உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وادی کشمیر میں برفباری کا مثبت پہلو، بچے اور نوجوانوں نے برف سے تراشے مجسمے

    وادی کشمیر میں برفباری کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ یہاں بچے اور نوجوان برف سے مختلف قسم کے فن پارے تیار کرتے ہیں۔مختلف مقامات پر بچے ،نوجوان برف سے مجسمے تراش کر ایک نئی دنیا تخلیق کررہے ہیں ۔ 

    وادی کشمیر میں برفباری کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ یہاں بچے اور نوجوان برف سے مختلف قسم کے فن پارے تیار کرتے ہیں۔مختلف مقامات پر بچے ،نوجوان برف سے مجسمے تراش کر ایک نئی دنیا تخلیق کررہے ہیں ۔ 

    وادی کشمیر میں برفباری کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ یہاں بچے اور نوجوان برف سے مختلف قسم کے فن پارے تیار کرتے ہیں۔مختلف مقامات پر بچے ،نوجوان برف سے مجسمے تراش کر ایک نئی دنیا تخلیق کررہے ہیں ۔ 

    • Share this:
    وادی کشمیر میں برفباری کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ یہاں بچے اور نوجوان برف سے مختلف قسم کے فن پارے تیار کرتے ہیں۔مختلف مقامات پر بچے ،نوجوان برف سے مجسمے تراش کر ایک نئی دنیا تخلیق کررہے ہیں ۔ وادی کشمیر میں ہنر کی کمی نہیں۔ یہاں چاہے چھوٹا بچہ ہو یا نوجوان لڑکےیا لڑکیاں کوئی نہ کوئی تخلیقی ذہنیت کا مالک ہوتاہے اور نئی تخلیق کی نشانیاں ضرور چھوڑتے ہیں ۔ بات ان فن پاروں کی جو کچھ وقت کے لئے ہی موجود رہتے ہیں جن کے لئے خون جگر صرف کرنا درکار رہتا ہے یعنی وہ برفیلے فن پارے جن کے لئے سوچنا محال ہے۔
    وادی کشمیر میں برف گرتے ہی بچے ،نوجوان برف سے مختلف قسم کے فن پارے تیار کرتے ہیں ۔ان دنوں ہر جگہ چھوٹے بچے ،نوجوان لڑکے اور لڑکیاں برف سے مجسمے تراشنے کی ایک نئی دنیا تخلیق کر رہے ہیں ۔یہ لڑکے طرح طرح کے چیزوں کی عکس بندی کررہے ہیں ۔ سوشل میڈیا پر بھی یہ فن پارے خوب گردش کررہے ہیں۔ قومی و بین الاقوامی سطح کے مشہور آرٹسٹ ظہور الدین لون ، تصدق حسین اور دیگر آرٹسٹ ان دنوں بچوں کو برف سے مجسمہ سازی کرنے کے گر سکھانے میں مصروف ہیں۔
    چھوٹے بچے اور مختلف عمر کے نوجوان خو بصورت برفیلے شاہکار تراشنے میں مصروف ہیں۔ ان بچوں کا کہنا ہے کہ جوں ہی برف گرتی ہے تو وہ پڑھائی کے ساتھ ساتھ برف سے مجسمے تراشتے ہیں ۔یہ ان کا بہت ہی دلچسپ مشغلہ رہتاہے۔ نوجوانوں کا مزید کہناہے کہ وہ موسم سرما میں برف گرنےکے منتظر ہوتے ہیں تاکہ وہ اس آرٹ میں اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھا سکیں۔

    آرٹ اوربرف پر مبنی آرٹ مقامی نوجوان لڑکے اورلڑکیوں کی صلاحیتوں کو ابھارنےاورانہیں کشمیر میں روزگارکے موقع فراہم کرنے کا بہترین ذریعہ بن سکتاہے لیکن کشمیر کی میں برف تراشنے کے ہتھیار دستیاب نہیں ہے سرکار کوچاہےکہ برف ترشنانے کے تمام ساز ساماں کو فراہم کیاجائے۔ امید یہی ہے کہ برف کے آرٹ میں بچوں اور نوجوانوں کی شمولیت سے مکمل طور پر ایک نئی ثقافت تخلیق ہوگی ۔۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: