ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں وکشمیر: ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافہ سے عوام پریشان، ایل جی منوج سنہا نے اٹھایا یہ بڑا قدم

جموں و کشمیر میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے سے لوگ کافی پریشان ہیں۔ مہنگائی نے اپنے تمام پرانے ریکارڑ توڑ دئیے ہیں۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے اشیائے خوردنی کی قیمتیں بھی آسمان چھونے لگی ہیں۔

  • Share this:
جموں وکشمیر: ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافہ سے عوام پریشان، ایل جی منوج سنہا نے اٹھایا یہ بڑا قدم
جموں وکشمیر: ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافہ سے عوام پریشان

جموں و کشمیر: جموں و کشمیر میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے سے لوگ کافی پریشان ہیں۔ مہنگائی نے اپنے تمام پرانے ریکارڑ توڑ دئیے ہیں۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے اشیائے خوردنی کی قیمتیں بھی آسمان چھونے لگی ہیں۔ سبزیوں کے دام گزشتہ چند ماہ سے کافی بڑھ گئے ہیں، جس کی وجہ سے متوسط طبقے کے لوگ پریشان حال ہیں۔ لوگوں کومجبوراً اشیائے ضروریہ مہنگے داموں خریدنی پڑ رہی ہیں جس وجہ سے لوگوں کا بجٹ متاثر ہو رہا ہے۔اگر ہم پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کی بات کریں تو ملک کی باقی ریاستوں کی طرح ہی جموں و کشمیر میں بھی پیٹرول سوروپیے کے اوپر بک رہا ہے جبکہ ڈیزل بھی لگ بھگ اسی قیمت سے فروخت ہو رہا ہے۔


جموں میں پٹرول ایک سو ایک روپئے فی لیٹر جبکہ سری نگر میں ایک سو تین روپئے فی لیٹر بیچا جارہا ہے۔ جموں میں ڈیزل نوے روپئے چوالیس پیسے فی لیٹرفروخت ہو رہا ہے۔ اور سری نگر میں 93 روپئے دس پیسے ڈیزل بک رہا ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں آئے بھاری اچھال کا اثر دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی پڑا ہے جس وجہ سے اشیائے ی قضروریہ بشمول سبزیوں کی قیمت میں 20  سے 30 فیصد بڑھ گئے ہیں۔


ایسے حالات میں عام لوگوں کا پریشان ہونا لازمی ہے۔ یہ بات عیاں ہے کہ پچھلے دو برسوں سےکورونا کی وجہ سے جموں وکشمیرکے لوگ بے حد پریشان ہیں اور کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہیں۔ جس وجہ سے لوگوں کی قوت خرید کم ہوئی ہے۔ لاک ڈاون اورکرفیو کی وجہ سے پورا کاروبار ٹھپ پڑا ہے اور دوکاندار اور سیاحت سے جڑے لوگوں کی آمدنی کافی متاثر ہوئی ہے۔ یہاں بھی ہزاروں لوگ لاک ڈاون کی وجہ سے روزگار کھو بیٹھے ہیں اور اوپر سے مہنگائی نے لوگوں کی کمر ہی توڑ دی ہے۔ اگرچہ انتظامیہ قیمتوں کو اعتدال پر لانے کی یقین دہانیاں دے رہا ہے۔ تاہم زمینی سطح پر کوئی خاص نتیجہ دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے۔ نیوز 18 اردو سے بات کرتے ہوئے جموں کے کئی لوگوں نے مہنگائی پرکنٹرول نہ رکھ پانے کے لئے حکومت  کو ذمہ دارٹھہرایا۔


 لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کو قابو کرنے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ کالا بازاری کرنے والے دکانداروں کے خلاف بھی کاروائی جاری ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کو قابو کرنے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ کالا بازاری کرنے والے دکانداروں کے خلاف بھی کاروائی جاری ہے۔


گاندھی نگر جموں کے انکُش ورما کا کہنا ہے کہ وہ اب اپنی گاڑی کے بجائے اسکوٹر کا استعمال کرنے پر مجبور ہے کیونکہ پٹرول کی قیمتیں اسے گاڑی استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ چھنی ہمت میں رہنے والے راہل سنگھ کا کہنا ہے کہ وہ جیول چوک میں ایک دکان چلا رہے ہیں، لیکن گزشتہ دو برسوں سے انکا کاروبار ٹھپ پڑا ہے، لہٰذا وہ پیدل ہی دکان تک جانے کو ترجیح دے رہے ہیں کیونکہ پٹرول کی قیمتیں کافی بڑھ گئی ہیں۔ سبھاش نگر جموں کی سنیتا کا کہنا ہے کہ ان کےلئے اب گھریلو کچن چلانا بہت مشکل بن گیا ہے کیونکہ اشیائے خوردنی کی قیمتوں نے ان کے گھریلو بجٹ کو متاثر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لاک ڈاون کی وجہ سے ان کے شوہر کی نوکری بھی گی ہے اور یہاں سے مہنگائی نے انہیں پریشان کیا ہے۔انہوں نے حکومت سے مہنگائی کو کنٹرول کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کو قابو کرنے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ کالا بازاری کرنے والے دکانداروں کے خلاف بھی کاروائی جاری ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں میں ایل جی منوج سنہا اور چیف سکریٹری کی صدارت میں کئی میٹنگیں ہوئیں، جن میں محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کار کے افسران کو قیمتوں پرنظر رکھنے اور انہیں قابو کرنے کے اقدامات اٹھانے کی ہدایات دی گئیں۔ سرکاری افسران کا دعویٰ ہے کہ بہت جلد اشیائےخوردنی کی قیمتوں میں کمی آئے گی اور عام لوگ راحت محسوس کریں گے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 17, 2021 03:29 PM IST