ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں وکشمیر: کپواڑہ میں فرضی ڈاکٹر کو پولیس نے کیا گرفتار

پولس کو ایک مصدقہ اطلاع ملی تھی کہ کپواڑہ میں سری نگر سے آ رہا ایک شخص ڈاکٹر بن کرلوگوں کا علاج کر رہا ہے اور اصل میں وہ سری نگر میں ایک اسپتال میں سنٹری انسپکٹرکی حثیت سے اپنی نوکری انجام دے رہا ہے، لیکن کپواڑہ میں نقلی ڈاکٹر بن کر عام لوگوں کا علاج کررہا ہے۔

  • Share this:
جموں وکشمیر: کپواڑہ میں فرضی ڈاکٹر کو پولیس نے کیا گرفتار
جموں وکشمیر: کپواڑہ میں فرضی ڈاکٹر کو پولیس نے کیا گرفتار

کپوارہ: مریضوں کو صحتیاب کرنے کے نام پر انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ کھلواڑ کرنے والے مہصود احمد نامی ایک فراڈ ڈاکٹر کو آج کپواڑہ پولیس نے گرفتار کرلیا۔ ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر کپواڑہ مدثر احمد کی سربراہی میں ایک پولس ٹیم نے جس میں ایس ایچ او کپواڑہ محمد اشرف اور ڈی او کپواڑہ تنویر احمد نے آج سویرے ایک پرائیویٹ کلینک پر چھاپہ ماری کی۔ پولس کو ایک مصدقہ اطلاع ملی تھی کہ کپواڑہ میں سری نگر سے آ رہا ایک شخص ڈاکٹر بن کرلوگوں کا علاج کر رہا ہے اور اصل میں وہ سری نگر میں ایک اسپتال میں سنٹری انسپکٹرکی حثیت سے اپنی نوکری انجام دے رہا ہے، لیکن کپواڑہ میں نقلی ڈاکٹر بن کر عام لوگوں کا علاج کر رہا ہے۔ جوں ہی پولس نے کلنیک پر چھاپہ ماری کی تو اس نقلی ڈاکٹر نے پولس کے سامنے اعتراف کیا کہ وہ نقلی ڈا کٹر ہے۔


المیہ یہ ہے کہ پچھلے دو سال مھصود احمد نامی یہ نقلی ڈاکڑ کپواڑہ میں لوگوں کا علاج کرتا تھا اور کسی بھی شخص کو اس کی بھنک بھی نہیں ہوئی اور اس نے دو سو روپئے فیس رکھی تھی، اس سے بڑا المیہ کیا ہوگا کہ اسپتال کے بہت قریب یہ ایک پرائیویٹ کلینک پر لوگوں کا علاج کرتا تھا، لکین کسی کو آج تک اس کی بھنک بھی نہیں ہوئی۔ اتنا ہی نہیں اس نقلی ڈاکٹر نے اس پرائیویٹ کلینک پر ایم بی بی ایس اور ایم ڈی کی ڈگریاں چسپاں کی تھیں۔ تاکہ لوگوں کو پوری طرح یقین ہوجائے کہ یہ اصلی ڈا کٹر ہے۔


پولیس کی اس کارروائی کی آج عوام نے ستائش کی اور اس نقلی ڈا کٹر کو قرار واقعی سزا دلوانے کا مطالبہ کیا۔ تاکہ مستقبل میں کوئی بھی شخص اس طرح کی جرات نہ کر سکے۔ تاہم کپواڑہ پولس نے اس سلسلے میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی اور ابتدائی تحقیقات میں تین افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور بڑے پیمانے پر تحقیقات شروع کی گئی۔ صورتحال کا درد ناک پہلو یہ ہے کہ پچھلے چار سال سے یہ ڈاکٹر نما ٹھگ مریضوں کے ساتھ فراڈ کرتا رہا، یہ سب کچھ محکمہ صحت کے اعلی مرکز کے قریب میں ہوتا رہا اور محکمہ کو اس کی بھنک بھی نہیں لگی۔ لہٰذا اب ضلع بھر میں پرائیویٹ کلینک پر موجود ڈاکٹروں سے متعلق شبہات نے جنم لیا ہے۔


اب دیکھنا یہ ہوگا کہ مذکورہ ڈاکڑوں کے پاس علاج کرنے والے مریضوں کو اعتماد اب کیسے بحال ہو اب ضرورت اس بات کی ہے کہ پرائیویٹ کلینکوں پرکام کر رہے ڈاکٹروں کی جانچ ہونی چاہئے تاکہ لوگوں کا اعتماد بحال ہوسکے۔ کیونکہ اب لوگوں میں اس طرح کے واقعہ سے تشویش پائی جارہی ہے کہ اس طرح کے نقلی ڈاکٹروں سے کبھی کوئی بڑا حادثہ پیش آسکتا ہے اور پرائیویٹ کلینک چلانے والوں کی اسناد بھی چیک ہونے چاہئے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Sep 06, 2020 11:59 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading