உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    24 اپریل کو PM Modi کے جموں دورے سے پنچایتی و دیگر عوامی نمائندوں کی کافی امیدیں وابستہ

    جموں و کشمیر کے متتخب پنچایتی ممبران کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے اس دورے سے پنچایت راج ادارے مزید مستحکم ہونے کے قومی امکانات ہیں۔ آر ایس پورہ کے کیر پین گاؤں کی سرپنچ سربجیت کور 2019 سے اپنے حلقے میں بطور سرپنچ اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔

    جموں و کشمیر کے متتخب پنچایتی ممبران کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے اس دورے سے پنچایت راج ادارے مزید مستحکم ہونے کے قومی امکانات ہیں۔ آر ایس پورہ کے کیر پین گاؤں کی سرپنچ سربجیت کور 2019 سے اپنے حلقے میں بطور سرپنچ اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔

    جموں و کشمیر کے متتخب پنچایتی ممبران کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے اس دورے سے پنچایت راج ادارے مزید مستحکم ہونے کے قومی امکانات ہیں۔ آر ایس پورہ کے کیر پین گاؤں کی سرپنچ سربجیت کور 2019 سے اپنے حلقے میں بطور سرپنچ اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔

    • Share this:
    jammu and kashmir: وزیر اعظم نریندر مودی Prime Minister Narendra Modi اس ماہ کی 24 تاریخ کو جموں و کشمیر کے ایک روزہ دورے پر آرہے ہیں۔ اپنے اس دورے کے دوران نریندر مودی جموں کے سانبہ ضلع میں منعقد ہونے والی پنچایت کانفرنس سے خطاب کریں گے۔ جموں و کشمیر کے متتخب پنچایتی ممبران کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے اس دورے سے پنچایت راج ادارے مزید مستحکم ہونے کے قومی امکانات ہیں۔ آر ایس پورہ کے کیر پین گاؤں کی سرپنچ سربجیت کور 2019 سے اپنے حلقے میں بطور سرپنچ اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ پچھلے ساڑے تین سال کے اپنے کام کاج کے دوران انہوں نے اپنے حلقے میں کئی ترقیاتی کاموں کو انجام دیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ اگرچہ انکی پنچایت نے علاقے میں کئی چھوٹ موٹے ترقیاتی کاموں کو انجام دیا ہے تاہم حلقے میں کئی ایسے کام ہیں جن کو پاۓ تکمیل تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔ انکا کہنا ہے کہ مقامی لوگ ہمیشہ اس بات کا تقاضہ کرتے آئے ہیں کہ غریبوں کے لئے مختلف اسکیموں کے تحت مکانات تعمیر کرنے کا کام ترجیحی بنیادوں پر کیا جانا چاہئیے۔ سربجیت کور نے کہا کہ وزیر اعظم کی پنچایت کانفرنس میں انہیں بھی مدعو کیا گیا ہے اور وہ امید رکھتی ہیں کہ وزیر اعظم پنچایتوں کے لئے مزید رقومات واگزار کریں گے، تاکہ پنچائیتیں اپنا کام اچھی طرح سے انجام دے سکیں گے۔ دیگر پنچایتی ممبران بھی یہ کہتے ہیں کہ دیہی علاقوں میں کافی سارا کام ہوا ہے تاہم عوامی مفاد کے کئی کام ابھی بھی باقی ہیں۔
    کلونت سنگھ نامی پنچایتی نمایندے کی بھی کچھ اسی طرح کی امیدیں قائم ہو گئ ہیں۔ کلونت کا کہنا ہے کہ پنچایت راج کو مزید مستحکم بنانے اور پنچایتی نمائندوں میں خود اعتمادی کا مادہ بڑھانے کےلیے وزیراعظم کا دورہ معنی خیز ثابت ہو سکتا ہے۔ سال 2018 میں جموں و کشمیر میں پنچایتی انتخابات ہونے کے بعد بر سر اقتدار آئے پنچایتی ممبران اس بات سے تھوڑے مایوس ہیں کہ انکی امیدوں کے مطابق انہیں ابھی تک اختیارات پورے طور پر نہیں مل پائے ہیں۔ ایسے ممبران کا کہنا ہے کہ منریگا سکیم کے تحت ابھی بھی کافی رقومات واگزار نہیں کئے گئے جس وجہ سے مختلف کاموں کو انجام دینے میں دقتیں پیش آرہی ہیں۔ اُدھر وادی کشمیر میں پنچایت ممبران کو سکیورٹی کے حوالے سے کافی پریشانیاں جھیلنی پڑ رہی ہیں ۔ ایسے ممبران کو سرکار نے سکیورٹی کی بنا پر مختلف ہوٹلوں میں رکھا گیا ہے اور وہ اپنے اپنے حلقوں میں آسانی کے ساتھ کام نہیں کر پارہے ہیں۔

    یہ بھی پڑھیں: دھمکی آمیز خط کے بعد بارہمولہ کےKashmiri migrants نے DC کو پیش کیا میمورنڈم، کیا یہ مطالبہ
    ادھر آل جے اینڈ کے پنچایت کانفرنس سے منسلک افراد کی وزیراعظم دورے اور انکی مجوزہ میٹنگ سے کافی امیدیں وابستہ ہیں۔ کانفرنس کے صدر انل شرما کا کہنا ہے کہ پنچایتی نمائندوں کو معقول سیکورٹی فراہم کرنے کےلیے وزیراعظم کو ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہیے، کیونکہ کشمیر میں ابھی تک متعدد پنچایتی نمائندوں کو شہید کر دیا گیا ہے لیکن اسکے باوجود بھی پنچایتی نمائندوں نے کشمیر میں ترنگے کو اونچا رکھا ہے۔ اس لیے سرکار پر انہیں معقول سیکورٹی فراہم کرنی چاہیے تاکہ بلدیاتی و پنچایتی اداروں کی زمینی سطح پر ترقیاتی خاکوں پر پکڑ مضبوط بنی رہے۔

    آل جے اینڈ کے پنچایت کانفرنس کے نائب صدر امجد حسین کھٹانہ اور دیوسر کولگام کے ڈی ڈی سی میمبر ریاض احمد بٹ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اور وزیر داخلہ کو کشمیر میں پنچایتی و دیگر عوامی نمائندوں کی سیکورٹی فراہم کرنے کےلیے خصوصی احکامات صادر کرنے چاہیے اور انکے دورے سے پنچایتی راج اداروں کی کافی امیدیں وابستہ ہیں۔ ان نمایننمائندوں وں کا مزید کہنا ہے کہ انکی سیکورٹی کو کیٹوگورائز بنیادوں پر فراہم کیا جائے تاکہ کشمیر میں آئن ہند اور پنچایتی راج اداروں کو مزید تقویت بخشنے کےلیے انہیں کھلے اور آزاد ماحول میں کام کرنے کا موقع مل سکے۔


    نیشنل پنچایت ڈے کے موقع پر منعقد ہونے والی اس کانفرنس کے زریع نریندر مودی پورے ملک کے پنچایت ممبران تک اپنی بات پہنچائیں گے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ جموں و کشمیر سے دفعہ تین سو ستھر ہٹائے جانے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی پہلی بار جموں و کشمیر کے دورے پر آرہے ہیں ۔ ایسے میں نہ صرف پنچایتی ممبران بلکہ عام عوام کو بھی وزیر اعظم کے اس دورے سے کافی امیدیں وابستہ ہیں۔

     
    Published by:Sana Naeem
    First published: