உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وزیر اعظم نریندر مودی نے 'من کی بات' میں کشمیر کے پلوامہ سے تعلق رکھنے والے دو بھائیوں کی ستائش کی 

    وزیر اعظم نریندر مودی نے 'من کی بات' میں کشمیر کے پلوامہ سے تعلق رکھنے والے دو بھائیوں کی ستائش کی 

    وزیر اعظم نریندر مودی نے 'من کی بات' میں کشمیر کے پلوامہ سے تعلق رکھنے والے دو بھائیوں کی ستائش کی 

    مُنیر احمد شیخ اور بلال احمد شیخ نامی دو بھائیوں نے مل کر کاشتکاری میں کافی عرصے سے چل رہی پریشانی کو کُچھ حدتک دور کردیا ہے، جس کے لیے انہیں کئی نامور اداروں سے اعزاز بھی ملے ہیں۔ تاہم آج من کی بات پروگرام میں وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے اپنے خطاب میں مُنیر اور بلال کی ستائش کرنے پر دونوں بھائیوں کو کافی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    پلوامہ: وزیر اعظم نریندر مودی نے ’من کی بات‘ پروگرام میں ضلع پلوامہ کے مورن علاقے کے دو بھائیوں کی Organic Farming میں بہترین کارکردگی پر ستائش کی ہے۔ وادی کشمیر میں باغبانی اور زرعی شعبوں میں کیمیائی کھادوں اور جراثیم کُش ادویات کا استعمال کافی زیادہ بڑھ جانے سے جہاں ماحولیات پر بُرے اثرات مُرتب ہو رہے ہیں۔ تاہم ضلع پلوامہ سے تعلق رکھنے والے دو بھائیوں نے اعلی تعلیم حاصل کرکے سرکاری نوکری کے بجایے Organic Farming کی طرف لوگوں کو راغب کرنے کے لئے
    لیبارٹی اور Vermi compost یونٹ کا قیام عمل میں لایا ہے، جس کے ذریعہ وہ نہ صرف اپنے لئے روزگار حاصل کر رہے ہیں۔ بلکہ دوسروں کو بھی تربیت دے کر روزگار فراہم کرتے ہیں۔

    مُنیر احمد شیخ اور بلال احمد شیخ نامی دو بھائیوں نے مل کر کاشتکاری میں کافی عرصے سے چل رہی پریشانی کو کُچھ حدتک دور کردیا ہے، جس کے لیے انہیں کئی نامور اداروں سے اعزاز بھی ملے ہیں۔ تاہم آج من کی بات پروگرام میں وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے اپنے خطاب میں مُنیر اور بلال کی ستائش کرنے پر دونوں بھائیوں کو کافی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ مُنیر اور بلال نے دو سال قبل Soil testing لیبارٹی سے شروعات کی۔ جوکہ آہستہ آہستہ ایک کامیاب Organic Farming کا یونٹ بن گیا۔ مُنیر نے مدھیہ پردیش ریاست کی یونیورسٹی سے Bio Technology میں ایم ایس سی کرکے سرکاری نوکری کے بجایے Organic Farming کو بڑھاوا دینے
    کے لئے اپنے ہی گھر میں کام شروع کردیا۔

    اسی دوران مُنیر کے بڑے بھائی بلال ایم اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ورمی کمپوسٹ کا چھوٹا سا یونٹ قایم کیا، جس کی مانگ کافی بڑھ جانے کے بعد بلال اور مُنیر نے یونٹ کو بڑھاکر اس کو وصعت دی اور دوسرے نوجوانوں کو بھی روزگار فراہم کیا، جس سے یہ دونوں بھایی اب ایک کامیاب کاروباری بن گیے ہیں۔ گائے کے گوبر سے wormi compost کی کھاد تقریبا تین ماہ کے اندر تیار ہوتی ہے اور بالکل کسی بھی کیمایی کے بغیر ہوتی ہے۔ اگرچہ اس کھاد کو زرعی اور باغبانی شعبے کے لئے کافی مُفید سمجا جاتا ہے، لیکن ابھی تک وادی کشمیر اس نوعیت کا کویی یونٹ قیام عمل میں نہیں لایا گیا ہے جبکہ مُنیر اور بلال دو بھائیوں زرعی یونیورسٹی  کے کریشی ویگیان کیندرا سے تربیت حاصل کرکے نہ صرف ورمی کمپوسٹ کا یونٹ قائم کیا۔ بلکہ جدید سامان سے لیس لیبارٹی کا قیام بھی عمل میں لایا۔ اُنہوں نے مل کر لیبارٹی میں سیب کے درختوں کو لگنے والی روٹ راٹ نامی بیماری کے لئے بھی دوائی تیارکی ہے، جو کہ بالکل chemical کے بغیر ہے۔

    مُنیر کا کہنا ہے کہ زیادہ کمیکل استعمال ہونے سے ماحول کافی آلودہ ہوا ہے۔ دوسری جانب محکمہ باغبانی پلوامہ کے آفیسر نثار احمد نے نیوز اُردو 18 کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ  وقت کی اہم ضرورت ہے کہ کاشتکار organic farming کی طرف توجہ دے، جس کے لئے محکمہ اُنہیں ہرممکن مدد فراہم کرے گا۔ وادی کشمیر معیشت میں زرعی اور باغبانی شعبے کا کافی اہم رول رہتا ہے۔ پلوامہ کے مورن گاؤں کے مُنیر اوربلال نے اعلی تعلیم حاصل کرکے Organic Farming کو بڑھاوا دیا۔ ان کے اس عمل سے نہ سرف ان کو بہتر روزگار حاصل ہوا ہے۔ بلکہ دوسروں کو روزگار فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ دوسرے پڑھے لکھے نوجوانوں کے لئے اچھی مثال بھی قائم کی ہے۔ جو کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد صرف سرکاری نوکریوں تک ہی محدود رہتے ہیں۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: