உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News: اسمبلی انتخابات میں تاخیر پر جموں و کشمیر کی سیاسی پارٹیوں میں غصہ

    J&K News: اسمبلی انتخابات میں تاخیر پر جموں و کشمیر کی سیاسی پارٹیوں میں غصہ

    J&K News: اسمبلی انتخابات میں تاخیر پر جموں و کشمیر کی سیاسی پارٹیوں میں غصہ

    Jammu and Kashmir : مرکزی الیکشن کمیشن کی طرف سے ووٹر فہرست کے نظر ثانی کے عمل کو پچیس نومبر تک بڑھانے کی نوٹیفیکشن کے بعد سے جموں و کشمیر کی سیاسی پارٹیوں میں ایک نئی ہلچل شروع ہوگئی ہے۔

    • Share this:
    جموں : مرکزی الیکشن کمیشن کی طرف سے ووٹر فہرست کے نظر ثانی کے عمل کو پچیس نومبر تک بڑھانے کی نوٹیفیکشن کے بعد سے جموں و کشمیر  کی سیاسی پارٹیوں میں ایک نئی ہلچل شروع ہوگئی ہے۔ الیکشن کمیشن کی ان ہدایات کے بعد اب ایسا محسوس کیا جارہا ہے کہ اس سال بھی جموں و کشمیر یو ٹی میں انتخابات نہیں ہوں گے، جس پر  علاقا ئی سیاسی جماعتیں نالاں ہیں۔ کیونکہ اس سال کے اوائیل سے ہی جموں و کشمیر میں انتخابی کمیشن کی طرف سے انتخابات سے متعلق سرگرمیوں میں آئی تیزی سے  امید جتائی جارہی تھی کہ اس سال انتخابات ہونے جارہے ہیں۔ پہلے مرکزی  سرکار نے حد بندی کمیشن سے جموں و کشمیر کے اسمبلی اور پارلیمانی حلقوں کی از سر نو حد بندی کی سفارشات طلب کیں اور بعد میں  مرکزی الیکشن کمیشن نے  جموں و کشمیر کے مختلف مقامات پر  انتخابات کے حوالے سے کئی تربیتی پروگراموں کا بھی انعقاد کیا  ۔

    الیکشن کمیشن کے ممبران نے کئی مرتبہ جموں اور سرینگر کا دورہ بھی کیا اور ایسے اشارے مل رہے تھے کہ اس  سال کے  آخر میں یہاں انتخابات ہوں گے اور اس کے لئے سیاسی جماعتوں نے بھی اپنی سرگرمیاں تیز کردی تھیں ۔  نو اگست کو انتخابی کمیشن کی طرف سے ووٹر فہرستوں پر نظر ثانی کے عمل کے بارے میں جاری ہدایات کے تحت اس کام کے لئے پچیس نومبر کی تاریخ مقرر کی گئی جس سے لوگ اور سیاسی پارٹیاں یہ محسوس کر رہی ہیں کہ اس سال بھی یو ٹی میں انتخابات نہیں ہوں گے۔ ایسے حالات میں یہاں کی سیاسی جماعتیں کافی نالاں ہیں اور ان کا الزام ہے کہ مرکزی سرکار جان بوجھ کر یہاں کے انتخابات میں تاخیر کر رہی ہے۔

     

    یہ بھی پڑھئے: بہار کے 19سالہ نوجوان کا جموں۔کشمیر میں دہشت گردوں نےگولی مار کر ڈالا قتل


    نیشنل کانفرنس کے جموں کے صدر رتن لعل گُپتا  نے نیوز 18 اردو سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مرکزی سرکار جان بوجھ کر جموں و کشمیر میں انتخابات میں تاخیر کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کہ وہ یہاں فی الحال انتخابات نہیں کرانا چاہتی ہے او ر ایسے میں ہی لوگوں کو دوکھ دے رہی ہے۔ جموں و کشمیر اپنی پارٹی کے جموں صدر منجیت سنگھ کا کہنا ہے کہ مرکزی سرکار دونوں لوگوں اور یہاں کی سیاسی جماعتوں سے مذاق کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمامم سیاسی جماعتوں نے اپنی سیاسی سرگرمیاں تیز کردی تھیں تاکہ ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لئے تیار رہا جائے، لیکن مرکزی سرکار آج ایک بات تو کل دوسری بات کہہ کر لوگوں کو مایوس کر رہی ہے۔

     

    یہ بھی پڑھئے: کشمیریونیورسٹی کا ڈیٹاہیک؟ 10 لاکھ طلبہ کاڈیٹا فروخت کرنےکادعویٰ


    ادھر بی جے پی کے سینیر لیڈر کویندر گُپتا نے کہا کہ مرکزی سرکار جلد انتخابات کے حق میں ہے مگر الیکشن کمیشن کی طرفسے جو لوازمات پورے کئے جانے ہیں وہ تو لازمی ہے اور یہ کام مکمل ہونے کے بعد الیکشن ہوں گے۔ انہوں نے اپوزیشن کو مشورہ دیا کہ وہ اس پر سیاست کرنے سے گریز کریں اور ہر بار کی طرح مرکزی سرکار کی منشا پر شک نہیں کرنا چاہئیے۔لوگ بھی اس حق میں ہیں کہ جموں و کشمیر یو ٹی میں جلد سے جلد اسمبلی انتخابات ہوں ۔ ادھر بی جے پی کے لیڈران بھی دبے الفاظوں میں جلد انتخابات کی خواہش کا اظہار تو کرتے ہیں لیکن کیمرے کے سامنے بولنے سے کتراتے ہیں۔

    سیاسی مبصرین بھی مانتے ہیں کہ الیکشن جلد سے جلد کروائے جانے چاہئیں لیکن ساتھ میں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ووٹر فہرستوں کی نظر ثانی کسی جلد بازی کے بغیر ہو تاکہ ہر کسی کو ووٹ کا حق مل پائے۔ سیاسی مبصر پروفیسر پرکھشت منہاس نے نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے کہا کہ  انتخابات میں تاخیر تو ہو رہی ہے مگر ایسا نہیں ہے کہ مرکزی سرکار جلد انتخابات کے حق میں نہیں ہے۔ انتخابات سے متعلق ضروری لوازمات پورے کرنے کا کام تو زور و شور سے جاری ہے ۔ لہذا ہمیں الیکشن کمیشن کے فیصلے کا انتظار کرنا ہوگا ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: