازی کو انجام دینے والے لوگوں کو لگتا ہے کہ ہندوستان ان مقامات پر محتاط نہیں ہوگا، جہاں لمبے وقت سے اس طرح کی کسی حادثہ کو انجام نہیں دیا گیا ہے۔

      انٹلی جنس اِن پُٹ میں بھی اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان پرانے دراندازی روٹ کو پھر سے ایکٹیو کرنے کے لئے پاک مقبوضہ کشمیر کے مقامی لوگوں اور گائیڈ کے ساتھ مسلسل میٹنگ کر رہا تھا۔ ان میٹنگ میں پرانے روٹس ایکٹیو کرنے اور نئے روٹ تلاش کرنے پر زور دیا جا رہا تھا۔ میٹنگ کا اہم موضوع یہی تھا کہ ہندوستانی فوج کی نظروں سے بچ کر کیسے دہشت گردوں کو کشمیر کے ریسپشن علاقے تک پہنچایا جائے۔

      گزشتہ سالوں دراندازی کے اعدادوشمار

      اگر ہم گزشتہ کچھ سال کے اعدادوشمار پر نظر ڈالیں تو سال 2018 میں کل 66 کوششیں ایل او سی پر دہشت گردانہ دراندازی کی درج ہوئیں۔ اس میں 328 دہشت گردانہ دراندازی کرنے کی فراق میں تھے، 32 کو تو فوج نے ہلاک کردیا۔ تقریباً 150 دہشت گرد واپس بھاگ گئے اور تقریباً 140 دراندازی کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ایسے ہی سال 2019 میں دیکھا گیا۔ کل تقریباً 40 کی دراندازی کی کوششیں فوج نے درج کی۔ 219 دہشت گردوں نے گھسنے کی کوشش کی، جس میں فوج نے مار گرایا جبکہ تقریباً 75 واپس بھاگ گئے اور 141 دہشت گرد سرحد پار سے دراندازی کرنے میں کامیاب رہے۔ کورونا کے سبب پاکستان کی طرف سے کوششیں ہوئیں، لیکن جتنی پہلے ہوتی تھی اس میں کمی ضرور دیکھی گئی۔ کل 9 کوششیں درج کی گئیں۔ ان کوششوں میں شامل 19 دہشت گردوں کو مار گرایا گیا جبکہ تقریباً 30 واپس بھاگ گئے اور 50 وادی میں ایل او سی کے الگ الگ مقام سے گھسنے میں کامیاب رہے۔

      اس سال اب تک نصف درجن کوششیں دیکھی گئی ہیں۔ اس میں سے 4 دہشت گردوں کو ایل او سی پر ہی ہلاک کردیا گیا۔ جمعرات کو رامپور سیکٹر کے رستم بٹالین علاقے میں ہتھلنگا جنگل آپریشن کے بعد فوج کے 15 ویں کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل پانڈے نے بتایا کہ دہشت گرد جس طرح دراندازی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ایسا پاکستان کے مقامی ملٹری کمانڈر کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

      کمانڈر نے کہا- پاکستان کے ارادے اب بھی ناپاک

      سیکٹرکمانڈر نے یہ واضح کردیا ہے کہ جو پاکستانی فوج اپنے کو دنیا کے سامنے پاک صاف ہونے کا ڈھونگ کرتی ہے، اس کی حیقت یہی ہے۔ تاہم سرحد پار سے جو بھی لوگ دراندازی کرپانے میں کامیاب بھی ہوئے، انہیں بھی سیکورٹی اہلکاروں نے وادی میں الگ الگ تصادم میں مار گرایا۔ اعدادوشمار پر نظر ڈالیں تو سال 2018 میں 215، سال 2019 میں 153، سال 2020 میں 220 اور اس سال 2021 میں 31 اگست تک 110 سے زیادہ دہشت گردوں کو سیکورٹی اہلکاروں نے ہلاک کردیا۔ افغانستان میں طالبان کے قابض ہونے کے بعد سے دراندازی کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: