உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    گوگل ٹرانسلیٹ میں پانچ ہزار سال قدیم Kashmiri زبان شامل نہ ہونے پر کشمیری زبان سے وابستہ لوگ مایوس

    گوگل ٹرانسلیٹ میں پانچ ہزار سال قدیم Kashmiri زبان شامل نہ ہونے پر کشمیری زبان سے وابستہ لوگ مایوس

    گوگل ٹرانسلیٹ میں پانچ ہزار سال قدیم Kashmiri زبان شامل نہ ہونے پر کشمیری زبان سے وابستہ لوگ مایوس

    Jammu and Kashmir : کشمیری زبان ہندوستان اور پاکستان کی ایک اہم زبان ہے۔ اس زبان میں بیش بہا اور بیش قیمت لیٹریچر موجود ہیں۔ کشمیری زبان کے ماہرین فکر مند ہیں کہ جو ترقی اس دور میں دیگر جدید زبانوں کو مل رہی ہے ویسے ہی قدیم کشمیری زبان کو بھی ملنی چاہئے اور اس پر کشمیری زبان سے وابستہ ماہرین کو بھی غور و خوض کرنے کی ضرورت ہے۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر : جدید ٹیکنالوجی نے دنیا کی مختلف زبانوں کو سمجھنے اور پڑھنے کا کام آسان کردیا ہے، جس سے دنیا میں انقلاب برپا ہوگیا ہے ۔ اس کی ایک اہم مثال گوگل ٹرانسلیٹ ہے جہاں دنیا کی بیشتر زبانوں کا ٹرانسلیشن کچھ سیکنڈوں میں ہوتا ہے اور انسان فوراً کسی دوسری زبان کا اسکرپٹ سمجھ جاتا ہے۔ انٹرنیٹ پر موجود گوگل ٹرانسلیٹ جس میں ایک سو سے زائد دنیا کی زبانیں موجود ہیں، جن میں ہم کسی بھی زبان کا ٹرانسلیشن کرپاتے ہیں۔ تاہم ستم ظریفی یہ ہے کہ پانچ ہزار سال پرانی کشمیری زبان اس میں ابھی تک شامل نہیں کی گئی ہے، جس سے کشمیری زبان بولنے والے اور پڑھنے والے لوگ مایوس نظر آتے ہیں۔

    کشمیری زبان ہندوستان اور پاکستان کی ایک اہم زبان ہے۔ اس زبان میں بیش بہا اور بیش قیمت لیٹریچر موجود ہیں۔ کشمیری زبان کے ماہرین فکر مند ہیں کہ جو ترقی اس دور میں دیگر جدید زبانوں کو مل رہی ہے ویسے ہی قدیم کشمیری زبان کو بھی ملنی چاہئے اور اس پر کشمیری زبان سے وابستہ ماہرین کو بھی غور و خوض کرنے کی ضرورت ہے۔ رائٹر واینکر آکاش وانی جموں بندھیہ تکو نے نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پانچ ہزار سال پرانی جس کی تاریخ رہی ہو وہ زبان اپنے آپ میں ہی کارگر ہے، اسے کسی بھی ایسے پلٹ کی ضرورت نہیں پڑتی، لیکن جہاں آپ دیکھتے ہیں جو ہماری نوجوان نسل ہے یہ جس طرح سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کررہی ہے ، جس طرح ہماری کاغذی کارروائی گوگل پلیٹ فارم کے ذریعہ بہت زیادہ آگے بڑھ رہی ہے ، تو یہ سوال غور کرنے لائق ہے کہ گوگل ٹرانسلیٹ پر اب تک کشمیری زبان کیوں نہیں آئی ہے۔ اس میں کہیں نہ کہیں ہمارے رائٹرس کو ایک قدم آگے بڑھنا بہت زیادہ لازم ہوگیا ہے۔ نوجوانوں کو ویب سائٹس پر کچھ نہ کچھ تحریریں چڑھانے کی ضرورت ہے۔

     

    یہ بھی پڑھئے: سرکاری اراضی پر اسکولوں کے معاملہ میں ہائی کورٹ نے دی اسکول انتظامیہ کو بڑی راحت


    شاعر وادیب و سابق چیئرمین مرکز نور، کشمیر یونیورسٹی پروفیسر بشر بشیر نے نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ نارتھ انڈیا میں سب سے پرانی زبان کشمیری ہے، بہت قدیم زبان ہے، لیکن اس کو آج تک نظر انداز کیا گیا ۔ گوگل ٹرانسلیٹ میں بھی ، اگر چہ گوگل ٹرانسلیٹ مکمل اور معنی دار ترجمہ نہیں کرپاتا، تاہم بات سمجھنے کے لئے کچھ حد تک انسان کی بہت زیادہ مدد کرتاہے۔ کشمیر میں مختلف ماہرین نے کشمیری زبان کی ٹائپنگ کے لئے سافٹ ویئر بھی تیار کئے جنہیں آج بھی استعمال میں لائے جاتے ہیں۔ لیکن تکنیکی طور پر جتنا کام اس زبان کے لئے کرنا چاہئے وہ نہیں کرپائے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اب تک گوگل ٹرانسلیٹ میں کشمیری کو شامل نہیں کیا گیا۔

     

    یہ بھی پڑھئے: 'G20 کا 2023 اجلاس کشمیر میں منعقد کروانا سفارتی سطح پر ہندوستان کی بڑی کامیابی ہوگی ثابت'


    سافٹ ویئر ڈیزائنرعبدالغنی نے نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گوگل ٹرانسلیٹ کی سہولیات بہت سے زبانوں میں دستیاب ہے، ہمارا بھی مطالبہ ہے کہ اس زبان کو یہ سہولیات دستیاب ہو۔ تاکہ دنیا بھی اس زبان سے روشناس ہوجائے۔ ہمارے ادارے نے دہلی کی ایک سافٹ ویئر کمپنی کے ساتھ ایک کوشش کے تحت ایک سافٹ وئیر بنایا اور کسی حد تک یہ کوشش رنگ لائی ۔ تاہم بعد میں اسے مزید وسعت نہیں دے سکے ۔ کشمیری زبان کی تاریخ پانچ ہزار سال پرانی تہذیب کا احاطہ کئے ہوئے ہے، جس کے علمی ثبوت دوہزار سال پرانے ہیں۔ اس کے باوجود تا دم ایں کشمیری زبان کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔

    اب ضرورت اس بات کی ہے کہ دوسرے زبانوں کی طرح تکنیکی طریقہ کار پر کشمیری زبان کی ترقی و ترویج کرنی چاہئے اور گوگل ٹرانسلیٹ میں بھی کشمیری زبان کو شامل کرنے کیلئے پہل کرنی چاہئے اور گوگل ٹرانسلیٹ سے وابستہ ماہرین سے بھی اپیل ہے کہ اس قدیم زبان کو بھی اس فہرست میں شامل کیا جائے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: