اپنا ضلع منتخب کریں۔

    کشمیری پنڈتوں کے ٹارگیٹ کلنگ پر سیاست تیز، وادی میں کشمیری پنڈتوں کو نکالنے کیلئے پھر ذمہ دار کون؟

    وادی کشمیر کی اپوزیشن پارٹیوں پر مشتمل اتحاد پی اے جی ڈی اگرچہ اس معاملے پر سرکار کی نکتہ چینی کررہی ہے تاہم یہ اتحاد ان ہلاکتوں کو روکنے کے لئے کچھ ٹھوس اقدامات کرنے کی کوشش نہیں کررہی ہے۔ پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے الزام لگایا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کشمیر پنڈتوں کے نام پر سیاست کرکے اپنا الو سیدھا کر رہی ہے۔

    وادی کشمیر کی اپوزیشن پارٹیوں پر مشتمل اتحاد پی اے جی ڈی اگرچہ اس معاملے پر سرکار کی نکتہ چینی کررہی ہے تاہم یہ اتحاد ان ہلاکتوں کو روکنے کے لئے کچھ ٹھوس اقدامات کرنے کی کوشش نہیں کررہی ہے۔ پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے الزام لگایا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کشمیر پنڈتوں کے نام پر سیاست کرکے اپنا الو سیدھا کر رہی ہے۔

    وادی کشمیر کی اپوزیشن پارٹیوں پر مشتمل اتحاد پی اے جی ڈی اگرچہ اس معاملے پر سرکار کی نکتہ چینی کررہی ہے تاہم یہ اتحاد ان ہلاکتوں کو روکنے کے لئے کچھ ٹھوس اقدامات کرنے کی کوشش نہیں کررہی ہے۔ پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے الزام لگایا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کشمیر پنڈتوں کے نام پر سیاست کرکے اپنا الو سیدھا کر رہی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu and Kashmir, India
    • Share this:
      جموں: لگ بھگ گزشتہ ایک برس سے وادی کشمیر میں کشمیری پنڈتوں کی ٹارگیٹ کلنگ کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد سے اب تک کئی کشمیری پنڈتوں کو دہشت گردوں کے ہاتھوں یا تو ہلاک کیا گیا یا زخمی کیا گیا۔ اس وجہ سے اس برادری میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہوا ہے۔ ٹارگیٹ کلنگ کے واقعات کے چلتے جہاں ایک طرف وادی کشمیر میں مختلف سرکاری محکموں میں تعینات کشمیر پنڈت وادی چھوڑ کر جموں آنے پرمجبور ہوئے وہیں جن کشمیر پنڈتوں نے اُنیس سو نوے میں جموں ہجرت نہ کرکے وادی میں ہی رہنے کوترجیح دینے والے پنڈت خاندان بھی اب مائیگریشن پر مجبور ہوئے ہیں اور گزشتہ چند ماہ کے دوران ایسے کئی کنبے سب کچھ چھوڑ کر وادی سے نکل گئے اور جموں میں عارضی طور پر قیام پزیر ہیں۔ کشمیری پنڈتوں کے اس حالت زار کی کسی کو کوئی فکر نہیں بلکہ سب اپنے اپنے مفادات کے مطابق اس معاملے پر سیاست کر رہے ہیں۔ جہاں ایک طرف اپوزیشن جماعتیں سرکار پر یہ الزام لگارہی ہیں کہ سرکار وادی میں کشمیری پنڈتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکا م ہوئی ہے۔ وہیں بی جے پی کی قیادت والی مرکزی سرکار اپوزیشن جماعتوں خاص کر پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس کو وادی سے کشمیری پنڈتوں کو نکالنے کے لئے ذمہ دارقراردے رہی ہے۔

      وادی کشمیر کی اپوزیشن پارٹیوں پر مشتمل اتحاد پی اے جی ڈی اگرچہ اس معاملے پر سرکار کی نکتہ چینی کررہی ہے تاہم یہ اتحاد ان ہلاکتوں کو روکنے کے لئے کچھ ٹھوس اقدامات کرنے کی کوشش نہیں کررہی ہے۔ پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے الزام لگایا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کشمیر پنڈتوں کے نام پر سیاست کرکے اپنا الو سیدھا کر رہی ہے۔ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ یہ پارٹی مذہبی سیاست کرکے لوگوں کو گمراہ کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جہاں بی جے پی کشمیر پنڈتوں کو وادی میں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوئی ہے وہیں یہ پارٹی پی ایم پیکیج کے ملازمین سے بات نہ کرکے اپنی انا کا اظہار کر رہی ہے جو باعث تشویش ہے۔ ان کاکہنا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ سے پی ایم پیکیج ملازمین جموں میں دھرنا دے کر سرکار سے انکی جانوں کے تحفظ کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن سرکار تس سے مس نہیں ہو رہی ہے۔ ادھر دوسری اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بھی حال ہی میں ایک متنازع بیان دے کر کہا تھا کہ جب تک جموں و کشمیر کو اپنا درجہ واپس نہیں دیا جاتا تب تک کشمیر پنڈت اور گیر ریاستی باشندے وادی کشمیر میں محفوظ نہیں ہیں۔

      چنئی میں بھاری بارش کے سبب نظام زندگی درہم برہم، جھیلوں کا پانی رہائشی علاقوں میں پہنچا


      T20 World Cup: روہت شرما سے لیکر بابر اعظم تک کیلئے ورلڈ کپ قبرگاہ ہوا ثابت، لیکن بٹلر۔۔۔


      ان کا کہنا تھا کہ سرکار کے غلط فیصلوں کا ہی نتیجہ ہے کہ کشمیری پنڈتوں کی ٹارگیٹ کلنگ ہو رہی ہے جس سے فوری طور روکنے کی ضرورت ہے۔ عوامی نیشنل کانفرنس بھی یہ الزام لگارہی ہے کہ بی جئے پی وادی میں حالات ٹھیک ہونے کے جھوٹے دعوے کررہی ہے۔ پارٹی کے نائیب صدر مُظفر شاہ کاکہنا ہے کہ سرکار وادی میں غیر مسلم لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنانے میں ناکام رہی ہے ۔جموں و کشمیر اپنی پارٹی بھی سرکار کو کشمیری پنڈتوں کی ٹارگیٹ کلنگ پر کافی برہم ہے۔ پارٹی کے صدر الطاف بُخاری کا کہنا ہے کہ سرکار کو یہ ہلاکتیں روکنے کے لئے سخت اقدامات اٹھانے چاہئیں۔کانگریس پارٹی بھی اس معاملے پر سرکار کو گھیر رہی ہے ۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اس سب کے لئے بی جے پی کی پالسیاں زمہ دار ہیں۔ وادی کشمیر کی اکثریتی برادری اگرچہ پنڈتوں کی ہلاکتوں کی مذمت کررہی ہے تاہم کھلے طور پر ان ہلاکتوں کے خلاف سامنے نہیں آتی جس وجہ سے اقلیتی برادری کے لوگوں میں تشویش پائی جارہی ہے۔

      ادھر کشمیری مائیگرنٹوں کی مختلف تنظمیں بھی سرکار کے رویے پر نالاں ہیں اور انکا کہنا ہے کہ موجودہ سرکار اس طبقے کو نظر انداز کرکے وادی میں حالات بہتر ہونے کے دعوے کر رہی ہے لیکن کشمیری پنڈتوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے اور اس کو روکنے کے لئے کوئی خاص قدم نہیں اٹھایا جارہا ہے۔ آل انڈیا کشمیری یوتھ سماج کے صدر آر کے بٹ نے کہا ہے کہ سرکار کشمیری پنڈتوں کو اعتماد میں نہیں لے رہی ہے ۔ آر کے بٹ نے کہا ہے کہ سرکار کو ایک ہی بار کشمیری پنڈتوں کی وادی میں باز آبادکاری کے لئے ایک مربوط پلان مرتب کرکے اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ کشمیری پنڈت وادی میں محفوظ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکار کو کشمیری پنڈتوں کا درد سمجھنا چاہئے۔

       

      وادی میں کام کر رہے پی ایم پیکیج کے ملازمین بھی گزشتہ چھ ماہ سے جموں کے ریلیف کمیشنر کے دفتر کے سامنے دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں انکا یہ مطالبہ ہے کہ جب تک وادی میں حالات بہتر نہ ہوں انہیں جموں میں تعینات کیا جائے لیکن بدقسمتی کی وجہ سے سرکار چُپی سادھی ہوئی ہے اور ان لوگوں سے کوئی بھی بات نہیں کرتی جس سے انکی پریشانیوں کا ازالہ ہوتا۔ واضح رہے وادی کشمیر میں اقلیتی طبقے کے لوگوں کی ٹارگیٹ کلنگ کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے اور کل بھی اننت ناگ کے بجبہاڑہ علاقے میں دو غیر ریاستی مزدوروں کو دہشت گردوں نے اپنی گولی کا نشانہ بنایا ۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: