உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    فرضی اینٹی کرپشن بیورو کے اہلکار پولیس کے شکنجے میں، اے سی بی کے نام پر کرتے تھے وصولی

    مرکز کے زیر انتظام جموں وکشمیر میں جہاں رشوت ستانی پر قابو پانے کے لئے سرکار سخت اقدامات کر رہی ہے وہیں انسداد رشوت ستانی کے سلسلے میں مرتب کی گئی قانونی ایجنسیاں اب رشوت دے کر کام کرانے والے لوگوں کے لئے خوف کا باعث بن گئی ہیں۔

    مرکز کے زیر انتظام جموں وکشمیر میں جہاں رشوت ستانی پر قابو پانے کے لئے سرکار سخت اقدامات کر رہی ہے وہیں انسداد رشوت ستانی کے سلسلے میں مرتب کی گئی قانونی ایجنسیاں اب رشوت دے کر کام کرانے والے لوگوں کے لئے خوف کا باعث بن گئی ہیں۔

    مرکز کے زیر انتظام جموں وکشمیر میں جہاں رشوت ستانی پر قابو پانے کے لئے سرکار سخت اقدامات کر رہی ہے وہیں انسداد رشوت ستانی کے سلسلے میں مرتب کی گئی قانونی ایجنسیاں اب رشوت دے کر کام کرانے والے لوگوں کے لئے خوف کا باعث بن گئی ہیں۔

    • Share this:
    جموں: مرکز کے زیر انتظام جموں وکشمیر میں جہاں رشوت ستانی پر قابو پانے کے لئے سرکار سخت اقدامات کر رہی ہے وہیں انسداد رشوت ستانی کے سلسلے میں مرتب کی گئی قانونی ایجنسیاں اب رشوت دے کر کام کرانے والے لوگوں کے لئے خوف کا باعث بن گئی ہیں۔ ایسے میں اس خوف کا ناجائز فائدہ اٹھانے کے لئے کئی مجرم ان ایجنسیوں کے نام پر لوگوں کو دھمکا رہے ہیں اور ان سے روپیوں کا تقاضہ کرتے ہیں۔
    ایسی ہی ایک مثال جنوبی کشمیر کے اننت ناگ میں دیکھنے کو ملی جہاں پر پولیس نے فرضی اینٹی کرپشن بیورو یعنی اے سی بی کے ایک گروپ کا پردہ فاش کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، پولس چوکی جنگلات منڈی کو جاوید احمد ڈار نامی شخص کی طرف سے شکایت موصول ہوئی کہ بلبل نوگام اننت ناگ میں قائم اس کے اینٹوں کے بھٹے میں کچھ لوگ اس کو اے سی بی کے نام سے دھمکا رہے ہیں اور ان سے ایک لاکھ روپئے کا تقاضہ کر رہے ہیں۔ تاہم دھمکی کی بعد جاوید نے انہیں 20 ہزار روپے دیئے۔ جبکہ ان کے پاس ایک این جی او کے شناختی کارڈ کے ساتھ افراد یعنی نیشنل اینٹی کرائم، اینٹی ڈرگس اور تفتیشی انٹلی جنس میڈیا سروس کے شناختی کارڈ موجود تھے۔

    اس اطلاع پر متعلقہ دفعات کے تحت پولیس اسٹیشن اننت ناگ میں مقدمہ درج کیا گیا اور پولس چوکی جنگلات منڈی کی پولیس پارٹی حرکت میں آگئی اور دوران تفتیش چار ملزمین شارق محی الدین شیخ ولد  محی الدین شیخ، امیر حسن نائیکو  ولد حسن نائیکو دونوں ساکن بٹ گنڈ ڈورو، سبزار احمد پیری ولد بشیر احمد پیری ساکن منزموہ قاضی گنڈ اور موذن نذیر بٹ ولد نذیر احمد بٹ ساکن ناگبل بانہال کو گرفتار کیا گیا۔

    ان کے قبضے سے کرائم انوسٹی گیشن اینڈ اینٹی کرپشن بیورو (این جی او) کے شناختی کارڈز اور 24000 روپئے نقدی برآمد ہوئے اورگاڑی جس کا رجسٹریشن نمبر جے کے 19/ 4377 تھا جو کہ جرائم کے ارتکاب میں استعمال ہوتی تھی کو بھی قبضے میں لےلیا گیا۔ پولیس نے اس ضمن میں معاملہ درج کرکے مزید تحقیقات شروع کر دی ہے۔ جبکہ عوام سے ایسے معاملات میں آگے آنے اور ایسے عناصر کو پکڑنے میں پولیس کی مدد کرنے کی اپیل کی ہے۔
    دوسری جانب عوامی حلقوں نے پولیس کی اس کارروائی کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ ایسی شکایات کئی علاقوں سے آرہی ہیں، جہاں پر اینٹی کرپشن کے ناموں سے منسوب مختلف فرضی ایجنسیاں اور این جی اوز لوگوں کو دھمکاتے ہیں اور رشوت کا تقاضا کرتے ہیں۔ لوگ چاہتے ہیں کہ ایسے سبھی افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے اوراینٹی کرپشن کے نام سےمنسوب کسی بھی ایجنسی رجسٹریشن منسوخ کی جانی چاہئے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: