உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پلہالن پٹن گرینیڈ حملے کا کیس حل، لشکر طیبہ کے تین ساتھیوں کی گرفتاری کے ساتھ ماڈیول پکڑا گیا

    پولیس کے مطابق ناکے پر نظر آنے پر ان افراد نے نزدیکی کھیتوں سے بھاگنے کی کوشش کی۔ لیکن سیکورٹی فورسز نے تدبیر سے انہیں پکڑنے میں کامیابی حاصل کی۔

    پولیس کے مطابق ناکے پر نظر آنے پر ان افراد نے نزدیکی کھیتوں سے بھاگنے کی کوشش کی۔ لیکن سیکورٹی فورسز نے تدبیر سے انہیں پکڑنے میں کامیابی حاصل کی۔

    پولیس کے مطابق ناکے پر نظر آنے پر ان افراد نے نزدیکی کھیتوں سے بھاگنے کی کوشش کی۔ لیکن سیکورٹی فورسز نے تدبیر سے انہیں پکڑنے میں کامیابی حاصل کی۔

    • Share this:
    پلہالن پٹن گرینیڈ حملے کا کیس حل کیاگیا۔لشکر طیبہ کے تین ساتھیوں کی گرفتاری کے ساتھ ماڈیول پکڑا گیا۔ پولیس پریس بیان کے مطابق بارہمولہ پولیس،انتیس آر آر اور ایس ایس بی کی سکینڈ بٹالین کی مشترکہ پارٹیوں نے معمول کی گشت کے دوران ووسن پٹن میں ناکہ قائم کیا،اس دوران تین افراد کو مشکوک حالت میں ناکہ پارٹی کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھے گئے۔ پولیس کے مطابق ناکے پر نظر آنے پر ان افراد نے نزدیکی کھیتوں سے بھاگنے کی کوشش کی۔ لیکن سیکورٹی فورسز نے تدبیر سے انہیں پکڑنے میں کامیابی حاصل کی۔

    انہیں جب پولیس اسٹیشن لایا گیا تو ان کے انکشاف پر دو دستی بم برآمد ہوئے۔ بعد میں ان افراد کی شناخت آصف احمد ریشی ، معراج الدین ڈار اور فیصل حبیب لون کے طور پر ہوئی۔تینوں کاتعلق ضلع بانڈی پورہ حاجن کے گنڈ جہانگیر سے ہے۔مسلسل پوچھ گچھ اور تکنیکی زاویوں سے پتہ چلا کہ یہ تینوں لشکرِ طیبہ کے ساتھی اور معاونت کار تھے۔یہ تینوں گزشتہ ماہ سترہ نومبر کو پٹن گرینیڈ حملے میں ملوث پائے گئے۔ واضح رہے کہ پلہالن پٹن میں گزشتہ ماہ کے سترہ نومبر کو گرنیڈ حملہ ہوا جس کے نتیجے میں دو سی آر پی ایف اہلکار اور چار سیول اشخاص زخمی ہوگئے تھے۔

    ان تینوں کے اعتراف کے مطابق، وہ پٹن میں دستی بم پھینکنے کے لیے علاقے کو دوبارہ تلاش کرنے آئے تھے۔تفتیش میں مزید انکشاف ہوا ہے کہ ملزمین کو سرحد پار سے ملی ٹنٹنوں کی طرف سے ہدایات دی گئی تھیں اور حملے کے پیچھے خوف اور افراتفری کا ماحول پیدا کرنا اور یوٹی سے باہر کشمیری نوجوانوں کے خلاف ردعمل پیدا کرنا تھا۔ پولیس کے پریس بیان کے مطابق تمام زاویوں سے مزید تفتیش کی جاری ہے۔ان تینوں کے خلاف انڈین آرمس ایکٹ اور یو اے پی ایکٹ کی دفعات کے تحت پولیس اسٹیشن پٹن میں مقدمہ درج کردیاگیا ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: