ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر میں کورونا وائرس کے بڑھتے معاملات کو لے کر گرما گئی سیاست ، اپوزیشن نے کہی یہ بڑی بات

Jammu and Kashmir News : اگر گزشتہ پندرہ دنوں کے گراف پر نظر ڈالیں تو یہاں کووڈ معاملات میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ بلکہ اموات کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ روز اموات کی خبریں موصول ہوتی ہیں ۔

  • Share this:
جموں و کشمیر میں کورونا وائرس کے بڑھتے معاملات کو لے کر گرما گئی سیاست ، اپوزیشن نے کہی یہ بڑی بات
جموں و کشمیر میں کورونا وائرس کے بڑھتے معاملات کو لے کر گرما گئی سیاست ، اپوزیشن نے کہی یہ بڑی بات

جموں و کشمیر: ملک کی دیگر ریاستوں کی طرح جموں و کشمیر میں بھی کورونا وائرس کا نہ تھمنے والا قہر جاری ہے ۔ یہاں روز کووڈ معاملات میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ اگر گزشتہ پندرہ دنوں کے گراف پر نظر ڈالیں تو یہاں کووڈ معاملات میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ بلکہ اموات کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ روز اموات کی خبریں موصول ہوتی ہیں ۔ ظاہری طور پر جب لوگ ہر طرف پریشان نظر آتے ہیں ، تو وہیں کووڈ کے معاملات پر سیاست بھی گرما گئی ہے ۔ اپوزیشن پارٹیاں لگاتار سرکار پر الزام لگا رہی ہیں کہ وہ کووڈ کے وبا کو پھیلنے سے روکنے میں پوری طرح ناکام ہوئی ہے ۔


انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسپتالوں میں اب مریضوں کے لیے بیڈس بھی نہیں ہیں ۔ تاہم اس معاملہ کو لے کر سرکار دعویٰ کررہی ہے کہ یہاں کسی طرح کی کوئی کمی نہیں ہے ، جیسے آکسیجن ، ادویات وافر مقدار میں اسپتالوں میں موجود ہیں ۔ اپوزیشن پارٹیاں یہ بھی الزام لگا رہی ہیں کہ ایل جی سرکار یہاں کی اصلی حقیقت چھپا رہی ہے ۔


جموں و کشمیر کانگریس کے چیف ترجمان رویندر شرما کا کہنا ہے کہ مودی سرکار پورے ملک میں کورونا وائرس کو روکنے میں ناکام رہی ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی سرکار زیادہ مغربی بنگال کے انتخاب میں مصروف رہی ۔ ان کا دھیان اپنی پارٹی کو مضبوط بنانے کی جانب زیادہ رہا ، جس کی وجہ سے یہاں کورونا وائرس کے معاملات زیادہ بڑھے ۔ اسی طرح جموں وکشمیر میں بھی ایل جی سرکار ان کے اشاروں پر ہی کام کر رہی ہے ۔ انہیں لوگوں کی کوئی پروا نہیں ہے ۔


ان کا مزید کہنا ہے کہ اگر ایل جی سرکار پہلے سے ہی موثر اقدامات اٹھاتے تو یہ سنگین صورتحال دیکھنے کو نہ ملتی ۔ گزشتہ سال جب سرکار نے پہلے ہی سخت اقدامات اٹھائے تھے ، تو اس وقت ہر ایک سیاسی پارٹی نے ان کا ساتھ دیا تھا۔ تاہم آج سرکار نے کچھ نہیں سوچا ۔ اگرچہ سرکار نے گیارہ اضلاع میں چار دنوں کا لاک ڈاؤن بھی نافذ کیا ۔ تاہم اس سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے ۔ کیونکہ یہ وبائی بیماری کافی تیزی سے پھیل رہی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیسٹنگ کا عمل بھی بہت ہی سست رفتاری سے چل رہا ہے ۔

اپنی پارٹی کے سینئر لیڈر وکرم ملہوترا کا بھی کہنا ہے کہ سرکار کے دعوؤں اور زمینی سطح کے کاموں میں بہت فرق نظر آتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح لوگوں کی اموات میں بہت تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ، وہ انتہائی تشویشناک ہے۔ یہ اموات اس لئے ہورہی ہیں کیونکہ اسپتالوں میں مریضوں کو ادویات اور بیڈ فراہم نہیں ہورہے ہیں ۔ پی ڈی پی کے لیڈر فردوس ٹاک نے کہا کہ سرکار کو مزید سخت اقدامات اٹھانے چاہئیں ۔ دیوندر سنگھ رانا نے بھی کہا کہ ویکسینیشن کی مہم میں تیزی لانی چاہئے ۔

ادھر بی جے پی نے اپوزیشن کے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے ۔ بی جے پی کے لیڈر کویندر گپتا نے کہا کہ اپوزیشن پارٹیاں صرف غلط بیانی سے کام لے رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت سیاست کا نہیں ، بلکہ سرکار کو تعاون دینے کا ہے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Apr 29, 2021 12:51 AM IST