ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

پاکستانی دہشت گردکو10سال کی قیدبامشقت،ہندوستان میں دہشت گردانہ حملے کرانےکی رچی تھی سازش

لشکر طیبہ سے وابستہ ایک پاکستانی دہشت گرد کو ہندوستان میں دہشت گردانہ حملے کرانے کی سازش کے لئے 10سال کی قید کی سزا سُنائی گئی ہے۔ اسکے علاوہ اس دہشت گرد پر جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ایجنسی کی طرف سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ 26 مارچ کو پٹیالہ ہاؤس کورٹ نئی دہلی میں این آئی اے معاملات کے اسپیشل جج نے یہ فیصلہ سُنایا۔

  • Share this:
پاکستانی دہشت گردکو10سال کی قیدبامشقت،ہندوستان میں دہشت گردانہ حملے کرانےکی رچی تھی سازش
علامتی تصویر

قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے کا کہنا ہے کہ لشکر طیبہ سے وابستہ ایک پاکستانی دہشت گرد کو ہندوستان میں دہشت گردانہ حملے کرانے کی سازش کے لئے 10سال کی قید کی سزا سُنائی گئی ہے۔ اسکے علاوہ اس دہشت گرد پر جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ایجنسی کی طرف سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ 26 مارچ کو پٹیالہ ہاؤس کورٹ نئی دہلی میں این آئی اے معاملات کے اسپیشل جج نے یہ فیصلہ سُنایا۔ بیان کے مطابق خصوصی جج نے پاکستانی دہشت گرد بہادر علی عرف سیف اللہ منصور کو مختلف دفعات کے تحت10 سال کی قید با مشقت کی سزا سُنائی اور اس پر جرمانہ بھی عائد کیا ۔ابتدائی طور پر یہ کیس 27 جولائی 2016 کو نئی دہلی میں رجسٹر کیا گیا تھا جس میں لشکر طیبہ سے وابستہ دہشت گردوں کی طرف سے ہندوستان میں حملے کرانے کی سازش کا ذکر کیا گیا تھا۔ اس سازش کے تحت بہادر علی عرف سیف اللہ اپنے دو ساتھیوں ابو ساد اور ابو دردہ غیر قانونی طور پر جموں و کشمیر میں داخل ہوچکے تھے تاکہ وہ ملک کے مختلف حصوں بشمول دہلی میں حملے انجام دے سکیں۔قومی تحقیقاتی ایجنسی (NIA) نے شمالی کشمیر کے ہنڈواڑہ میں نارکو دہشت گردی سے منسلک ایک کیس میں 91 لاکھ روپے کی وصولی کی ہے۔


واضح رہے کہ ان تینوں کو پاکستان میں دہشت گردی کی تربیت دی گئی تھی اور وہ حملے انجام دینے کے لئے پاکستان میں موجود انکے آقاؤں کی ہدایت پر یہ حملے انجام دینے والے تھے۔25 جولائی 2016 کو ملزم بہادر علی کو یہامہ مقام ہندواڑہ میں گرفتار کیا گیا تھا اور اسکے قبضے سے بھاری مقدار میں ہتھیار اور گولہ بارود اور دیگر سازو سامان ضبط کیا گیا۔ ضبط کی گئی اشیا میں اے کے سنتالیس رائفل، یو بی جی ایل ،ہتھ گولے ، وائیر لیس سیٹ، جی پی ایس ، کمپاس ، فوجی نقشہ ، بھارتی کرنسی اورنقدی بھارتی نوٹ شامل ہیں۔ این آئی اے کے مطابق بہادر علی نے نوجوانوں کو دہشت گردوں کی صفوں میں شامل کرنے ، لشکر طیبہ کی طرف سے چلائے جانے والے کئی تربیتی کیمپوں ، لشکر طیبہ کے دہشت گردوں کو ہتھیار چلانے ، دھماکہ خیز مواد کا استعمال کرنے ، نائیٹ ویژن آلات کا استعمال کرنے کے بارے میں انکشاف کیا۔


پریس ریلیز کے مطابق بہادر علی نے نوجوانوں کو ورگلا کر نام نہاد جہاد انجام دینے کے لئے دہشت گردوں کی صفوں میں شامل کئے جانے اور پاکستان میں موجود لشکر طیبہ کے لانچنگ پیڈس کے بارے میں بھی اہم جانکاری فراہم کی۔ این آئی اے نے بہادر علی کے خلاف 6جنوری 2017 کو چارج شیٹ داخل کی تھی۔ این آئی اے کے مطابق بہادر علی کے دو ساتھی ابو ساد او رابو دردہ چوداں فروری دو ہزار سترہ کو حاجن ہندواڑہ میں ایک جھڑپ کے دوران ہلاک کئے گئے۔ اس کیس کی تحقیقات کے دوران بہادر علی کے دو مقامی ساتھی ظہور احمد پیر اور نظیر احمد پیر کو بھی گرفتار کیا گیا۔

Published by: Mirzaghani Baig
First published: Mar 31, 2021 02:22 PM IST