உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Jammu and Kashmir: رمضان میں بجلی کٹوتی سے متعلق لوگ سخت نالاں، 50 فیصد کم بجلی دستیاب

    Jammu and Kashmir: بجلی کی کمی کو لے کر لوگ نالاں، 50 فیصد کم بجلی دستیاب

    Jammu and Kashmir: بجلی کی کمی کو لے کر لوگ نالاں، 50 فیصد کم بجلی دستیاب

    کشمیر میں آج کل بجلی کی قلت کو لے کر ہرطرف احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں اور اب سیاسی لیڈر بجلی کی ابتر صورتحال کو لےکر انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔ ماہ رمضان میں خاص طور پر سحری اور افطارکے موقع پر بجلی اکثر علاقوں میں غایب رہتی ہے، جس پر لوگ نالاں ہیں۔

    • Share this:
    سری نگر: کشمیر میں آج کل بجلی کی قلت کو لے کر ہرطرف احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں اور اب سیاسی لیڈر بجلی کی ابتر صورتحال کو لےکر انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔ ماہ رمضان میں خاص طور پر سحری اور افطارکے موقع پر بجلی اکثر علاقوں میں غایب رہتی ہے، جس پر لوگ نالاں ہیں۔ نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکریٹری علی محمد ساگرکا کہنا ہے کہ ایسی ابتر صورتحال کبھی نہیں رہی ہے۔ دوسری جانب، کشمیر پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹیڈ کے چیف انجینئر جاوید احمد ڈار مانتے ہیں کہ جموں کشمیر اور خاص طور سے کشمیر میں ضرورت سے پچاس فیصد کم بجلی میسر ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اس وقت کشمیر میں زیادہ سے زیادہ 1600 میگا واٹ بجلی کی ضرورت ہے، لیکن انھیں 800 سے ایک ہزار  میگاواٹ بجلی ہی میسر ہیں۔ چیف انجینئر جاوید ڈارکا کہنا ہے کہ بجلی کی کمی کا مسلہ کوئی مقامی مسلہ نہیں ہے بلکہ یہ ملکی سطح پر کمی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں کوئلہ سے چلنے والے تھرمل بجلی پیدا کرنے والے پلانٹ پوری طرح کام نہیں کررہے ہیں، جس کی وجہ سے شمالی گرڈ میں بجلی کم میسر ہے۔

    بجلی کٹوتی سے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
    بجلی کٹوتی سے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔


    ان کے مطابق ملک کے اکثر علاقوں میں پارہ تیز ہوگیا ہے، جس کی وجہ سے بجلی کی کھپت بڑھ گئی ہے اور ڈیمانڈ میں اضافے اور پیداوار میں کمی کی وجہ سے بجلی کی قلت کا سامنا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ دیگر ریاستوں کی طرح جموں وکشمیر بجلی کیوں نہیں خرید رہی ہے تو انھوں نے کہا کہ جو بجلی  عام حالات میں انھیں ساڑھے تین روپئے فی یونٹ میسر ہوتا تھا وہ آج کے وقت میں حکومت 8 روپئے فی یونٹ کی قیمت پر خریدنے کے لئے تیار ہے، لیکن انھیں میسر نہیں ہو رہی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ جموں کشمیر میں پن بجلی پیدا ہورہی ہئے وہ کہاں جاتی ہے تو انھوں نے کہا کہ اس وقت ریاست کے اپنے بجلی پروجیکٹس سے 670 میگا واٹ بجلی ہی پیدا ہوتی ہے جبکہ پورے جموں کشمیر میں اس وقت 2700 میگاواٹ کی ضرورت ہے۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کیا جموں وکشمیر سے AFSPA ہٹانے کا ذکر، جانئے کیا کچھ کہا

    انھوں نے کہا کہ چونکہ تمام علاقوں میں پیدا بجلی نیشنل گرڈ کو جاتی ہے اور وہاں سے ضرورت کے حساب سے دی جاتی  ہے۔ بجلی میں بہتری کب تک ہوسکتی ہے، اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ فی الحال ایسا ہی لگتا ہے کہ رمضان میں یہی صورتحال رہے گی۔ رمضان کے دوران کم سے کم افطار اور سحری کے وقت بجلی فراہم کرنے پر چیف انجینئر نے کہا کہ اس وقت سب سے زیادہ ڈیمانڈ ہوتی ہے، جو کشمیر میں 1600 میگاواٹ تک پہنچتی ہے، جو ایک وقت فراہم نہیں کی جاسکتی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ پھر وہ سرما کی طرح کٹوتی شیڈول مشتہر کیوں نہیں کرتے تو تاکہ لوگوں کو یہ تو پتا ہو کب بجلی جلوا افروز ہوگی۔

    اس پر بھی چیف انجینئر صاحب بے بس نظر آئے۔ کہتے ہیں کہ انھیں خود نہیں پتا کہ کس وقت کتنی بجلی شمالی گرڈ سے میسر ہوگی۔ واضح رہے کہ جموں وکشمیر 20 ہزار میگاواٹ پن بجلی کی پیداواری صلاحیت ہے، لیکن یا تو ان پروجیکٹس کی فنڈنگ نہیں کی گئی یا پھر سابقہ حکومتوں نے اس میں دلچسپی دکھائی۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: