ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں وکشمیر کو لے کر ہلچل تیز، آخر کیا ہے وزیر اعظم نریندر مودی کا منصوبہ؟

وزیر اعظم نریندر مودی (Narendra Modi) جمعرات کو سبھی سیاسی جماعتوں کے لیڈروں سے ملاقات کریں گے۔ یہ ملاقات جموں وکشمیر (Jammu & Kashmir) کے موضوع پر ہوگی۔ ملاقات سے پہلے قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے۔ اس بابت الگ الگ قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ آخر جموں وکشمیر کو اب کیا ملے گا؟

  • Share this:
جموں وکشمیر کو لے کر ہلچل تیز، آخر کیا ہے وزیر اعظم نریندر مودی کا منصوبہ؟
وزیر اعظم نریندر مودی اور جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی فائل فوٹو۔

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی (Narendra Modi) جمعرات کو سبھی سیاسی جماعتوں کے لیڈروں سے ملاقات کریں گے۔ یہ ملاقات جموں وکشمیر (Jammu & Kashmir) کے موضوع پر ہوگی۔ ملاقات سے پہلے قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے۔ اس بابت الگ الگ قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ آخر جموں وکشمیر کو اب کیا ملے گا؟ جموں وکشمیر سے متعلق کئے جانے والے آئندہ فیصلے کی تیاری میں شامل افسران میں سے ایک نے CNN-News18 کو بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے فیصلے کو ’عمل کے آغاز‘ کے طور پر دیکھا جائے گا‘۔


افسران نے کہا- ’5 اگست 2019 کے بعد ریاست میں خاص طور پر وادی سیاسی طور پر مستحکم ہے۔ وزیر اعظم جمہوری سیاسی عمل کی حمایت کرنے والوں کے اعتماد کو یقینی بنائیں گے۔ انہیں علیحدگی پسندوں نے پریشان کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ ناکام رہے‘۔


جموں وکشمیر میں سال 2018 سے صدر راج نافذ ہوا ہے۔ اسی سال بی جے پی نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے ساتھ اتحاد توڑ دیا تھا۔ اس کے بعد مرکز نے اگست 2019 میں آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت جموں وکشمیر کو دیئے گئے خصوصی درجے کو ختم کردیا اور اسے مرکز کے زیر انتظام دو ریاستوں میں تقسیم کردیا۔


جموں وکشمیر میں لا اینڈ آرڈر اور سیکورٹی کی صورتحال کنٹرول میں

افسران نے کہا کہ جموں وکشمیر میں لا اینڈ آرڈر اور سیکورٹی کی صورتحال کنٹرول میں ہے، اس لئے جمہوری عمل کی بحالی پر زور دینے کا یہ مناسب وقت ہے۔ افسران نے کہا کہ اگر حکومت اور الیکشن کمیشن فیصلہ کرتے ہیں تو وہ انتخابات کرانے میں مدد کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔

مکمل ریاست بنانے کے سوال پر سرکاری افسران نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت جموں وکشمیر کو ریاست کا درجہ دینے کے لئے پابند عہد ہیں، لیکن یہ کب ہوگا، اس کی کوئی مدت ابھی طے نہیں ہے۔ افسران کے مطابق، ’ضوابط پر عمل کرنا ہوگا۔ جموں وکشمیر تنظیم نو ایکٹ نے جموں وکشمیر کو مرکز کے زیر انتظام ریاست بنادیا۔ اگر موجودہ ایکٹ میں ترمیم کرنا ہے تو پارلیمنٹ کی منظوری ضروری ہے‘۔

حد بندی کمیشن کی رپورٹ پر منحصر ہے فیصلہ

جموں وکشمیر کے مستقبل کو لے کر مرکز کا کوئی بھی فیصلہ حد بندی کمیشن کی رپورٹ پر منحصر کرے گا۔ ریاست میں انتخابی حلقوں کی حد بندی کے لئے 6 مارچ، 2020 کو تشکیل پینل کی اس سال مارچ میں توسیع کر دی گئی تھی۔ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج رنجن پرکاش دیسائی نے 20 ضلع کمشنروں (ڈی سی) کو خط لکھ کر بنیادی ڈیموگرافک اور ٹپوگرافک معلومات کے ساتھ ساتھ متعلقہ آبادی کے سیاسی جھکاو کی رپورٹ طلب کی ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jun 22, 2021 12:03 PM IST