ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں وکشمیر: محبوبہ مفتی نےکہا- حکومت کی طرف سےکشمیر میں آزاد پریس کو دبانے کی ہورہی ہے کوشش

پی ڈی پی صدر و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ایک مقامی خبر رساں ادارے کے دفتر کو سیل کرنےکی مذمت کرتے ہوئےکہا ہے کہ مقامی خبر رساں اداروں کو ہراساں کرنا حکومت کی طرف سے کشمیر میں آزاد پریس کو دبانے کی ایک کوشش ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Oct 18, 2020 12:55 AM IST
  • Share this:
جموں وکشمیر: محبوبہ مفتی نےکہا- حکومت کی طرف سےکشمیر میں آزاد پریس کو دبانے کی ہورہی ہے کوشش
جموں وکشمیر: محبوبہ مفتی نےکہا- حکومت کی طرف سےکشمیر میں آزاد پریس کو دبانے کی ہورہی ہے کوشش۔ فائل فوٹو

سری نگر: پی ڈی پی صدر و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ایک مقامی خبر رساں ادارے کے دفتر کو سیل کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقامی خبر رساں اداروں کو ہراساں کرنا حکومت کی طرف سے کشمیر میں آزاد پریس کو دبانے کی ایک کوشش ہے۔ انہوں نے مقامی خبر رساں ادارے کشمیر نیوز سروس کے ایک ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا: کے این ایس کشمیر جیسے مقامی خبر رساں اداروں کو حکومت کے سامنے سچ بولنے کے پاداش میں ہراساں کرنا جموں و کشمیر حکومت کی کشمیر میں آزاد پریس کو دبانے کی ایک کوشش ہے۔ یہ قابل مذمت ہے'۔

قابل ذکر ہے کہ کے این ایس نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا: 'حکام نے مگرمل باغ سری نگر میں واقع کے این ایس کے دفتر کو مقفل کر دیا ہے'۔ قابل ذکر ہے کہ محکمہ اسٹیٹ نے مگرمل باغ سری نگر میں واقع سرکاری کوارٹروں میں مقامی خبر رساں ادارے 'کشمیر نیوز سروس' کے دفتر کو 15 اکتوبر کو مقفل کر دیا۔ ادارے کے ایک ملازم کا کہنا تھا کہ متعلقہ محکمہ کے عہدیدار دفتر میں گھس آئے اور عملے کو بسترہ گول کرکے فوری طور دفتر خالی کرنے کی ہدایات دیں۔ جموں و کشمیر کی تقریباً تمام علاقائی سیاسی جماعتوں نے محکمہ اسٹیٹ کی اس کارروائی کی مذمت کی ہے۔


پی ڈی پی صدر و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ایک مقامی خبر رساں ادارے کے دفتر کو سیل کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقامی خبر رساں اداروں کو ہراساں کرنا حکومت کی طرف سے کشمیر میں آزاد پریس کو دبانے کی ایک کوشش ہے۔
پی ڈی پی صدر و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ایک مقامی خبر رساں ادارے کے دفتر کو سیل کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقامی خبر رساں اداروں کو ہراساں کرنا حکومت کی طرف سے کشمیر میں آزاد پریس کو دبانے کی ایک کوشش ہے۔


نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پہلے روزنامہ کشمیر ٹائمز کی مدیر اعلیٰ انوراھا بسین اور اب خبر رساں ایجنسی کے این ایس کو الاٹ سرکاری کوارٹروں سے جبری طور نکالنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکمران کشمیر میں ایک منظم طریقہ کار کے ذریعہ آزاد صحافت کا گھلا گھونٹ رہی ہے۔ نیشنل کانفرنس کے ترجمان نے کہا کہ ایسے اقدامات کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے پہلے ہی یہاں کے صحافیوں کا قافیہ حیات تنگ کر رکھا تھا اور اس کے بعد میڈیا کو مکمل طور پر کنٹرول کرنے کے لئے نئی میڈیا پالیسی مرتب کی گئی اور اب غنڈہ گردی کے ذریعے ذرائع ابلاغ کو خاموش کرنے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Oct 18, 2020 12:46 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading