உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News: حد بندی کمیشن کی سفارشات کا کشمیری پنڈتوں نے کیا خیر مقدم، اس امید کا کیا اظہار

    J&K News: حد بندی کمیشن کی سفارشات کا کشمیری پنڈتوں نے کیا خیر مقدم، اس امید کا کیا اظہار

    J&K News: حد بندی کمیشن کی سفارشات کا کشمیری پنڈتوں نے کیا خیر مقدم، اس امید کا کیا اظہار

    Jammu and Kashmir News: حد بندی کمیشن کی جانب سے جموں و کشمیر اسمبلی میں کشمیری پنڈت مہاجرین کے لئے دو نامزد ممبران کو شامل کرنے کی سفارش کا کشمیری پنڈتوں نے خیر مقدم کیا ہے۔ پنڈت مہاجرین نے امید ظاہر کی ہے کہ سرکار کمیشن کی سفارشات کو منظور کرکے انہیں سیاسی طور با اختیار بنانے کو یقینی بنائے گی۔

    • Share this:
    Jammu and Kashmir News: حد بندی کمیشن کی جانب سے جموں و کشمیر اسمبلی میں کشمیری پنڈت مہاجرین کے لئے دو نامزد ممبران کو شامل کرنے کی سفارش کا کشمیری پنڈتوں نے خیر مقدم کیا ہے۔ پنڈت مہاجرین نے امید ظاہر کی ہے کہ سرکار کمیشن کی سفارشات کو منظور کرکے انہیں سیاسی طور با اختیار بنانے کو یقینی بنائے گی۔ حد بندی کمیشن کی جانب سے  پانچ مئی کو جموں و کشمیر کے اسمبلی اور پارلیمانی حلقوں کی از سر نو حد بندی کے لئے جاری کی گئی حتمی رپورٹ میں جموں و کشمیر کے کشمیری پنڈت مہاجرین کے لئے اسمبلی میں دو نامزد ممبران  کو شامل کرنے کی سفارش کی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کشمیری مہاجرین کے لئے  پڈو چری  اسمبلی کی طرز پر کم سے کم دو ممبران کو اسمبلی کے لئے نامزد کیا جانا چاہئے جن میں سے ایک مرد اور ایک خاتوں ممبر شامل ہو۔

    کشمیری پنڈت مہاجرین نے کمیشن کی اس سفارش کا خیر مقدم کیا ہے۔ کشمیر پنڈتوں کی مختلف انجمنوں کا کہنا ہے اگرچہ انہوں نے اسمبلی میں اس سے زیادہ سٹیں مخصوص رکھنے کی مانگ کی تھی تاہم یہ قدم بھی  قابل ستائش ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مرکزی سرکار کمیشن کی سفارشات کو تسلیم کرے تاکہ کشمیری پنڈت مہاجرین کو ان کے سیاسی حقوق مل سکیں۔ نیوز 18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا: کشمیری پنڈت مہاجرین گزشتہ بتیس برسون سے یہ مانگ کرتے آئے ہیں کہ انکے لئے اسمبلی میں کچھ سیٹیں مخصوص کی جائیں ۔ اب جبکہ حد بندی کمیشن نے مائیگرنٹس کے لئے دو سیٹیں مخصوص رکھنے کی سفارش کی ہے کشمیری مائیگرنٹ کمیشن کے شکر گزار ہیں۔ اب گیند سرکار کے پالے میں ہے کہ وہ ان سفارشات کو منظوری دے۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ سرکار اسے جلد سے جلد منظوری دے تاکہ کشمیری پنڈت آنے والے چنائو میں جوش و خروش سے حصہ لیں۔

     

    یہ بھی پڑھئے :  جموں وکشمیر میں حد بندی کمیشن کی رپورٹ جاری ہونے کے بعد سیاسی گھمسان، اپوزیشن نے لگایا یہ بڑا الزام


    یوتھ آل انڈیا کشمیری سماج کے صدر آر کے بٹ نے نیوز 18 اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا : ہم حد بندی کمیشن اور ہندوستانی سرکار کے شکر گزار ہیں کہ کشمیری مائیگرنٹس کی ایک دیرینہ مانگ کو پوری کی جارہی ہے۔ یوتھ آل انڈیا کشمیری سماج کے صدر آر کے بٹ کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے جموں و کشمیر کی سیاست میں کشمیری پنڈتوں کی کھوئی ہوئی ساخت بحال ہوپائے گی اور مائیگرنٹس کو درپیش مختلف معاملات حل کرنے میں آسانی پیدا ہوگی۔ انہوں نے تاہم کہا کہ اسمبلی ممبران کی نامزدگی کے لئے واضح طریقہ کار اپنانے کی ضرورت ہے۔

    سماجی کارکن کنگ سی بھارتی کا کہنا ہے کہ یہ کشمیری مہاجرین کو سیسی طور پر با ٓاختیار بنانے کی سمت ایک تاریخی قدم ہے۔ آر کے بٹ نے کہا: حد بندی کمیشن نے اسمبلی کے لئے دو ممبران نامزد کرنے کی سفارش کی ہے اور سرکار سے منظوری ملنے کے بعد اس پر آگے کی کاروائی کی جائے گی لیکن اب سماج کے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال اُٹھ رہا ہے کہ نامزدگی کے لئے کون س طریقہ کار اپنایا جائے گا۔ میری طور سرکار سے یہ گزارش رہے گی کہ وہ مختلف سیاسی پارٹیوں سے وابستہ افراد  کو نامزد کئے جانے کے بجائے غیر سیاسی  افراد کو ترجیح دے  تاکہ وہ سماج  کی بہتر طریقے پر خدمت انجام دے سکیں ۔

     

    یہ بھی پڑھئے: J&K News: وقف املاک پر قابض افراد کے خلاف چلایا جائے گا بلڈوزر، وقف بورڈ کی چیئرپرسن کی وارننگ


    کشمیری پنڈت لیڈروں کے ساتھ ساتھ جموں کے مختلف علاقوں میں رہائش پذیر عام پنڈت مہاجرین بھی کمیشن کی اس سفارش کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسمبلی میں کشمیری پنڈتوں کے نمائندے نہ ہونے کی وجہ سے ان کے مسائل حل ہونے  میں تاخیر ہوتی رہی ہے اور اب اسمبلی میں مائیگرنٹوں کے دو نمائندے موجود رہنے سے ان کے سیاسی ، سماجی اور دیگر مسائل حل ہونے میں مدد ملے گی۔ جموں کے مُٹھی علاقے میں رہائش پذیر سنجے کمار کا کہنا ہے کہ سرکار کی جانب سے کشمیری مہاجرین کے لئے  یہ یک بڑا تحفہ ہے۔ نیوز 18 اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے سنجے کمار نے کہا کہ حد بندی کمیشن نے ہمارے لئے دو سیٹیں مخصوص کئے جانے کی سفارش کی ہے ۔ یہ ایک خوش آئند قدم ہے۔ ہم  سرکار کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ دیر سے ہی صیح ہمارے لئے ایک اچھا کام ہوا ہے ۔ اب یہ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ سرکار نے ہمیں جو تحفہ دیا ہے ہم اس کا کس طرح استعمال کر سکتے ہیں ۔

    ایک اور پنڈت مہاجر منوج کا کہنا ہے کہ وہ اس قدم کا خیر مقدم کرتے ہیں تاہم یہ دیکھنا ضروری ہے کہ نامزدگی کا ایک شفاف طریقہ کار اپنایا جائے ۔ تاکہ صیح نمائندے اسمبلی تک پہنچ سکیں۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: