உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہندواڑہ میں مندر کی ڈیوٹی پر تعینات سنتری کی گولی سے اپنے ہی پولس اہلکار کی موت

    چنانچہ سینتری نے اسے دہشت گردانہ حملہ سمجھ کر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں وہ مارا گیا تاہم اس سلسلے میں مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہے

    چنانچہ سینتری نے اسے دہشت گردانہ حملہ سمجھ کر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں وہ مارا گیا تاہم اس سلسلے میں مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہے

    چنانچہ سینتری نے اسے دہشت گردانہ حملہ سمجھ کر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں وہ مارا گیا تاہم اس سلسلے میں مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہے

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    کپواڑہ ضلع کے ہندوارہ علاقے میں گزشتہ شب مندر کی تعیناتی پر مامور سنتری نے دوران شب زبردستی مندر میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے ملیٹنٹ سمجھ کر ایک پولیس اہلکار کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ دوران شب سنتری کو مندر کے باہر مشکوک حالت میں کسی شخص کو مندر میں دآخل ہونے کی کوشش کرتے پایا گیا کہ اس دوران سنتری نےاس سے ملیٹنٹ سمجھ کر فائرنگ کھول دیا جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہو گیا جس کی شناخت اجے دھر ولد اآنجہانی کرشن دھر ساکن لنگیٹ ہندوارہ ے بطور ہوئی ہے۔ اس ضمن میں ڈی آئی جی شمالی کشمیر شوجیت کمار سنگھ نے ٹویٹ کرتے ہوئے اسے بدقسمت واقعہ قرار دیتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ گذشتہ شب کے دوران پولیس اسٹیشن ہندوارہ میں تعینات اجے دھر ساکن آںجہانی کرشن لال دھر ساکن لنگیٹ اس وقت ہلاک ہو گیا جب وہ ان کے بقول زبردستی شب کے دوران مندر میں داخل ہونے کی کوشش کررہا تھا۔

    چنانچہ سینتری نے اسے دہشت گردانہ حملہ سمجھ کر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں وہ مارا گیا تاہم اس سلسلے میں مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہے جبکہ بقول ڈی آئی جی کا کہنا ہے کہ ایسٹینش افسر کے خلاف ڈپارٹمنٹل انکوئری شروع کی گئی ہے۔

    اس واقع سے پولس اسٹیشن ہندوارہ میں دوران شب افراتفری کا ماحول پیدا ہوگیا ۔تاہم پولس نے پولس اہلکار کی لاش کو تحویل میں لے کر اخری رسومات انجام دی بقول پولس اگر چہ زخمی پولس اہکار کو فوری طور اسپتال پھچیایا گیا تاہم وہ زخمیوں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بھیٹا ۔یہ خبر سنتے مارے گئے پولس اہلکار کے گھر پر صف ماتم بہچ گئی اور کہرام مچ گیا ۔ اس واقع سے پورے علاقے میں سف ماتم بہچ گئی ۔ پولس ذرائع کے مطابق ی ہندوارہ پولس نے مندد میں تعینات پولس اہکاروں سے پوچھ تاچھ شروع کی تاکہ اصل حقائق کو سامنے لائے جاسکے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: