உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News: جموں میں پانی اور بجلی کی عدم دستیابی سے لوگ پریشان، کیا یہ بڑا مطالبہ

    J&K News: جموں میں پانی اور بجلی کی عدم دستیابی سے لوگ پریشان، کیا یہ بڑا مطالبہ

    J&K News: جموں میں پانی اور بجلی کی عدم دستیابی سے لوگ پریشان، کیا یہ بڑا مطالبہ

    Jammu and Kashmir : ان دنوں جموں کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 45 ڈگری سے اوپر چل رہا ہے جس وجہ سے عام لوگون کا جینا دوبھر ہوگیا ہے۔ گرمی سے بے حال لوگوں کو اگر کوئی چیز راحت دے سکتی ہے تو وہ ہے بجلی اور پانی کی معقول سپلائی ہے، لیکن پورے شہر میں کئی روز سے بجلی کی بے تحاشا کٹوتی کی وجہ سے لوگ مزید مشکلات کا شکار ہوگئے ہیں۔

    • Share this:
    جموں: جموں میں گرمی کا موسم شروع ہوتے ہی پانی اور بجلی کی ضرورت میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ اس سال کچھ زیادہ ہی گرمی کے چلتے لوگ بہت مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان دنوں جموں کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 45 ڈگری سے اوپر چل رہا ہے جس وجہ سے عام لوگون کا جینا دوبھر ہوگیا ہے۔ گرمی سے بے حال لوگوں کو اگر کوئی چیز راحت دے سکتی ہے تو وہ ہے بجلی اور پانی کی معقول سپلائی ہے، لیکن پورے شہر میں کئی روز سے بجلی کی بے تحاشا کٹوتی کی وجہ سے لوگ مزید مشکلات کا شکار ہوگئے ہیں۔ بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے پینے کے پانی کی سپلائی میں بھی خلل پڑ رہا ہے ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ بارہا انتظامیہ سے درخواست کے باوجود شہر میں بجلی اور پانی کی معقول سپلائی کو یقینی بنانے کے اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں۔

    گاندھی نگر کے انُج کھوسلا کا کہنا ہے کہ  اس مرتبہ گرمی کی شدت پہلے سے زیادہ محسوس ہو رہی ہے، لیکن بار بار اس علاقے میں بجلی کی کٹوتی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرمی کے ان ایام کے دوران ان کے بزرگ بیمار ماں باپ کافی پریشانیوں کا سامنا کر رہے ہیں اور یہی حال جموں کے دیگر علاقوں میں بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ نیوز18 سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ پی ڈی ڈی نے کئی علاقوں میں اسمارٹ میٹر بھی نصب کئے ہیں، تاہم بجلی کی سپلائی میں کوئی سُدھار دیکھنے کو نہیں مل  رہا ہے۔

     

    یہ بھی پڑھئے : پولیس نے فوج کے ساتھ مل کر پٹن بارہمولہ میں 2ملیٹنٹنوں کو کیا گرفتار، اسلحہ وگولہ بارودضبط


    گنگیال کی آشا دیوی بھی بجلی کی عدم دستیابی کی  وجہ سے پریشان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حیرانی کی بات ہے کہ سرکار کے بلند بانگ دعووں کے باوجود شہر میں غیر ضروری بجلی کٹوتی عمل میں لاکر لوگوں کو پریشان کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ سرکار نے اسمارٹ میٹر لگانے کے بعد بجلی کی سپلائی میں سُدھار کا دعوی کیا تھا ، تاہم ایسا کچھ بھی نہیں ہوا اور لوگ گرمیوں کے ان ایام کے دوران بجلی اور پانے کے لئے ترس رہے ہیں۔ کنجونی کے سنجے بٹ نے کہا کہ بجلی کے بغیر رات گزارنا کافی مشکل ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سرکار کو شہر میں بجلی کی سپلائی میں معقولیت لانے کے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔

    پینے کے پانی کے حوالے سے بھی کئی علاقوں کے لوگ مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔ شہر کے  پکی ڈھکی، جین بازار، پکا ڈھنگا، بن تالاب،  جانی پور کالونی، بوڑی، بہو فورٹ، دُرگا نگر، روپ نگر اور کئی دیگر علاقوں میں پانی کی قلت کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں اور ان کا سرکار سے مطالبہ ہے کہ فوری طور ان علاقوں میں پانی کی سپلائی میں معقولیت لائی جائے۔ پکا ڈھنگا کے راجیش شرما نے نیوز 18 سے بات کرتے  ہوئے کہا کہ انہیں پینے کا پانی اب خرید کا لانا پڑتا ہے کیونکہ سرکاری سپلائی نا کے برابر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پانی کی سپلائی اتنی کم ہے کہ روزانہ کی ضروریات بھی پوری نہیں ہوتی۔

     

    یہ بھی پڑھئے : کشمیر کا دستکار بُن رہاہے قومی پرچم، محبت اور بھائی چارے کا دے رہا ہے پیغام


    برنائی کے رہنے والے اوتار کرشن دھر کا کہنا ہے کہ جہاں پہلے روزانہ صُبح پانی آتا تھا ، وہاں آج گرمی کے ان ایام کے دوران دو دو تین تین دن کے بعد پانی فراہم  کیا جارہا ہے، جس وجہ سے انہیں کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لوگوں کا الزام ہےکہ محکمہ پی ایچ ای کا کام کاج جموں میونسپل کارپوریشن کو سونپے جانے کے بعد شہر میں پانی کی قلت کا معاملہ پیش آیا ہے۔ لوگ سوال کرتے ہیں کہ سرکار کے وہ دعوے کہاں ہیں، جن میں وہ اسمارٹ سٹی کے تحت پانی کی فراہمی میں معقولیت آنے کے دعوے کر رہی تھی۔

    جموں میونسپل کارپوریشن کے مئیر چندر موہن گُپتا کا کہنا ہے کہ کارپوریشن جموں شہر میں پانی کی سپلائی میں جلد بہتری لانے میں کامیاب ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ  یہ سب مشکلات محکمہ پی ایچ ای کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ تاہم اب کارپوریشن ان مشکلات کو دور کرنے کے لئے کمر بستہ ہوگئی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف جموں شہر بلکہ خطہ کے دیگر علاقوں کی بھی ہے اور ایسے سبھی علاقوں کے لوگ سرکار سے ان کی مشکلات کا ازالہ چاہتے ہیں ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: