اپنا ضلع منتخب کریں۔

    ہماری جڑیں کشمیر میں ہیں اور ہم واپس جانا چاہتے ہیں، لیکن سرکار ہماری حفاظت کیلئے معقول اقدامات اٹھائے : پی ایم پیکج ملازمین

    ہماری جڑیں کشمیر میں ہیں اور ہم واپس جانا چاہتے ہیں لیکن سرکار ہماری حفاظت کیلئے معقول اقدامات اٹھائے : پی ایم پیکج ملازمین

    ہماری جڑیں کشمیر میں ہیں اور ہم واپس جانا چاہتے ہیں لیکن سرکار ہماری حفاظت کیلئے معقول اقدامات اٹھائے : پی ایم پیکج ملازمین

    Jammu and Kashmir : جموں میں واقع ریلیف اور بازآبادکاری محکمہ کے کمشنر کے دفتر کے احاطے میں ایک خیمے کے نیچے بیٹھے کشمیری پنڈت مہاجر ملازمین اپنے مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں۔ ان ملازمین کو کشمیر میں اقلیتوں کی ٹارگٹ کلنگ، جس میں ان کے کچھ ساتھی بھی شامل تھے، کے بعد وادی کشمیر سے غیر ارادی طور پر ہجرت کرنا پڑی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu and Kashmir | Jammu | Srinagar
    • Share this:
    جموں و کشمیر : جموں میں واقع ریلیف اور بازآبادکاری محکمہ کے کمشنر کے دفتر کے احاطے میں ایک خیمے کے نیچے بیٹھے کشمیری پنڈت مہاجر ملازمین اپنے مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں۔ ان ملازمین کو کشمیر میں اقلیتوں کی ٹارگٹ کلنگ، جس میں ان کے کچھ ساتھی بھی شامل تھے، کے بعد وادی کشمیر سے غیر ارادی طور پر ہجرت کرنا پڑی۔ ان ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ ٹارگٹ کلنگ کے بعد وادی میں غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وادی میں ان کی واپسی کے لیے حالات سازگار ہونے تک انہیں کشمیر سے باہر تعینات کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ وادی سے باہر دفاتر میں کام کر کے لوگوں کی خدمت کرنے کے لیے تیار ہیں جب تک نہ وادی کشمیر میں حالات سازگار ہوں۔

    یوگیش پنڈتا نامی مائیگرنٹ ملازم نے نیوز 18 کو بتایا کہ سرکاری عہدیداران جانتے ہیں کہ ملازمین کے مسائل حقیقت پر مبنی ہیں تاہم کوئی حل تلاش نہیں کیا جارہا ہے۔ ’’ہماری جڑیں کشمیر میں ہیں اور ہم اپنی مادر وطن کو ہمیشہ کے لیے نہیں چھوڑ سکتے۔ یہ تصور نہیں کیا جانا چاہئے کہ ہم (مہاجر ملازمین) کشمیر واپس جانے میں دلچسپی نہیں رکھتے، ہم جانے کے لیے تیار ہیں لیکن اقلیتوں کی ٹارگٹ کلنگ کے پیش نظر ہم خوفزدہ ہیں، اقلیتوں کے لوگوں کو ان کے شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد قتل کیا گیا، ان حالات میں ہم کیسے خود کو محفوظ محسوس کر سکتے ہیں؟ حکام کو یہ بھی معلوم ہے کہ ہمارے خدشات درست ہیں لیکن حل کا انتظار ہے''۔

     

    یہ بھی پڑھئے: امت شاہ کے جموں وکشمیر دورے کے کیا رہے مثبت نتائج، جانئے دفاعی اور سیاسی ماہرین کی رائے


    ایک اور مہاجر ملازم رنجن جیوتشی نے نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ تارکین وطن ملازمین کو رہائش فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ" انتظامیہ نےکہا تھا کہ تارکین وطن ملازمین کو محفوظ رہائش فراہم کی جائے گی لیکن وہ ابھی تک کئی مقامات پر زمین کی نشاندہی نہیں کر سکی ہے۔ ہمارے زیادہ تر ساتھی کرائے کی عمارتوں میں رہائش پذیر ہیں۔ ٹارگٹ کلنگ کے بعد وہ خوفزدہ ہیں"۔ ملازمین چاہتے ہیں کہ حکومت ایک کمیٹی تشکیل دیں جو ان سے بات کرے گی تاکہ وہ اپنے تحفظات حکومت کے سامنے رکھ سکیں۔

     

    یہ بھی پڑھئے: جموں کو دہلانے کی کوشش ناکام، کٹھوعہ سے سٹکی بم کی بڑی کھیپ برآمد، ایک دہشت گرد گرفتار


    پی ایم پیکج ملازمین کے رہنما روبن سپرو نے نیوز 18 کو بتایا کہ اس اقدام سے خوش اسلوبی سے حل تلاش کرنے میں مدد ملے گی اور ملازمین وادی میں واپس جاسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ "ہم چاہتے ہیں کہ حکومت ایک کمیٹی تشکیل دے جو پی ایم پکیج کے تحت کام کرنے والے کشمیری پنڈت ملازمین سے بات کرے تاکہ ہمارے مسائل حل ہوسکیں۔ ملازمین نے ایک مرتبہ ایل جی منوج سنہا کے ساتھ بھی بات چیت کی تھی تاہم ایک ملاقات کے یہ سلسلہ رک گیا۔ ہم حکومت سے بات کرنا چاہتے ہیں تاکہ ایک ایسا حل تلاش کیاجائے جو ایل جی انتظامیہ اور ملازمین دونوں کو قابل قبول ہو"۔

    قابل ذکر بات یہ ہے کہ وزیر اعظم  پیکج کے تحت تقریباً چھ ہزار کشمیری مہاجرین مختلف سرکاری محکموں میں وادی کشمیر میں تعینات کئے گئے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر ملازمین نے ٹارگٹ کلنگ کے بعد وادی سے نقل مکانی کی ہے۔ یہ ملازمین گزشتہ تین ماہ سے زائد عرصے سے وادی سے باہر اپنی تعیناتی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کررہے ہیں۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: