உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر کے ملیٹنسی متاثرہ علاقوں میں پوست منشیات کے خلاف پولیس کی کارروائی

    جموں وکشمیر کے ملیٹنسی متاثرہ علاقوں میں پوست منشیات کے خلاف پولیس کی کارروائی

    جموں وکشمیر کے ملیٹنسی متاثرہ علاقوں میں پوست منشیات کے خلاف پولیس کی کارروائی

    جموں وکشمیر میں ملیٹنسی متاثرہ علاقوں میں پوست جیسی منشیات کے خلاف جموں وکشمیر پولیس کی کارروائی تفصیلات کے مطابق، جموں وکشمیر پولیس نے ضلع پلوامہ میں پوست کی کاشت کے خلاف ایک خصوصی مہم چلائی۔

    • Share this:
    پلوامہ: جموں وکشمیر میں ملیٹنسی متاثرہ علاقوں میں پوست جیسی منشیات کے خلاف جموں وکشمیر پولیس کی کارروائی تفصیلات کے مطابق، جموں وکشمیر پولیس نے ضلع پلوامہ میں پوست کی کاشت کے خلاف ایک خصوصی مہم چلائی۔ ایس ایس پی پلوامہ غلام جیلانی کی ہدایت پر پولیس کی ایک خصوصی ٹیم ڈی ایس پی ہیڈکوارٹرکی سربراہی میں ضلع پلوامہ کے گنڈی پورہ اور پنگلینہ میں کئی کنال اراضی پرکاشت کی گئی سبز پوست کو تباہ کیا۔ اس کے علاوہ پولیس نے موقع سے 21 کلو سبز پوست برآمد کرکے قبضے میں لے لی۔

    اس سلسلے میں ایف آئی آر نمبر 107/22 U/S 8/18 NDPS ایکٹ پولیس اسٹیشن پلوامہ میں دو ملزمان کے خلاف کیس درج کیا گیا ہے، جن کا نام غلام رسول بھٹ ساکنہ پنگلینہ اور نذیر احمد میر ساکنہ گنڈی پورہ پلوامہ۔ مقامی لوگوں نے پولیس کی اس کارروائی کی سراہنا کی۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    جموں وکشمیر: ہندو مسلم بھائی چارہ کی بہترین مثال، پنڈت خاتون ریتا کی آخری رسومات مسلمانوں نے ادا کی

    پلوامہ پولیس نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پولیس کے ساتھ ہاتھ جوڑیں اور اپنے آس پاس کے علاقوں میں سماج دشمن سرگرمیوں سے متعلق کسی بھی قسم کی معلومات کے ساتھ سامنے آئیں تاکہ منشیات کی لعنت کو مکمل طور پر ختم کیا جاسکے تاکہ ضلع میں منشیات سے پاک ماحول کو یقینی بنایا جاسکے اور ایسی سرگرمیوں میں ملوث پائے جانے والے مجرموں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ قانون کے تحت اس طرح کی مہم مستقبل میں بھی جاری رہے گی۔

    واضح رہے کہ وادی کے دوسرے حصوں کی طرح ہی پلوامہ میں بھی کچھ خود غرض عناصر نامساعد حالات کا ناجائز فائدہ اٹھا کر پوست اور بھنگ جیسے منشیات کی کاشت کرتے ہیں۔ تاہم کچھ برسوں پولیس اور انتظامیہ نے منشیات کی کاشت کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی کاشت میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جارہی ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: